1
Wednesday 28 Apr 2021 18:21

غزہ سے قدس شریف تک سراپا مزاحمت

غزہ سے قدس شریف تک سراپا مزاحمت
تحریر: اسراء البحیصی
 
غزہ سے لے کر باب العامود تک اس جدوجہد کی داستان سنائی دیتی ہے جس نے پورے فلسطین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ فلسطین کا تیزی سے دھڑکتا ہوا دل ہے جو قدس شریف سے خوداعتمادی اور عزت نفس کا جذبہ سرزمین فلسطین کی تمام رگوں تک پہنچاتا ہے اور یوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی "لیلۃ الاسراء" اور فلسطین کے اسلامی تشخص کے دفاع کی خاطر تمام فلسطینیوں کو اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتے ہوئے انہیں بیت المقدس کے گلی کوچوں میں کھینچ لاتا ہے۔ جیسے ہی اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم نے قدس شریف میں مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و ستم شروع کیا، غزہ کی پٹی سے اس پر میزائلوں اور راکٹوں کی بارش شروع ہو گئی۔
 
غزہ نے اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ ممکن ہے غاصب صہیونی رژیم سے ایک اور جنگ کا شکار ہو جائے، قدس شریف میں اپنے بھائیوں کی آواز پر لبیک کہہ ڈالی۔ غاصب صہیونی رژیم عام طور پر جب بھی ملک کے اندر شدید ناکامیوں اور شکست سے روبرو ہوتی ہے تو غزہ میں خون کی ہولی کھیلنا شروع کر دیتی ہے۔ ایک وقت وہ تھا جب قدس شریف کے فلسطینی باشندے فولادی رکاوٹیں قائم کر کے غاصب صہیونی رژیم کو اپنے جائز اور قانونی مطالبات ماننے پر مجبور کرتے تھے، اور غاصب صہیونی رژیم قدس شریف میں اپنی اس شکست کا بدلہ لینے کیلئے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کیلئے ماہی گیری کرنے والے غزہ کے باشندوں کو سمندر میں آنے سے روک دیتے تھے۔
 
اس ظلم و ستم کے باوجود نہ تو غزہ نے غاصب صہیونی رژیم کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور نہ ہی مغربی کنارہ سکون سے بیٹھا۔ یوں فلسطینیوں کی جانب سے سفید جھنڈا لہرانے کی آرزو بعض عرب حکمرانوں اور بنجمن نیتن یاہو کے دل میں باقی رہ گئی۔ غاصب صہیونی حکام کے ساتھ سازباز کی ذلت قبول کرنے والے یہ عرب حکمران اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ وہ صہیونی رژیم کو قدس شریف بیچنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ بالکل بالفور معاہدے کی طرح جس میں ایسے افراد نے جو مالک نہیں تھے فلسطینی سرزمین ایسی قوتوں کو بخش دی جنہیں اس سرزمین پر کوئی حق حاصل نہ تھا۔ عرب حکمران اس حقیقت سے غافل ہیں کہ اب بالفور کا زمانہ گزر چکا ہے بلکہ آج ایسا دور ہے جس میں فلسطینی خود میزائل تیار کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
 
آج کا دور ایسا دور ہے جس میں بیت المقدس کے مسلمان فلسطینی باشندوں نے اپنے گوشت اور خون کو مسجد الاقصی کے دروازوں کی ڈھال بنا رکھا ہے۔ آج مظلوم فلسطینی قوم دوسروں کے جھوٹے وعدوں کے فریب اور دھوکے میں آنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ سازباز کرنے والے عرب حکمران سب سے زیادہ قدس شریف میں رونما ہونے والے واقعات سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ وہ خود سے پوچھ رہے ہیں کہ ان ڈٹے ہوئے بہادر فلسطینیوں کی ہمت کیسے توڑ سکتے ہیں؟ وہ فلسطینی جنہوں نے ان کی غداری اور سازباز کو ذرہ برابر اہمیت نہیں دی۔ بالکل ایسے ہی جیسے غاصب صہیونی فوجیوں کی فائرنگ کیلئے تیار بندوقوں نے فلسطینیوں کے پختہ عزم اور ارادے میں ذرہ برابر خلل ایجاد نہیں کیا۔
 
قدس شریف میں رونما ہونے والے واقعات نے ایک طرف غاصب صہیونی حکمرانوں اور صہیونی بستیوں کے مکینوں کیلئے نہ بھولنے والا سبق فراہم کیا تو دوسری طرف سازباز کرنے والے ان عرب حکمرانوں کو استقامت اور مزاحمت کا پیغام دیا جو اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ وہ سازباز کے ذریعے فلسطینیوں کی رگوں میں انقلاب کا خون خشک کر سکتے ہیں۔ یہ عرب حکمران سوچ رہے تھے آج فلسطین تنہا رہ گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین آج عروج پر ہے کیونکہ سازباز کرنے والے غدار عرب حکمرانوں کے چہرے سے نقاب اتر چکی ہے اور ان کے اصلی چہرے سامنے آ چکے ہیں اور اب کوئی ان کے دھوکے کا شکار نہیں ہوتا۔ ان عرب حکمرانوں نے یہ ظاہر کر رکھا تھا کہ وہ قدس کی مالی مدد کر رہے ہیں جبکہ درپردہ اسے بیچنے میں مصروف تھے۔
 
غزہ میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ نے غاصب صہیونی رژیم کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے قدس شریف کے خلاف دشمنانہ اقدامات جاری رکھے تو ہم اسے چین اور سکون سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ اسماعیل ھنیہ نے فلسطینیوں اور صہیونیوں کے درمیان جاری تنازعہ کو قدس شریف کے تشخص کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا: "ہمیں اس وقت سینچری ڈیل نامی منصوبے کی شقوں کا سامنا ہے۔ یہ ایسا منصوبہ ہے جس کا مقصد مسئلہ فلسطین کی نابودی اور قدس شریف کو غاصب صہیونی رژیم کے دارالحکومت کے طور پر متعارف کروانا ہے۔ یہ معاہدہ غاصب صہیونی حکام کو مسجد الاقصی اور دیگر اسلامی مقدسات کے خلاف توہین آمیز اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "قدس کی جنگ ہم سب کی جنگ ہے اور قدس شریف صرف فلسطینیوں کا نہیں۔"
خبر کا کوڈ : 929701
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش