1
Tuesday 4 May 2021 20:00

افغانستان سے امریکہ کا فوجی انخلاء، ویتنام جیسی صورتحال

افغانستان سے امریکہ کا فوجی انخلاء، ویتنام جیسی صورتحال
تحریر: سید رحیم نعمتی
 
امریکہ نے بیس سال پہلے افغانستان پر فوجی چڑھائی کی تھی اور طالبان کی سربراہی میں امارت اسلامی افغانستان کا خاتمہ کر ڈالا تھا اور آج اس ملک سے فوجی انخلاء انجام دے رہا ہے۔ افغانستان کی جنگ، امریکہ کی تاریخ میں لڑی جانی والی سب سے لمبی جنگ ہے۔ افغانستان میں امریکی جنگ کی دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ طولانی طرین جنگ ہونے کے باوجود امریکہ کیلئے ایک شکست خوردہ جنگ قرار پائی ہے۔ اس جنگ کا اہم مقصد طالبان نامی گروہ کا خاتمہ تھا لیکن بیس سال گزر جانے کے باوجود امریکی حکمران اس گروہ کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ مذاکرات کرنے اور باقاعدہ معاہدہ انجام دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں افغانستان سے فوجی انخلاء ماضی میں ویتنام سے امریکہ کے فوجی انخلاء سے بہت زیادہ مشابہت کا حامل ہے۔
 
ویتنام میں بھی امریکہ نے تقریباً ایک عشرے تک فوجی جارحیت جاری رکھنے کے بعد شکست خوردہ حالت میں پسپائی اختیار کی تھی۔ افغانستان سے امریکہ کے حالیہ فوجی انخلاء کی ویتنام سے فوجی پسپائی سے بہت زیادہ مشابہت کے پیش نظر یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں اس فوجی انخلاء کے بعد افغانستان میں بھی ویسے ہی حالات تو پیدا نہیں ہو جائیں گے جو ویتنام سے فوجی پسپائی کے بعد وہاں پیدا ہوئے تھے۔ یاد رہے ویتنام سے امریکہ کی فوجی پسپائی کے بعد ویت کنگز نامی گروہ برسراقتدار آ گیا تھا جو اس مدت میں امریکہ کے خلاف نبرد آزما رہا اور جنگ کی حقیقی فاتح قوت کے طور پر سامنے آیا تھا۔ لہذا افغانستان کے بارے میں بھی یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ کہیں امریکہ کے فوجی انخلاء کے بعد طالبان ایک فاتح قوت کے طور پر سامنے نہ آ جائے۔
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان، افغانستان سے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے فوجی انخلاء کو اپنی بیس سالہ مسلح مزاحمت اور کاروائیوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اس تناظر میں ملکی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوطی کی جانب گامزن ہونے کا احساس کر رہے ہیں۔ طالبان کی اس سوچ کا اندازہ فوجی انخلاء کے پہلے روز امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجیوں پر حملے کے اعلان سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ طالبان کا دعوی ہے کہ ان کی جانب سے امریکی فوجیوں کو حملوں کا نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی نہ کروانے کی اصل وجہ امریکہ کی جانب سے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے، لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان اقدامات سے طالبان کا اصل مقصد اپنی طاقت کا اظہار ہے۔
 
طالبان اپنے مدمقابل قوتوں خاص طور پر افغان حکومت کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ملک سے امریکہ کے فوجی انخلاء کے بعد وہ میدان کی برتر قوت ہیں۔ طالبان کی جانب سے اس طرز عمل کا بنیادی مقصد ماہ مبارک رمضان کے بعد ترکی میں منعقد ہونے والی امن کانفرنس میں برتری حاصل کرنا ہے۔ یاد رہے ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہونے والی افغانستان امن کانفرنس کا بنیادی مقصد امریکہ کے فوجی انخلاء کے بعد اس ملک کے سیاسی سیٹ اپ کے خدوخال واضح کرنا ہے۔ اس نکتے کی جانب توجہ بھی ضروری ہے کہ طالبان ابھی تک اپنی سابقہ "امارت اسلامی" کے احیاء پر مبنی ہدف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ لہذا طالبان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ افغان حکومت کو اہم اور بنیادی مراعات دینے کیلئے تیار ہو جائیں گے، زیادہ معقول دکھائی نہیں دیتا۔
 
اسی وجہ سے استنبول کی امن کانفرنس بھی بہت زیادہ ابہامات کا شکار ہے اور افغانستان کے آئندہ سیاسی سیٹ اپ میں طالبان کی شرکت بھی شکوک و شبہات سے ہمراہ ہے۔ افغانستان سے امریکہ کے فوجی انخلاء کا دوسرا اثر بیرونی قوتوں کی جانب سے اس ملک میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کا موقع فراہم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ اس بارے میں امریکہ کیلئے شاید چین کے اثرورسوخ میں اضافہ بدترین نتیجہ تصور کیا جائے گا۔ خاص طور پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ چین نے نہ صرف افغان حکومت سے اچھے خاصے تعلقات استوار کر رکھے ہیں بلکہ افغانستان میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری بھی انجام دے رکھی ہے۔ گذشتہ چند برس کے دوران چین نے افغانستان کے انفرااسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری انجام دی ہے۔
 
دوسری طرف افغانستان میں روس کے کردار سے بھی چشم پوشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ روس نے مختلف افغان گروہوں کے درمیان باہمی مذاکرات میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماسکو میں انٹر افغان مذاکرات کی چند نشستوں کے انعقاد کے نتیجے میں روس افغانستان میں قیام امن کے عمل کا ایک اہم کھلاڑی تصور کیا جاتا ہے۔ لہذا افغانستان سے امریکہ کی پسپائی خطے میں اس کے دو اہم حریف ممالک یعنی چین اور روس کیلئے افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کا سنہری موقع ثابت ہو گی۔ چین اب تک افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے بھی بہت قریبی تعلقات استوار کر چکا ہے اور افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھا کر وسطی ایشیا سے لے کر بحر ہند تک اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنا سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 930731
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش