0
Monday 3 May 2021 04:58

پہلے جیسے تسلط کی خواہش

پہلے جیسے تسلط کی خواہش
اداریہ
ایران کے اسلامی انقلاب کے خلاف دشمنیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ گذشتہ چار عشروں سے جاری ہے۔ انقلاب دشمن بیرونی اور اندرونی طاقتیں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ اس دشمنی کی بنیادی وجوہات کو امام خمینی اور رہبر انقلاب سید علی خامنہ ای اپنے خطابات اور بیانات میں ذکر کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ دشمنی بقول رہبر انقلاب ایک ایسے نئے سیاسی و اجتماعی نظام سے ہے، جس نے ان کی غلبہ کی خواہش کو چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ گذشتہ روز کے خطاب میں بھی رہبر معظم نے انہی نکات کی طرف متوجہ کیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ انقلاب اسلامی ایران نے ملک کو مغربی ملکوں کے تسلط سے آزاد کرکے اس کو ایک خود مختار ملک میں تبدیل کر دیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مغربی ممالک بدستور ایران پر پہلے جیسا تسلط قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایران کی پالیسیاں ان کی منشا کے مطابق ہوں، یہی وجہ ہے کہ جب ایران، چین اور روس جیسے ملکوں سے تعلقات کو فروغ دینے لگتا ہے تو انہیں برا لگتا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ایران اور ہمسایہ ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ میں امریکیوں کی جانب سے ڈالی جانے والی رکاوٹوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ متعدد بار ایسا ہوا ہے کہ ہمسایہ ملکوں کے اعلیٰ ربتہ وفد کے دورہ ایران کی امریکہ کی جانب سے مخالفت کی گئی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران، امریکہ اور دیگر ملکوں کے مطالبات کے سامنے تسلیم نہیں ہوگا بلکہ پوری قوت کے ساتھ خارجہ تعلقات کو آگے بڑھائے گا۔ رہبر معظم نے ایک بار اس نکتہ کو نمایاں فرمایا ہے کہ مغربی طاقتیں ایران پر دوبارہ تسلط کی خواہش رکھتی ہیں، جس کی اجازت اسلامی انقلاب کا الہیٰ نظریہ ہرگز نہیں دیتا۔ بہرحال حق و باطل کا یہ معرکہ جاری ہے اور ایران کا اسلامی انقلاب اور اس کا نظریہ حق کے ساتھ پوری قوت کے ہمراہ موجود اور قائم و دائم ہے۔
خبر کا کوڈ : 930416
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش