1
Thursday 29 Apr 2021 21:30

شہید امجد صابری

شہید امجد صابری
تحریر: سویرا بتول

جیسے ہی ماہ صیام کا آغاز ہوتا ہے، ہر شخص اپنے انداز میں خانوادہ رسالت کے مناقب و فضائل کو بیان کرتا ہے۔ ہر انسان خانوادہ عصمت و طہارت سے اپنی عقیدت و احترام کا اظہار اپنے مخصوص انداز میں کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں کہ ایک شہرہ آفاق کلام "اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا" تقریباً ہر گھر میں سنا جاتا ہے۔ یہ کلام آج ایک ایسی شخصیت سے مختص ہوگیا ہے، جسے ہم سے بچھڑے پانچ برس بیت گۓ ہیں، مگر یوں لگتا ہے جیسے ابھی کسی گوشے سے اپنے مخصوص شیریں انداز میں، چہرے پہ مسکان سجائے علیؑ علیؑ کرتے آئیں گے اور بارگاہِ رسالت میں نذرانہ عقیدت پیش کریں گے۔ شہید امجد صابری ایسی درویش صفت شخصیت کہ جس کا خاصہ عشقِ آلِ رسول تھا اور شاید آلِ محمد سے عشق کی بناء پر ہی محبتیں بانٹنے والے اس انسان کو چند مذہبی انتہاء پسندوں نے ہمیشہ کے لیے خاموش کرنا چاہا۔

شہید امجد صابری کو 22 جون 2016ء کو دو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے لیاقت آباد ٹاؤن میں اُن کی کار پر فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ اس قاتلانہ حملے میں ایک گولی ان سر اور ایک کان پر لگی تھی۔ اس کے بعد ان کی گاڑی میں سوار دیگر افراد کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں شہید امجد صابری اپنے لاکھوں مداحوں کو روتا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ شہید کا قتل ایک سرنگ کے قریب ہوا، جو ان کے والد، غلام فرید صابری کے نام پر تھی۔ شہید امجد صابری کو پاپوشنگر قبرستان میں اپنے والد کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

پوری دنیا میں اسلام کے اصل تشخص کو اجاگر کرنے میں شہید امجد صابری نے گراں خدمات انجام دی۔ شہید امجد صابری نے نعتیں، قوالیاں اور منقبت پڑھ کر ملک اور بیرونِ‌ ملک اپنی آواز اور انداز سے پہچان بنائی۔ ان کا تعلق مشہور قوال گھرانے سے تھا، وہ مشہور قوال غلام فرید صابری کے بیٹے اور مقبول صابری کے بھتیجے تھے، جنھوں نے صابری برادران کے نام سے شہرت حاصل کی اور قوالی کے فن میں ممتاز ہوئے۔ امجد صابری نے بھی والد سے فنِ قوالی کی تربیت حاصل کی اور کم عمری میں محافل میں کلام سنانا شروع کر دیا۔ انھوں نے نوجوان نسل میں قوالی کا شوق پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

امجد صابری نے نئی قوالیوں اور عارفانہ کلام کو عوام کے سامنے پیش کیا، جنھیں خوب پذیرائی ملی، لیکن صابری برادران کی معروف قوالیوں کو اپنے انداز میں پیش کیا تو انھیں دنیا بھر میں شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان میں "تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم"، "بھر دو جھولی مری" اور "میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا" اور "علیؑ  کے ساتھ ہے زہراؑ کی شادی" جیسی قوالیاں شامل ہیں۔ امجد صابری نے 1998ء میں فنی سفر کا آغاز کیا۔ انھوں نے پاکستان، لندن، کینیڈا، امریکا کے کئی شہروں اور بھارت میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور پوری دنیا کو محمدﷺ و آلِ محمد کے کلام سے متعارف کروایا۔

شہر کراچی کی سرزمین کس قدر سرخ ہے کہ جہاں ہزاروں لوگ فقط حبِ آلِ رسول کی بناء پر موت کے گھاٹ اتارے گئے۔ تکفیریت ایک شجرہ خبیثہ ہے، جو آج تک اپنے منحوس اثرات کے ساتھ زندہ ہے اور ایسے عناصر کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ خون کی اس ہولی کو دیکھ کر حبیب جالب کا شعر اکثر یاد آتا ہے:
حسرت سی ٹپکتی ہے در و بام پہ ہر سو
روتی ہوئی گلیاں ہیں سسکتے ہوئے گھر ہیں
آۓ تھے یہاں جن کے تصور کے سہارے
وہ چاند وہ سورج وہ شب و روز کدھر ہیں؟


شہید کے حوالے سے مشہور اینکر پرسن بلال قطب کا مشہور جملہ ملتا ہے، صابری اللہ کا ایسا ولی تھا، جس نے اپنے پاس نہ پیسہ رکھا اور نہ کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات کی۔ اپنی زندگی میں جو محبت پائی، وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور اہل بیت علہیم سلام کی محبت سے پائی۔ تکفیری سوچ سمجھتی تھی کہ اُس نے محبتیں بانٹنے والے اس درویش صفت انسان کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا، مگر وہ ناداں جانتے نہ تھے کہ اُس سبز گنبدﷺ والے نے اِس عظیم شہید کو آج تک لاکھوں دلوں میں زندہ رکھا ہے اور جب جب یہ کلام سنا جائے گا، شہید کے توسل سے ہزاروں لوگ بروزِ حشر شافعی محشر کی شفاعت کے منتظر ہوں گے اور شہید اپنے ہاتھوں سے چن چن کر عاشقان آلِ رسول کی شفاعت کریں۔
خبر کا کوڈ : 929893
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش