0
Saturday 1 May 2021 04:09

لہجہ میں تبدیلی

لہجہ میں تبدیلی
اداریہ
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے العربیہ ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے اور ریاض تہران کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ بن سلمان کے اس بیان پر خطے اور خطے سے باہر مختلف طرح کے مواقف سامنے آرہے ہیں، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسے رویئے کی تبدیلی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران سعودی عرب کے لہجے میں اس تبدیلی کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ عالم اسلام  کے یہ دو اہم ممالک (ایران اور سعودی عرب) باہمی اختلافات کو دور کرکے، خطے میں امن و استحکام  اور ترقی کی غرض سے ایک دوسرے کے ساتھ روابط اور تعاون کے نئے باب کا آغاز کرسکتے ہیں۔

بن سلمان کے اس یوٹرن کو مجبوری کہیں، اسٹریٹجی کہیں یا نئی ٹیکنیک۔ بن سلمان نے گذشتہ چند برسوں میں سعودی خارجہ سیاست کو ٹی ٹونٹی میچ کی طرز پر چلایا ہے۔ یمن پر حملہ، قطر سے کشیدگی، متحدہ عرب امارات کو دھونس دھمکی، اردن کے بادشاہ سے مخاصمت اور سب سے بڑھ کر ایران اور مقاومت کے بلاک سے براہ راست ٹکر کے لئے شام، لبنان اور عراق میں داعش کی بالواسطہ اور بلاواسطہ حمایت۔ بن سلمان نے اتنے محاذ ٹرمپ اور اس کے داماد کشنر کی امید اور بھروسے پر کھولے تھے اور اب وائٹ ہاوس کے نئے مکین بن سلمان سے براہ راست ملاقات کے لئے بھی تیار نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بن سلمان اپنی علاقائی خارجہ پالیسی میں تبدیل لا کر امریکی صدر کو فیصلہ کن پیغام دینا چاہتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 930114
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش