0
Thursday 6 May 2021 04:30

مظلوم فلسطینیوں کی پکار اور امت مسلمہ!

مظلوم فلسطینیوں کی پکار اور امت مسلمہ!
تحریر: ارشاد حسین ناصر

کیا امت مسلمہ کو علم ہے کہ ان کے قبلہ اول بیت المقدس پر ناجائز ریاست اسرائیل کے 1948ء کے قبضے سے لیکر آج تک کتنے بے گناہ، معصوم، بے جرم و خطا فلسطینی بہن بھائی شہید کئے گئے ہیں۔ اس عرصہ میں کتنی مائوں بہنوں کی عزتیں پائمال ہوئی ہیں، کتنے گھر اور بستیاں اجاڑ دی گئیں، کتنے خاندان اپنے ہی گھروں سے بے دخل کر دیئے گئے، کتنے بچے، بوڑھے، جوان، مائیں، بہنیں، کم سن بغیر کسی جرم کے اسرائیل کے عقوبت خانوں میں ڈالے گئے ہیں، جن کی زندگی ان کی موت سے بدترین ہے۔ یہ ایک دن کی اذیت نہیں، ایک سال کا قصہ نہیں بلکہ یہ لگ بھگ بہتر برس کی داستان غم ہے، یہ درد و الم اور غم و اندوہ کی طویل اور کھلی حقیقت ہے، جس سے امت مسلمہ نے منہ چرایا ہوا ہے، جس سے انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں نے مجرمانہ چشم پوشی کی ہوئی ہے، جسے امت مسلمہ نے تسلسل سے نظر انداز کیا ہوا ہے۔

جس ارض انبیاء کو مسلمانوں کے سجود و عبادات کا مرکز ہونا تھا، وہ صیہونسٹوں کے ناپاک پنجوں اور شیطانی ہاتھوں میں سسک رہی ہے، جس بیت المقدس کی جانب ہمارے آخری نبی ۖنے بھی نمازیں ادا کیں، آج بہتر برس سے انسانوں کی بے ضمیری، صیہونسٹوں کی سفاکیت اور امت کی بے حسی کا نوحہ سنا رہا ہے۔ جو بیت المقدس مسلمانوں کی عظمت اور شہامت کا گواہ ہے، آج مسلمانوں کے خون سے رنگین ہے اور اس پر نجس وجود اسرائیل کے نجس قابضین کی یلغار ہے۔ آج جب ایک طرف اہل فلسطین کے بلکتے، سسکتے اور مدد کو پکارتے بچوں کی آہ و بکا سنتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے مرکز و محور یعنی خانہ کعبہ کے کلید بردار ان ظالمین اور اسلام کے ازلی دشمنوں کیساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھاتے دیکھتے ہیں تو ششدر و حیران رہ جاتے ہیں، کہاں گئی ان عربوں کی شجاعت، جس پر کبھی انہیں فخر ہوا کرتا تھا کہ تاریخ نے اہل عرب میں نامور اور مانے ہوئے بہادر سپوت اور پہلوان پیدا کئے۔ کہاں گئی ان عربوں کی غیرت جو اپنے قبیلے کے دشمنوں سے سالہا سال لڑنے سے نہیں کتراتے تھے اور تلوار ان کی زبان ہوا کرتی تھی۔

ارض مقدس فلسطین، ارض انبیاء پر صیہونیوں کے قبضے اور یہاں کے عربوں پر بدترین مظالم تمہیں ان قابضین کیساتھ دوستیاں قائم کرنے سے روکنے کیلئے کافی نہیں، کیا بہتر برس سے ان مظلوموں کا بہتا ہوا خون اور تاراج ہوتی بستیاں، کم سن بچوں کی چیخ و پکار، مسلمان خواتین کی مدد کیلئے صدا تمہیں اسرائیلیوں کیساتھ ایک میز پر بیٹھنے اور ان کیساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے ناکافی ہیں، کون سا ظلم تمہیں اس سے روک سکتا ہے، کون سا زخم دکھائیں کہ تم امت کیساتھ اس غداری سے باز آجائو۔؟ اسرائیل جس کے بارے حضرت امام خمینی نے فرمایا تھا کہ اگر مسلمان ایک ایک بالٹی پانی بھی اس پر پھینک دیں تو وہ اس میں ڈوب جائے گا، اس کو تیل کی دولت سے مالا مال ہمارے عرب مسلمان حکمرانوں نے اتنا سر پہ بٹھا لیا ہے کہ جیسے یہ ناقابل تسخیر قوت ہے، اسرائیل جس کی قوت و طاقت ایک لبنانی تنظیم کی قوت کے سامنے سرنڈر کر دیتی ہے، اس کے سامنے یہ سارے عرب ملک سرنڈر کرچکے ہیں۔

فقط عراق، شام و لبنان ہیں جو آج بھی اسرائیل کیساتھ ٹکرانے کی پوزیشن میں رہتے ہیں، لبنان کی مقاومت اسلامی حزب اللہ نے تو اسرائیل کی نام نہاد ناقابل تسخیر ہونے کی پوزیشن 2006ء کی 33 روزہ جنگ میں بہت ہی واضح اور کلیئر کر دی تھی، جس کے بعد حماس نے بھی غزہ پر جنگ کے جواب میں اس کو مقاصد حاصل کرنے میں ناکام کر دیا تھا، حالانکہ حماس اور اسلامک جہاد فلسطین کے پاس لڑنے کیلئے لوکل میڈ راکٹ اور ایران کے دیئے ہوئے الفجر میزائل تھے، جن کی بدولت غزہ کا دفاع ممکن ہوا، جبکہ ان کے مقابل اسرائیل ایک ایٹمی مملکت ہونے کیساتھ ساتھ جدید ترین اسلحہ سے لیس ایک بدمعاش ناجائز مملکت ہے۔ غزہ کی جنگ کے بعد حماس نے غزہ میں بل بورڈز پہ شکریہ ایران کے پینا فلیکسز لگائے تھے۔ ادھر ایران نے بھی فلسطینیوں کی ہمہ قسم مدد سے کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا، نہ ہی اس کا انکار کیا ہے، یہاں جمہوری اسلامی نے کھل کے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ جب شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے موقعہ پر حماس و اسلامک جہاد کا وفد تہران آیا تو انہوں نے شہید قاسم سلیمانی کو شہید القدس کا خطاب دیا اور اعتراف کیا کہ کیسے کیسے مواقع پر شہید قاسم سلیمانی ان تک مدد لے کر پہنچتے رہے، یہ بتانا مشکل ہے، مگر انہوں نے ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔ اسی طرح شہید سردار قاسم سلیمانی کی شہادت کے وقت غزہ میں ان کا تعزیتی کیمپ لگا رہا، جو ان کی قدس کی آزادی کیلئے خدمات کا اعتراف تھا۔ اس وقت بھی صورتحال بہت دلچسپ مرحلہ میں نظر آرہی ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ قدس فورس اب اسرائیل کو تباہ کرنے اور بیت المقدس کو اس کے نجس پنجوں سے آزاد کروانے کیلئے کافی نزدیک پہنچ چکی ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے بھی ایک ٹی وی پر گفتگو میں ایسے اشارے دیئے ہیں۔۔۔

ہم دیکھ بھی رہے ہیں، اب تو اسرائیل کے مقبوضہ ایریاز میں بھی بہت اہم کارروائیاں ہو رہی ہیں، کبھی اس کے ایٹمی پلانٹ کے قریب دھماکے، کبھی اس کے بحری جہاز نشانے پر، کبھی اس کی اسلحہ ساز فیکٹریاں آگ و دھنویں کے بادل بن رہی ہیں، اب تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جا رہا ہے، اسرائیل کا دفاعی نظام اب فلسطینیوں کے راکٹ اور مقاومت کے حملوں کو روکنے میں بری طرح ناکام ہیں، جس کے باعث اسرائیلی عوام میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ گذشتہ چند ماہ سے اسرائیل کو اینٹ کا جواب پتھر سے مل رہا ہے، امن و سلامتی کے خواب دیکھتے ہوئے دنیا بھر سے بھٹکے ہوئے یہودیوں کو جس اسرائیل میں لا کر بٹھایا گیا ہے، اب وہ انتہائی غیر محفوظ لگ رہا ہے۔ پتھر اور سیمنٹ کی اونچی اونچی دیواریں کھڑی کرکے اس کے باسیوں کو محدود کرنے کے باوجود اسرائیلی غیر محفوظ ہیں۔

جو کچھ اس وقت نظر آرہا ہے، اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ آگ جو وہ مسلمانوں کے گھروں کو لگاتا پھر رہا ہے، اس کے اپنے گھر تک پہنچ جائے گی۔ آج اسرائیل کے اندر ہونے والی کئی کارروائیوں سے لگ رہا ہے کہ اسرائیل کی نابودی
 کے دن قریب آگئے ہیں، اب القدس اسرائیل کے ہاتھوں سے سرک کر امت کو واپس مل کے رہے گا، یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ مستضعفین اور کمزور بنا دیئے گئے انسانوں کو حکمرانی عطا ہوگی، اللہ کے وعدہ کی تکمیل کا وقت قریب ہے، القدس کی آزادی اب قریب ہے۔ نام نہاد خادمین الحرمین اور کعبہ و حرمین کے کلید بردار اور ان کے دم چھلہ بنے حکمران چاہے ان کا تعلق عرب سے ہو یا غیر از عرب سے، ان کا یوم حساب بھی قریب ہے۔ یمن کے مجاہد اور پا برہنہ الہیٰ انسانوں نے اپنی سرزمین کی حفاظت اور دفاع میں آل سعود کو دھول چاٹنے پر مجبور کر دیا ہے، لگتا ہے کہ اب انہیں جلد یا بدیر ان کے قدموں میں جھکنا پڑے گا۔

یمنیوں کو انکا حق دینا ہوگا اور جارحیت کا حساب بھی دینا ہوگا، ایسے میں آل سعود کی فرمائش پر اسرائیل کی گود میں جانے والے ممالک اور حکمران کہاں کھڑے ہونگے، اس کا فیصلہ بھی ان کے آقا کے ساتھ ہی ہوگا۔ بہتر برس سے اسرائیل کے مطالم اور اپنوں کی غداری کے شکار اہل فلسطین اب اپنے دوست و دشمن کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں، اب کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی، سابق امریکی صدر ٹرمپ کے داماد کشنر کیساتھ مل کر جو معاہدے ہوئے تھے، آج کشنر کیساتھ ہی تاریخ کے کوڑے دان میں نظر آرہے ہیں، ٹرمپ اپنا پورا زور لگا کر بھی دوسری مدت کیلئے امریکی صدر نہیں بن سکا، اس نے تو اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکہ کے وجود کیلئے بھی خطرات پیدا کر دیئے تھے۔ اس کا جانا ہی ٹھہر گیا تھا، اب اس کا دم بھرنے والوں کی باری ہے۔
خبر کا کوڈ : 931015
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش