0
Saturday 1 May 2021 13:31

شہید مطہری اور روز معلم

شہید مطہری اور روز معلم
تحریر: سید شکیل بخاری ایڈووکیٹ

شخصیت کی جامعہ تعریف کرنا مشکل کام ہے، مگر چند خوبیوں کے پیش نظر ہم کسی حد تک شخصیت کے تمام اچھے پہلوؤں کا احاطہ کرسکتے ہیں۔ کسی شخصیت کی قدر و قیمت جاننے کے لئے اس کی باطنی اور ظاہری دونوں خوبیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ اس کی ملت کے لئے دی گئی قربانیاں دیکھی جائیں گی۔ ایسی ہی عظیم شخصیات میں سے ایک شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری (رہ) ہیں۔
چودہویں صدی کے شیعہ فقیہ، فلسفی، متفکر، قلم کار اور علامہ طباطبائی اور امام خمینی رضوان للہ کے شاگردوں میں سے تھے۔ اپنے دور میں موثرترین شیعہ علماء میں شمار ہوتا تھاو شہید نے غیر اسلامی تفکرات سے جوانوں کو دور رکھنے میں نہایت ہی اہم کردار ادا کیا۔

شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری کو امام خمینی (رہ) نے اپنا بیٹا کہا اور ایک پھل دار درخت کے نام سے یاد کیا امام (رہ) نے فرمایا کہ: یہ ان ستاروں میں سے ایک ہے، جو عمل کو ایمان، اخلاق کو عرفان، برہان کو قرآن، علم کو حکمت اور اپنی شہادت سے سماج کی ہدایت اور تاریکیوں کی ظلمتوں میں ڈوبے ہوئے سماج کے لیے مشعل راہ  تھا، جو ایک چراغ کی طرح جلتا رہا اور اپنے چاہنے والوں کو اپنے نور کی کرنوں سے منور کرتا رہے۔ بانی انقلاب امام خمینی رضوان اللہ  وہی بزرگ ہستی ہیں، جو شہید مطہری کو اپنی عمر کا نچوڑ اور ماحصل سمجھتے ہیں اور اپنے جگر کا ٹکڑا کہتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بہت ہی عزیز بیٹے کو کھو دیا ہے اور اس کے سوگ میں بیٹھا ہوا ہوں، وہ ان ہستیوں میں سے ایک تھے، جو میری عمر کا حاصل ہیں، اس باوقار بیٹے کی شہادت سے عالم اسلام میں ایسا خلاء پیدا ہوگیا ہے کہ جس کو کوئی بھی چیز پر نہیں کرسکتی۔

شہید مطہری (رہ) کا علمی اثاثہ مخلتف آثار کی شکل میں موجود ہے، ان کی لکھی گئی کتب، تحاریر اور مجموعہ تقاریر آج بھی ملت کے ہر فرد کے کے لئے رہنماء اصول کی حیثیت رکھتی ہیں، خصوصاً جوانوں کے لئے قیمتی سرمایہ ہے۔ شہید کی فکر اور شخصیت سے ہمارے جوان اسلام ناب کی حقیقی تصویر اخذ کرسکتے ہیں، کیونکہ شہید مطہری (رہ) نے اپنی ساری زندگی قرآن مجید اور تعلیمات محمد و آل محمد سے حقیقی اسلام کی ناصرف خود پہچان کی بلکہ پوری دنیا اور عالم اسلام کو اس سے مستفید فرمایاو جو ان کے آثار کی شکل میں موجود ہے۔ جب یکم مئی 1979ء کو آیت اللہ استاد شہید مرتضیٰ مطہری (رہ) کو شہید کیا گیا، امام خمینی (رہ) نے فرمایا: نہایت ہی افسوس ہے کہ ظالموں اور جنایتکاروں نے اس عظیم شخصیت کو دینی معاشرہ اور دینی حوزوں سے چھین لیا۔ مطہری میرے لیے عزیز بیٹے کی حیثیت رکھتے تھے اور حوزہ علمیہ اور ملک کے لیے ایک نہایت ہی دردمند اور مخلص نیز مفید پشت پناہ تھے۔

ان کی شہادت کے روز کو یومِ معلم کے طور پر منایا جاتا ہے اور اہل علم افراد نے آپکو استاد کے لقب سے ہمیشہ یاد کیا ہے۔ شہید مطہری منحرف تحریکوں کے خلاف سرگرم تھے، بعض گروہ مانند مجاہدین خلق شہید کے نظریات کے مخالف تھے۔ آخری سالوں میں فرقان نامی ایک اور گروہ سرگرم عمل ہوا، جو شہید مطہری جیسوں کو اپنے اہداف کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ تصور کرتا تھا، جب آپ کے علمی دلائل اور افکار کا مقابلہ نہ کرسکے تو  اس گروہ نے آپ کو شہید کر دیا۔ امام خمینی (رہ) نے آپ کی شہادت کے بعد  فرمایا کہ میں نے اگرچہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو کھویا ہے، لیکن مجھے اس بات پر فخر ہے کہ اسلام کے دامن میں اتنے عظیم اور بہادر جوان کل بھی موجود تھے اور آج بھی ہیں۔ قوت بیان، طہارت روح اور ایمان کی طاقت میں مطہری کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ لیکن برا چاہنے والوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ان کے اس دنیا سے چلے جانے سے ان کی اسلامی اور فلسفی شخصیت ختم نہیں ہو جائے گی۔
خبر کا کوڈ : 930167
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش