0
Saturday 1 May 2021 11:36

یمن، اہل ایمان کا علاقہ

یمن، اہل ایمان کا علاقہ
تحریر: سعید علی پٹھان

میں نے 15 دسمبر 2007ء کو زندگی کا پہلا بیرونی سفر کیا تھا۔ میں کوہاٹ کے جابلو علاقے میں او جی ڈی سی کے میلہ 2 تیل کے کنوئے پر ڈیوٹی دیتا تھا کہ یمن کی تیل اور گیس ڈھونڈنے والی کمپنی نے مجھے کام کیلئے ہائر کیا۔ اسلام آباد ایئرپورٹ سے بحرین اور بحرین سے ہوتا ہوا صنعا پہنچا تھا۔ صنعا میں ہماری کمپنی کا دفتر فج عطان کے علاقے میں تھا۔ ایئرپورٹ پر لینے کیلئے کمپنی سیکرٹری میڈم صعاد کے شوہر احمد العریس موجود تھے۔ صنعا میں کچھ دن گذارنے کے بعد میری جاب جنوبی یمن کے علاقے حضرموت میں تھی۔ صنعا میں لوگون کو دیکھا تو ان میں سے اکثریت منہ میں کاٹ رکھتے ہیں، جو کہ ایک نباتات ہے، جس سے ان کو تسکین ملتی ہے، وہ ان کا ثقافتی رواج ہے۔ چار سال جمہوریہ یمن میں کام کیا۔ میں نے یمن میں معیاری وقت گزارا، جب یمن متحد تھا۔ صنعا میں سارے یمن کے لوگ بستے ہیں، کیونکہ یہاں کا موسم معتدل ہے اور گرمی کم ہوتی ہے۔ جس طرح ہمارے ملک میں شمالی علاقے ٹھنڈے ہیں، اس طرح شمالی یمن بھی ٹھنڈا ہے۔

یمن کی آبادی تین کروڑ ہے۔ یمن کا جغرافیایہ اس طرح ہے کہ اس کے شمال میں سعودی عرب جبکہ شمال مشرق میں اومان ہے۔ یمنی کہتے ہیں کہ سلالہ کا علاقہ یمن کا حصہ ہے جبکہ سعودی عرب نے بھی ان کے علاقہ نجران پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ یمن کی سب سے بڑی سرحد سعودی عرب سے لگتی ہے۔ مغرب میں بحیرہ احمر (ریڈ سی) ہے. تنگہ باب المندب گلف آف عدن کو افریقا سے ملاتا ہے۔ یمن کی ساحلی حدود صومالیہ، ڈیجوبوتی اور ایریٹریا سے لگتی ہے۔ یمن کے علاقہ طیبہ میں دائودی بوہرہ مسلمانوں مقدس جگہ ہے، جہاں وہ زیارت کیلئے جاتے ہیں۔ یمن کی آبادی میں میں 90 فیصد عرب، 3 فیصد عرب افریقن، 3 فیصد صومالی، ایک فیصد بھارت اور پاکستان کے باسی بستے ہیں۔ عدن کے علاقہ میں خوجہ شیعہ اثناء عشری کاروبار کرتے ہیں، جن کو یمن کی داخلی جنگ کی وجہ سے ہجرت کرنی پڑی، مگر اب وہ پھر سے عدن میں مقیم ہوچکے ہیں۔ شمالی یمن کا جو علاقہ حوثیوں کے کنٹرول میں ہے، وہ یمن کی زمین کا بھی 70 فیصد ہے اور آبادی کا 70 فیصد بھی وہیں بستا ہے۔

یمن بنیادی طور پر دو اہم اسلامی مذہبی گروہوں پر مشتمل ہے: مسلم آبادی کا 65٪ سنی اور 34.5٪ شیعہ ہے۔ میں نے ان میں کبھی تفریق نہیں دیکھی۔ بنیادی طور پر بغیر کسی فرق کے دعا کرتے ہیں۔ کوئی شیعہ یا سنی مسجد نہیں۔ صوبہ حضرموت کا دارالخلافہ سیئون ہے، جہاں پر ہم نے قیام کرنا ہوتا تھا۔ وہاں پر میں نے کچھ دکانوں پر سید حسن نصراللہ کی تصاویر دیکھی تھیں۔ شبوہ وادی حضرموت کا علاقہ ہے مگر بہت گرم ہے۔ یہان پر انڈونیشین دین کی تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ شمالی یمن اور جنوبی یمن جمہوریہ یمن کے بینر تلے متحد ہوئے تھے۔ اتحاد سے قبل ملک دو حصوں میں شمالی یمن اور جنوبی یمن میں تقسیم تھا۔ شمالی یمن کا دارالحکومت صنعا اور جنوبی یمن کا درالحکومت عدن تھا۔ میں نے کہیں لاڑکانہ کو بطور ایڈن سندھ پڑھا تھا۔
اب ایک دن یمن کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ شمالی یمن میں 36 سال کے نوجوان حوصلہ افزائی والے صدر اور عبدالمالک اے حوثی کے قریبی رہنماء فیلڈ مارشل مہدی المشاہت صدر ہیں، جس نے صالح علی الصمد کی شہادت کے بعد ذمہ داری سنبھالی تھی۔

الجیریا میں عرب بھار کے بعد جیسے الجیریا، مصر، لیبیا میں تبدیلیاں آئیں، وہیں پر یمن میں بھی اونٹ نے کروٹ بدلی۔ متحدہ یمن میں 1990ء سے 2012ء تک یمن پر علی عبداللہ صالح کی حکومت کا اختتام ہوا اور اقتدا عبدالمنصور الھادی کے حوالے ہوا، جس کا تعلق جنوبی یمن سے تھا، مگر اس کی حکومت کو سعودی عرب اور عرب امارات سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔علی عبداللہ الصالح نے اقتدار سے سبکدوشی کے بعد حوثیوں کی تحریک انصاراللہ سے ہاتھ ملا کر شمالی یمن میں 2015ء میں صدارتی محل پر قبضہ کرلیا تو عبدالمنصور الھادی کو شمالی یمن چھوڑنا پڑا۔ علی عبدااللہ صالح اور حوثیوں کا اتحاد دسمبر 2017ء تک چل سکا، اس کے بعد علی عبداللہ صالح نے حوثیوں کو بائی پاس کرتے ہوئے سعودی عرب سے اندرونی معاملات بناتے ہوئے حوثیوں سے ملک چھڑانے کا منصوبہ بنایا۔ 4 دسمبر 2017 کو علی عبداللہ الصالح مارب جاتے ہوئے حملہ میں مارا گیا اور اس کے قتل کی وڈیو بھی وائرل ہوئی تھی اور اس کے بعد اس کی لاش کو گمنام جگہ پر دفن کیا گیا۔ 1990ء سے 2012ء تک یمن کا صدر رہنے والا شخص علی عبدااللہ الصالح، دسمبر 2017ء تک زندہ رہا اور اپنی منافقانہ سیاست کے باعث مارا گیا۔

اب شمالی یمن میں انصار اللہ کی ایک عوام دوست حکومت ہے۔ انصار اللہ تحریک کا نعرہ قرآن مجید کی سورہ صف کی آخری آیت سے لیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ "ایمان والو اللہ کے مددگار بن جاؤ۔" انصاراللہ تحریک کا آغاز یمن کی ایک گورنوریٹ صعدہ سے ہوا۔ جہاں پر انہوں نے زیدی شیعوں پر علمی اور تبلیغی کام کا آغاز کرتے ہوئے اپنے علاقے میں لبنان کی اسلامی تحریک حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ اور لبنان کے مجتھد سید محمد حسین فضل اللہ کی تعلیمات کو عام کرنا شروع کیا۔ انصاراللہ کی ابتدائی تحریک میں علی عبداللہ الصالح جس کیلئے یمنی کہتے ہیں کہ وہ بھی زیدی تھا، اس نے خاموشی اختیار کی۔ مگر جیسے انصاراللہ صعدہ اور الجوف میں مضبوط ہوئی تو علی عبداللہ الصالح نے ان پر فوج کشی کی، جس میں یمنی پارلیمنٹ کا ممبر اور عبدالمالک الحوثی کا بڑا بھائی محمد حسین الحوثی اور کافی دیگر حوثی شہید ہوگئے۔

حضرت سلیمان کی حکومت میں مارب کا علاقہ جس پر حضرت بلقیس کی حکومت تھی، جس کا واقعہ قرآن مجید میں موجود ہے۔ مارب ڈیم کے ٹوٹنے کے بعد عرب دنیا میں پہلے یمنی خود کو اصل عرب کہتے ہیں۔ سید زکی الباقری کا کہنا ہے کہ الہیٰ نظام میں ایک پرندہ بھی غائب ہو تو اس کے بارے میں سوالات ہونگے کہ وہ چیز خیریت سے ہے یا نہیں۔ عرب لیگ کے کل ممبران کی تعداد 22 ہے اور 5 ممالک جن میں بھارت بھی شامل ہے، ان کو مبصر کا درجہ حاصل ہے، یمن بھی عرب لیگ کا ممبر ہے، مگر اس کو 7 رکنی دولتمند خلیج رابطہ کونسل کی ممبر شپ نہیں دی گئی۔ یمن ایک غریب ملک ہے مگر اس کے لوگوں کے دل کشادہ دل ہیں۔ تاریخی طور پر یمن کیلئے ملتا ہے کہ "یمن نے بغیر جنگ کے امام علی (ع) کی دعوت پر اسلام قبول کیا۔"
رسول اکرم نے ایمان یمانی کو پسند کیا تھا، انہوں نے رسول اکرم (ص) کو دیکھے بغیر ان کے کردار سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا تھا۔

رسول اکرم کی حدیث کا ایک جملہ ہے کہ سب سے اچھے مرد یمن کے مرد ہیں، عقیدہ یمنی ہے اور میں یمنی ہوں۔ یمن کے لوگ آپ پر چڑھتے ہوئے ایسے ہیں جیسے وہ بادل ہیں۔ وہ زمین پر بہترین (لوگ) ہیں۔ سب سے خوبصورت حاجی اہل یمن کے ہیں۔ اس خطے کے لوگ بہت مہربان، مذہبی اور نرم مزاج ہیں۔ اب بھی یمنی معاشرہ ایک قبائلی سوسائٹی ہے، مگر لوگ نماز میں ہاتھ کھول کر یا ہاتھ باندہ کر پڑھنے پر لڑتے نہیں۔ فرقہ واریت کا کوئی نام و نشان نہیں۔ ان کو پتہ ہے کہ رسول اکرم نے ہاتھ کھول کر بھی نماز پڑھی ہے تو ہاتھ باندہ کر بھی پڑھی ہے۔ سید زکی الباقری نے عربوں کا کیا خاکہ کھینچا ہے کہ "یہ عرب بکے ہوئے عرب پہلے سے تمہارے تھے، آج صرف پردہ ہٹا ہے۔ یہ غربال ہوا ہے، امام کی طرف سے۔ اب سارے مسلمانوں کیلئے کھلے ہوئے میدان ہیں کہ حق کو قبول کریں یا باطل کا ساتھ دیں۔ کوئی زبردستی نہیں۔ فلائٹ کھل گئیں۔ سفیروں کا تبادلہ ہوگیا، اب باقی کیا ہے فلسطینیوں کیلیے۔ ایک ہی کام ہے مقاومت (Resistance)"

سورہ فصلت کی آیت نمبر 30 میں ہے کہ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ۔ "بیشک جن لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اسی پر جمے رہے، ان پر ملائکہ یہ پیغام لے کر نازل ہوتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور رنجیدہ بھی نہ ہو اور اس جنّت سے مسرور ہو جاؤ، جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔" استقامت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اب ضرورت ہے کہ ڈسٹریکٹو کام کیساتھ اب ظاہر ہوگیا ہے کہ دوست کون ہے اور دشمن کون ہے۔ انصار اللہ کا نعرہ بڑا طاغوت شکن ہے کہ "اللہ اکبر، الموت لامریکہ، الموت لاسرائیل، العنۃ الیھود، النصر الاسلام"Allah is Greater, Death to America, Death to Israel, Curse on the Jews, Victory to Islam اب آنکھ کھولنے کی ضرورت ہے کہ دین کون ہے اور دیندار کون ہے۔ لٹیرے، عیاش، امت کو توڑنے والے، مال حجاز امت مسلمہ اور انسانون کا مال ہے، انکی عیاشیوں کیلیے نہیں ہے، کیا یہ اسلام ہے، یہ تو دشمنان امام کی فہرست میں سرفہرست ہیں۔ اس صدی کا سب سے بڑا توحیدی جملہ انصاراللہ کے سربراہ عبدالمالک الحوٖثی کا ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ ہوا، پانی، امریکا، اسرائیل اور یورپ سب تمہارا پھر بھی تم ہار رہے ہو تو اسکا مطلب اللہ تمہارے ساتھ نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ : 930138
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش