0
Sunday 2 May 2021 04:04

بہشت موعود کی تلاش

بہشت موعود کی تلاش
اداریہ
غاصب اسرائیل گذشتہ چند دنوں سے سکیورٹی کے بھیانک چیلنجوں کا شکار ہے۔ غزہ سے داغے گئے درجنوں میزائلوں نے گنبد آہنی جیسے ناقابل تسخیر دفاعی نظام کی حقیقت کو آشکار کر دیا ہے۔ صیہونی شہری ابھی اس خوف سے باہر نہیں آئے تھے کہ شام سے بھی اسرائیل پر میزائل داغا گیا۔ صیہونی حکام نے شروع میں خبروں کو دبانے کی کوشش کی تھی مگر بعد میں اعتراف کیا تھا کہ شام سے داغا جانے والا ایک میزائل ایٹمی تنصیبات کے قریب گرا ہے۔ گذشتہ ہفتے اسرائیل کی ڈیمونا ایٹمی تنصیبات کے قریب بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے بعد خطرے کے سائرن بجائے گئے تھے۔ ابھی یہ خوف باقی تھا کہ ایک مبینہ سائیبر حملے نے صیہونیوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ خلیج حیفا میں واقع اسرائیل کی بینزان آئل ریفائنری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس پر کئی گھنٹے کے بعد مشکل سے جزوی قابو پا لیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ آگ کے باعث آئل ریفائنری کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ غاصب صیہونی حکومت ریفائنری میں لگی آگ کی وجوہات کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم بعض میڈیا رپورٹس میں حیفا کی آئل ریفائنری میں جمعے کی شب لگنے والی آگ کو سائبر حملے کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ ان حملوں کے علاوہ بھی بعض مشکوک واقعات رونما ہوئے، جن میں درجنوں اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

خطے کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کے ساتھ سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے صیہونی حکومت کو سخت تشویش اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے نتائج اسرائیلی عوام کے من گھڑت عقائد اور اسرائیلی حکومت کے وعدوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ دوسرے ممالک میں بسنے والے صیہونیوں کو بہشت موعود کے وعدے پر فلسطین لایا گیا تھا، اب وہی علاقہ ان صیہونیوں کے لئے جہنم میں تبدیل ہونا شروع ہوگیا ہے۔ یہ صیہونی کب تک اس کیفیت کو برداشت کرسکیں گے، صیہونی لابی اس پر سخت پریشان ہے اور اسی موضوع کو بعض ماہریں صیہونی کشتی کے بڑے سوراخ سے تعبیر کر رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 930277
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش