1
Friday 30 Apr 2021 12:06

عصری مظلومیت اور اسوہ علی(ع)

عصری مظلومیت اور اسوہ علی(ع)
تحریر: شاہد عباس ہادی

یہ دنیا ایک ایسا گھر ہے جو بلاؤں میں گھرا ہوا ہے، فریب کاریوں میں شہرت یافتہ ہے، اس کے حالات کبھی یکساں نہیں رہتے اور نہ اس میں رہنے والے صحیح و سالم رہ سکتے ہیں۔ کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیا کی بڑی بڑی آرزؤوں تک پہنچے؟ کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے بڑے بڑے محلات تعمیر کروائے؟ کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنی جنت خود تیار کی؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیا کی خاطر خالق دنیا کے مقابل آگئے۔؟ وہ تمام لوگ اس دنیا میں مٹی ہوگئے، ان کا نام و نشان نہیں رہا۔ ایسے دور میں ایک شخصیت ایسی بھی گزری ہے، جنہوں نے دنیا کو ذلیل و رسوا کر دیا، دنیا کا غرور و تکبر خاک میں ملا دیا، دنیا کو مخاطب ہوکر کہا، اے دنیا! دور ہو جا مجھ سے، کیا میرے سامنے خود کو لاتی ہے! جا میرے علاوہ کسی اور کو دھوکہ دے، مجھے تیری ضرورت نہیں ہے، میں تجھے تین بار طلاق دے چکا ہوں، جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں (حکمت۷۷)۔

سجی سنوری اور فریب خوردہ دنیا سے اس طرح برائت کرنا اور تین طلاقیں دے کر اپنے سے جدا کر دینا صرف اور صرف اسی کا کارنامہ ہوسکتا ہے، جس نے راہ خدا  میں اپنے نفس کو بیچ کر آزادی خرید لی ہو، یقیناً ایسی شخصیات کمالات کا مظہر ہوتی ہیں۔ مولا علی علیہ السلام کی شخصیت فضائل و کمالات کا ایسا بیکراں سمندر ہے، جس میں انسان جتنا غوطہ لگاتا جائے گا، اتنا زیادہ فضائل کے موتی حاصل کرتا جائے گا، یہ ایسا سمندر ہے، جس کی تہہ تک پہنچنا ناممکن ہے، علی (ع) کو خدا اور نبی (ص) کے علاوہ کسی نے نہ پہچانا اور نہ پہچان پائے گا۔ انسان کمال سے محبت کرتا ہے، پیغمبر اکرم (ص) جو خود کمال کی آخرین سطح پر ہیں، وہ بھی مولا علی علیہ السلام سے عشق و محبت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

وہ شخصیت کیسی تھی، جس کی محبت میں لوگوں نے مصیبتیں برداشت کیں، سر کٹوا دیئے مگر محبت کی آگ ٹھنڈی نہ ہونے دی، وہ کیسی ہستی ہیں، جن کیلئے آج بھی ہزاروں دل دھڑک رہے ہیں، جن کیلئے آج بھی ہزاروں جانیں قربان ہونے کو تیار ہیں، نہیں معلوم وہ کون ہیں، کیا کہتے ہیں اور ہم سے کیا چاہتے ہیں۔؟ وہی علی علیہ السلام جن کی پوری زندگی خالص خدا تعالیٰ کی رضا میں گزری، وہ لب کشائی کرتے تو خدا کیلئے، وہ قدم بڑھاتے تو خدا کیلئے، وہ تلوار چلاتے تو خدا کیلئے، وہ خاموشی اختیار کرتے تو خدا کیلئے، پیغمبر اکرم صلی الله عليه وآله وسلم کے حضور جنگ لڑتے تو خدا کیلئے، امیر شام سے پنجہ آزمائی کرتے تو خدا کیلئے۔ غرضیکہ پوری زندگی خدا کی رضا میں وقف کر دی۔

مگر ایک دن یہی علی رات کی تاریکی میں صحراؤں کے پاس جاتے، کنوئیں میں چیخ چیخ کر روتے اور درد دل سناتے، ان کی تنہائی کا یہ پہلو کس قدر گہرا اور عمیق ہے، اس تنہائی کو ہم کیسے محسوس کریں، آخر یہ کونسی تنہائی تھی؟ آخر یہ کونسا غم تھا؟ آخر یہ کونسا درد دل تھا؟ ہم اس درد دل کو کیوں نہیں جان پاتے۔؟ یہ شخصیت ظلم سے برسرپیکار ہوکر جان لڑا دیتی، یہ شخصیت مظلومین کی پکار پر تڑپ جاتی، یہ شخصیت عدل و انصاف چاہتی، یہ شخصیت اسلامی اقدار کا احیاء کرتی، یہ شخصیت اپنوں کی جدائی پر گریہ کنا ہوتی، اس شخصیت نے اسلام کی ایسی تربیت کی کہ دین میں مالک اشتر، سلیمان، مقداد، ابوذر جیسے جانباز نظر آئے جنہوں نے دین کی اپنے خون سے آبیاری کی۔ ان میں مظلومیت کا درد اس قدر بھرا کہ ہر فرعونیت کے خلاف جان کی بازی لگا دی، ہر ظلم کے سر کو کچل دیا۔

ہاں! میرے مولا اس تنہائی پر روتے، گریہ کرتے، تڑپ جاتے، جب مظلومیت کی آواز پر لبیک کہنے والے نہ رہے، جب مالک اشتر جدا ہوگئے، جب سلیمان، مقداد، ابوذر چلے گئے، آج وہی حالات ہیں، مظلومیت پکار رہی ہے، بچوں کی چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے، جو آج بھی اپنے بابا کے منتظر ہیں؟ ماؤں کی صدائیں آج بھی اپنے بیٹوں کی بے گناہی پر عدل و انصاف کی متلاشی ہیں؟ انسانیت لہولہان ہو رہی ہے، فلسطین و یمن میں بچوں اور عورتوں کو قتل کیا جا رہا ہے، امریکہ و اسرائیل جیسے خطرناک بتوں کی پوجا کرکے بےگناہوں کو خون کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے، اس ظلم پر آواز بلند کرنے والوں کو اٹھایا جا رہا ہے، علی علی کرنے والے کہاں ہیں؟ مظلومیت علی کا نعرہ بلند کرنے والے کہاں ہیں؟ آج مظلومیت انہیں بلا رہی ہے، خدارا اس درد کو سمجھیں! ایک مظلوم ماں کی چیخ و پکار پر مر مٹنے کا مقام ہے، کاش ہم نے شخصیت علی علیہ السلام میں مظلومیت کا درد سمجھا ہوتا، تو ہم میں مالک اشتر نظر آتے، سلیمان و ابوذر نظر آتے، مقداد و عمار یاسر نظر آتے۔
خبر کا کوڈ : 930004
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش