0
Saturday 8 May 2021 18:44

جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان کے زیراہتمام آزادی قدس اور ہماری ذمہ داریاں سیمینار

جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان کے زیراہتمام آزادی قدس اور ہماری ذمہ داریاں سیمینار
رپورٹ: جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان

جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان کے زیراہتمام یوم القدس کی مناسبت سے ایک عظیم الشان آن لائن آزادی قدس اور ہماری ذمہ داریاں سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیمینار کا آغاز تلاوت کلام مجید سے ہوا، جس کی سعادت قاری پاکستان قاری وجاہت حسین نے حاصل کی۔ ان کی خوبصورت تلاوت نے سیمینار میں سماں باندھ دیا۔ تلاوت کے بعد سیمینار کے میزبان جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ شعبہ روابط و بین الاقوامی امور کے سربراہ اور جامعہ المصطفیٰ العالمیہ شعبہ برادران کے پرنسپل حجۃ الاسلام والمسلمین انیس الحسنین خان نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ عالم اسلام اور عالم انسانیت کا مسئلہ ہے۔ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، امام خمینیؒ نے ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا، اس دن کو مظلوموں کی حمایت کا دن قرار دیا۔ یہ دن یہ بتانے کے لیے ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان اہل فلسطین کے ساتھ ہیں۔ اقوام عالم کو    فلسطینیوں کی حق کی آواز پہنچائی جائے۔ ہم نے مظلوم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔ ہم نے حالات کے مطابق آن لائن پروگرام کا انعقاد کیا ہے۔ میں تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں بالخصوص ان علماء و دانشوران کا جنہوں نے اپنا قیمتی وقت دیا اور اہل فلسطین سے اظہار یکجہتی کیا۔

جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ شعبہ برادران کراچی کے پرنسپل ڈاکٹر نسیم حیدر صاحب  نے کہا کہ ہمیں مسلسل کوشش کرنی ہے اور اسے حقیر نہیں سمجھنا۔ فلسطینی بھائیوں کے لیے جو بھی آواز اٹھا رہا ہے، اس کی قدر کرنی چاہیئے۔ مسلسل تلاش کے ذریعے اپنی راہ کو پا لیں گے۔ قدس کے حوالے سے ہماری ایک اہم ذمہ داری ان کے لیے احساس کا ہونا ہے کہ ہم ان کی مدد کی کوشش و تلاش کریں۔ ثبات قدم اور جہد مسلسل کے نتیجے میں ہی کامیابی ملتی ہے۔ حضرت امیرالمومنینؑ علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ظالم سے ہمیشہ برسرپیکار رہو اور مظلوم کے مدد گار بنے رہو۔ ہمیں اپنی خود سازی پر توجہ دینی ہے، یہ ماہ بھی نفس کو پاک کرنے کا اہم وسیلہ ہے۔ پاکیزہ نفس انسان ہی معاشرے میں موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک ذمہ داری باہمی اتحاد و اتفاق کا قائم کرنا ہے، اس کے ذریعے اہل فلسطین کی مدد ہوسکتی ہے۔