0
Friday 23 Apr 2021 21:40

شام کی سرزمین میں چھپی چنگاریاں

شام کی سرزمین میں چھپی چنگاریاں
تحریر: سید اسد عباس

روسی وزارت دفاع کے مطابق اس کی فضائی افواج نے شام کے علاقے تدمور میں حکومت مخالف عسکریت پسندوں کے ایک خفیہ اڈے پر حملہ کیا ہے، جس میں زیادہ سے زیادہ 200 عسکریت پسند ہلاک جبکہ 24 بکتر بند گاڑیاں اور اس کے علاوہ 500 کلوگرام گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد بنانے کا سامان تباہ کر دیا گیا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق اس خفیہ مقام کے بارے میں متعدد ذرائع سے معلومات کی جمع آوری کے بعد یہ حملہ انجام دیا گیا۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ اڈہ شام میں مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں کا مرکز تھا اور یہاں دہشت گردوں کو تربیت فراہم کی جاتی تھی۔ اطلاعات کے مطابق یہ دہشت گرد متوقع شامی صدارتی انتخابات میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ شام میں صدارتی انتخابات 26 مئی کو متوقع ہیں جو کہ 2011ء کے واقعات اور طویل خانہ جنگی کے دوران میں دوسرے انتخابات ہیں۔ شام میں انتخابات کو اگر ریفرنڈم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، جس کا سلسلہ حافظ الاسد کے دور حکومت سے جاری ہے۔ شام کے لیے جمہوریت بہتر ہے یا آمریت اس سے قطع نظر ملک میں ہونے والی ایک سیاسی سرگرمی نیز حالات کو معمول پر لانے والے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش متوقع تھی، جسے روسی فضائیہ نے ناکام بنا دیا۔ تدمور میں موجود خفیہ اڈہ التنف کے علاقے میں موجود ہے جسے التنف چھاونی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قصبہ عراقی چھاونی کے قریب واقع ہے اور اس کا انتظام امریکی افواج کے پاس ہے۔

جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کیمپ امریکی آشیرباد سے قائم تھا۔ التنف پر پہلے داعش کا قبضہ تھا جسے 2016ء میں امریکی آشیرباد سے قائم جدید شامی افواج نے آزاد کروایا۔ التنف کی دوسری جانب عراق کی الولید چیک پوسٹ ہے، جو عراق اور شام کے مابین عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کے لیے ایک اہم پوائنٹ ہے۔ عراقی چیک پوسٹ کو بھی 2016ء میں عراقی قبائلی گروہوں نے امریکہ کی حمایت سے آزاد کروایا۔ اس فوجی اڈے میں امریکہ کے علاوہ برطانوی افواج بھی موجود ہیں، جس کی تصاویر 2017ء میں منظر عام پر آئیں۔

اطلاعات کے مطابق التنف کے علاقے میں امریکی فوجی اڈے کے علاوہ مشرقی افواج کے شیر، شہید احمد العبد کی افواج، آزاد قبائل کی فوج، انقلابی کمانڈو آرمی اور القریطین بریگیڈ کے جتھے موجود ہیں، جو شامی حکومت کے مخالف ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ان جتھوں کو فقط داعش کے خلاف حملوں کی اجازت ہے لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔ یہ گروہ روسی اور شامی افواج پر حملوں میں ملوث ہیں، جس پر اظہار خیال کرتے ہوئے روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروہ نے کہا: "امریکی افواج کی شام میں غیر قانونی موجودگی امن کے عمل نیز علاقے کی سالمیت اور اتحاد کے لیے خطرہ ہے۔"

دیکھا جائے تو اس بن بلائے مہمان نے شام کے علاقے پر شامی حکومت کی اجازت کے بغیر قبضہ کر رکھا ہے، امریکہ شامی حکومت کے خاتمے اور اس ملک کے امن کو تہ بالا کرنے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ براہ راست طور پر ملوث ہے۔ افسوس کی بات ہے امریکی افواج اس خطے میں حکومتوں کی اجازت سے موجود ہیں، تاہم شام میں اسے یہ اجازت بھی میسر نہیں بلکہ التنف کی چھاؤنی عالمی قوانین کو پس پشت ڈالتے ہوئے امریکہ نے قائم رکھی ہوئی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف بھی اس مسئلہ پر بات کرچکے ہیں، انھوں نے کہا: "امریکی افواج کی شام میں موجودگی بالخصوص التنف کے علاقے میں ان کی فوجی چھاؤنی غیر قانونی اور ناقابل تحمل ہے۔"

امریکی افواج کے مطابق شام میں ان سپاہیوں کی موجودگی ایرانی اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے ہے۔ حالانکہ یہ بات عیاں ہے کہ ایرانی ہوں یا روسی یہ لوگ شامی حکومت کی اجازت سے شام میں سرگرم عمل ہیں اور امریکہ نیز اس کے اتحادیوں کو ایسی کوئی اجازت حاصل نہیں ہے۔ روس متعدد مقامات پر امریکی فوج کے شام سے انخلاء کا مطالبہ کرچکا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکی افواج اس علاقے میں خاموشی سے نہیں بیٹھی ہوئی ہیں، گذشتہ دنوں انھوں نے شامی افواج اور ان کے حامی گروہوں کے ایک مرکز پر حملہ کیا۔

میری نظر میں روس کی جانب سے التنف کے علاقے تدمور پر امریکی آشیرباد سے کام کرنے والے عسکری گروہ پر حملہ اسی حملے کا جواب ہے۔ اس حملے کے ذریعے امریکہ کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اسے شامی حکومت کی حدود کا احترام کرنا ہے۔ روسی وزارت دفاع چند روز قبل ہی اس بات کا عندیہ دے چکی ہے کہ ہمیں امریکی افواج کی شام میں سرگرمیوں کے حوالے سے تشویش ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ جب تک امریکہ شام میں موجود ہے، اس ملک میں حقیقی امن قائم نہیں ہوسکتا۔
خبر کا کوڈ : 928869
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش