0
Monday 3 May 2021 16:53

امام علی علیہ السلام کی شہادت، تاریخی حقائق

امام علی علیہ السلام کی شہادت، تاریخی حقائق
تحریر: عظمت علی

جس وقت دنیا کی عظیم طاقتیں اسلام کے خلاف سر غرور اٹھائے ہاتھوں میں برہنہ شمشیر لئے کھڑی تھیں اور ان کی وحشیانہ طاقتیں پورے شد و مد کے ساتھ اسلام کو چبا جانے پر تلی ہوئی تھیں، اس وقت ایک مرد مجاہد اٹھا، جس نے تمام مخالفتوں کا طوفان تھام لیا۔ جس جنگ میں شمشیر بکف ہوا لشکر کا صفایا ہوگیا اور یوں عظیم قوتوں کا غرور چکنا چور ہوتا گیا۔ جب عمرو بن عبدود کو اسلام کے خلاف بھیجا گیا تو عرب کے سارے سورما دبک کر بیٹھ گئے۔ اس وقت بھی اسلام کا یکتا جری بلند ہوا اور تاریخ عرب کے عظیم بہادر کا باب سمٹ کر رہ گیا۔ امام علی علیہ السلام نے اسلام کا نہایت شجاعانہ دفاع کیا ہے۔ انہوں نے جنگ میں بھی دعوت امن کا سلسلہ مقدم رکھا۔ مقابل آئے لشکر کا کبھی پیچھا نہیں کیا۔ ایسے مرد مجاہد کا مقابلہ بھلا کس کے بس کی بات تھی۔ جب انسان کے پاس اپنی اختیاری قوت ختم ہو جاتی ہے تو وہ شیطانی سازشوں کا سہارا لینے لگتا ہے۔ امام کو اسی شیطانی سازش کے تحت شہید کیا گیا۔

37 ہجری کا دور ہے۔ جنگ صفین جاری ہے۔ اعلان فتح قریب ہے۔ لشکر شام کے لیے شکست فاش کے آثار نمایاں ہوچکے تھے کہ یکایک عمرو عاص نے فریب کا سہارا لے لیا۔ اہل شام نے قرآن کو نیزوں پر بلند کر دیا اور نعرہ لگانے لگے کہ اب ہمارے درمیان قرآن ہی فیصلہ کرے گا۔ یہ سیاسی داؤ اتنا پرفریب تھا کہ امام کے سپاہیوں کا ایک حصہ، بارہ ہزار کی تعداد اس جال میں پھنس گئی۔ وہ کہنے لگے کہ ہم ان سے ہرگز جنگ نہیں کریں گے۔ امام نے انہیں سمجھایا کہ یہ محض ایک چال ہے۔ میں قرآن ناطق ہوں۔ مگر موٹی عقل والوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ انہوں نے امام پر دباؤ ڈالا کہ اگر وہ ان کے خلاف جاتے ہیں تو بغاوت ہو جائے گی اور آپ کو قتل کر دیں گے۔ جب حالات نے بے وفائی کر دی تو امام نے حکمیت کے سامنے خاموشی اختیار کرلی۔

معاویہ نے اپنے نمائندہ کے طور پر تو عمرو عاص کو چن لیا تھا، چونکہ چالاکی میں وہ بے مثال تھا۔ امام علی علیہ السلام نے انتخاب نمائندہ میں عبد اللہ ابن عباس (تاریخ یعقوبی، احمد بن ابو یعقوب یعقوبی، جلد ۲، صفحہ ۱۸۹، اشاعت:دارصادر، اشاعت اول، بیروت) یا مالک اشتر (المنتظم، عبد الرحمن ابن علی، ابن جوزی، جلد۵، صفحہ ۱۲۲، ناشر: دارالکتب العلمیہ، بیروت، سن اشاعت:۱۴۱۲، اشاعت اول) یا بعض تاریخی شواہد کی بناپر ابو الاسود دئلی کو منتخب کرنے کے حق میں تھے، لیکن یہاں بھی جن سپاہیوں نے آپ کو حَکم پر مجبور کیا ہوا تھا، انہی نے ابو موسیٰ اشعری کی نمائندگی پر اصرار کیا اور بضد ہوگئے۔ حالانکہ امام نے ان کے فیصلہ کے خلاف ارشاد بھی فرمایا کہ "تم نے ابتداء میں میرے حکم کی مخالفت کی اور اس وقت بھی میری باتوں کو نہیں سن رہے ہو۔ میں ابو موسیٰ اشعری کو منتخب کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔"

انہوں نے کہا: ہم صرف ابو موسیٰ اشعری پر ہی راضی ہوں گے(ورنہ نہیں!)۔
امام نے فرمایا: تم پر وائے ہو! وہ قابل اعتماد انسان نہیں۔ اس نے لوگوں کو مجھ سے دور کر دیا ہے اور میرے خلاف اقدام بھی کرچکا ہے۔ (مروج الذہب و معادن الجوہر، علی ابن حسین مسعودی، جلد۲، صفحہ۳۹۱، تحقیق: اسعد داغر، ناشر: دارالہجرہ، قم، اشاعت دوم، ۱۴۰۹) بالآخر! ابو موسیٰ اشعری کو منتخب کیا گیا۔ اس میں اور عمرو عاص میں گفتگو ہوئی کہ دونوں (امام علی اور معاویہ) کو خلافت سے جدا کر دیتے ہیں اور ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو خلیفہ کا انتخاب کرے۔ یہ بات تو طے پائی لیکن اعلان کا وقت آیا تو عمرو عاص نے ابو موسیٰ اشعری کو مقدم کیا اور اس نے امام علی علیہ السلام کو خلافت سے محروم ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس نے کہا: میں جس طرح اس انگوٹھی کو اپنے انگلی سے جدا کر رہا ہوں، اسی طرح علی کو خلافت سے جدا کرتا ہوں۔

عمرو عاص مکار اور جھوٹا تھا، سو اس نے فیصلہ کے خلاف حکم سنا دیا اور کہا کہ ابو موسیٰ نے جو کہا وہ تو آپ لوگوں نے سن لیا۔ اب میں کہتا ہوں کہ معاویہ خلیفہ ہے اور میں اس کی خلافت پر پابند ہوں اور جس طرح اس انگوٹھی کو اپنے ہاتھ میں برقرار کر رہا ہوں، اسی طرح معاویہ کو بھی خلافت پر برقرار کرتا ہوں۔ اس طرح سے صفین کی جنگ کا اختتام ہوگیا۔ معاویہ شکست کے دہانے پر آنے کے باوجود محفوظ رہا اور امام علی علیہ السلام کے لشکر کی ضد اور کوتاہ فکری نے امام کو فتح جنگ سے محروم کر دیا۔ ساتھ ہی آپ کے جانی دشمن بھی ہوگئے۔ فیصلہ کو قبول کرنے کے بعد وہ اپنے ارادہ سے پلٹ گئے اور اس فیصلہ کی تائید کرنے والے کو کافر شمار کرنے لگے۔ اس لیے انہوں نے امام کو بھی توبہ کی دعوت دی۔

امام نے توبہ نہیں کی، کیونکہ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ انہیں جنگ صفین کے لیے دعوت دی مگر انہوں نے تو ایک الگ ہی جنگ کا ارادہ بنا لیا تھا۔ وہ معاویہ نہیں بلکہ امام علی علیہ السلام کے خلاف نکل کھڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے عبد اللہ بن وہب کے ہاتھوں بیعت کر لی اور کوفہ سے نہروان کی جانب نکل پڑے۔ راستہ میں بے گناہوں کا قتل کیا۔ امام نے ان کے سامنے اتمام حجت کی، مگر وہ اپنی ضد پر اڑے رہے، جس کے نتیجہ میں 38 ہجری میں جنگ نہروان واقع ہوئی۔ یہ معرکہ حق و باطل اتنا گھمسان لڑا گیا کہ خوارج میں گنتی کے دس بھی نہیں بچے اور امام کے سپاہیوں میں سے دس سے زائد شہید بھی نہیں ہوئے، جیسا کہ امام نے پہلے ہی باخبر کر دیا تھا۔(نہج البلاغہ، خطبہ۱۵۹)

اب یہ جنگ ہارے ہوئے خوارج عراق واپس لوٹے۔ انہیں اپنے احباب کے کھو جانے کا غم بار بار ستائے جا رہا تھا اور ان کی نگاہ میں اس سب کے ذمہ دار امام علی علیہ السلام تھے۔ اس لیے وہ قتل امام کے درپے ہوگئے۔ دشمنی تو پہلے بھی تھی، لیکن جنگ نہروان کے بعد ان کے انتقامی نظریہ میں شدت پیدا ہوگئی۔ 39 ہجری کو ایام حج میں یہ لوگ مکہ میں جمع ہوئے۔ وہاں اپنے مقتولوں پر آنسو بہائے اور ان کا ماتم کیا۔ پھر اپنے غصہ کی آگ بجھانے پر غور و فکر کرنے لگے۔ طے یہ پایا کہ اس وقت امت مسلمہ میں تین ہی افراد ہیں، جن کے ہاتھ میں زمام حکومت ہے، انہیں قتل کر دیا جائے تو قصہ تمام ہو جائے گا۔ علی ابن ابی طالب، معاویہ ابن ابو سفیان اور عمرو عاص۔

عبد الرحمٰن ابن ملجم نے امام علی علیہ السلام، برک بن عبید اللہ تمیمی نے معاویہ ابن ابو سفیان اور عمرو بن بکر تمیمی نے عمرو عاص کے قتل کا ذمہ اٹھا لیا۔ معاہدہ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ یہ مخفیانہ عمل ہے، جسے چالیسویں ہجری کے انیسویں رمضان کی شب میں انجام دیا جانا ہے۔ تینوں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے نکل گئے۔ ( تاریخ الامم و الملوک، ج ۴، ص۱۱۰؛ انساب الاشراف، ج۲، ص ۴۹۰، مناقب آل ابی طالب، ج۳، ص۳۱۱) ابن ملجم کوفہ کی جانب، برک بن عبید اللہ تمیمی شام کی جانب اور عمرو بن بکر تمیمی راہی مصر ہوگیا۔ ابن ملجم کوفہ پہنچا، اپنے عزیزوں سے ملاقات کی، مگر اپنے مقصد کو مخفی ہی رکھا، یہاں تک کہ ایک روز قبیلہ "تیم الرباب" سے ملاقات کی۔ انہیں اپنے لوگوں کی موت کا بہت صدمہ تھا۔

اسی سلسلہ میں اس کی ملاقات ایک نہایت حسین و جمیل عورت "قطام" سے ہوئی۔ اس کے باپ اور بھائی کی موت جنگ نہروان میں ہوئی تھی۔ اس لیے اسے بھی امام سے بغض تھا۔ ابن ملجم نے اس سے شادی کی خواہش کی۔ اس نے مہر میں تین ہزار درہم، ایک غلام، ایک کنیز اور امام علی علیہ السلام کا قتل مانگا۔(بحار الانوار، ج 42، ص 267؛ تاریخ الامم و الملوک، ج 4، ص 116؛ الاخبار الطوال، ص 214؛ مناقب آل ابی طالب، ج3، ص311؛ الارشاد، ج1 ص 22) اسی بات پر اس نے اپنا راز کھول دیا اور کہا کہ میں تو اسی کام کے لیے ہی کوفہ آیا ہوں۔ وردان بن ماجد تمیمی، شبیب بن بجرہ، عمرو عاص کے وکیل اور اشعث بن قیس کی ملی جلی شیطانی چال نے انیسویں رمضان، سن چالیس ہجری کو مسجد کوفہ میں امام علی علیہ السلام کو شہید کر دیا۔
خبر کا کوڈ : 930538
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش