0
Tuesday 11 May 2021 15:40

خطے کے بدلتے حالات اور پیش آمدہ مشکلات

خطے کے بدلتے حالات اور پیش آمدہ مشکلات
تحریر: ارشاد حسین ناصر

اس وقت ایک طرف ہمارے ہمسائے افغانستان کا دارالحکومت کابل معصوموں کے خون سے لہولہان ہے، دوسری طرف قبلہ اول پر صیہونیت کی یلغار ہے، صیہونیوں نے مسجد اقصٰی میں نماز پڑھنے والے مسلمانوں پر بارود سے یلغار کر دی ہے، ماہ مبارک رمضان میں پرامن نمازیوں پر بلا استثناء مرد و خواتین حملہ اور مسجد اقصٰی کو آگ لگا کر رقص کرنے کے مناظر بہت ہی دلدوز ہیں، جبکہ غزہ پر اسرائیلی فضائیہ نے بدترین حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، لگتا ہے یہ ایک نیا انتفادہ کو جنم دے گا، اب فلسطینی فقط غلیل سے پتھر پھینک کر نہیں راکٹ، میزائل اور جدید گنز فائرنگ سے بزدل صیہونیوں کی نیندیں حرام کرتے دیکھے جا سکتے ہیں، یہ جنگ ممکنہ طور پہ کچھ طویل بھی ہوسکتی ہے، جمہوری اسلامی ایران کھل کر اہل فلسطین کے ساتھ کھڑا ہے۔

کابل میں ایک سکول بنام سید الشہداء پر حملہ میں 80 کے قریب کم سن بچوں کو شہید اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں، افغانستان میں اہل تشیع کے اسکولوں اور مراکز پر یہ حملے باقاعدگی سے جاری ہیں، افغان طالبان نے ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، مائوں کے عالمی دن کے موقعہ پر ظالموں نے کتنی ہی مائوں کی گودیں اجاڑ دی ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ نے افغانستان سے اپنی افواج نکالنا شروع کر دی ہیں، جس کے بعد یہاں قبضے کی جنگ یعنی بدترین خون ریزی کا ماحول بن رہا ہے، اس کے پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک پر بھی اثرات مرتب ہونگے، آرمی چیف اور وزیراعظم عمران خان کا دورہ سعودیہ کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، سعودیہ سے واپسی پر آرمی چیف قمر جاوید باجوہ آئی ایس آئی چیف کے ہمراہ افغانستان کے اہم دورہ پہ گئے ہیں۔

ہمارے ملک میں عجیب صورتحال چل رہی ہے، ایک طرف قدس ریلیز میں اسرائیلی پرجم جلانے اور دوسری طرف پاکستان ڈے کی ریلی میں پاکستانی پرچم لہرانے پر ایف آئی آر درج اور قید و بند کی صعوبتیں دی جا رہی ہیں، جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تکفیری عناصر منظم انداز میں اس ملک میں ایک بار پھر فرقہ واریت کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں، نا اہل حکمران اور متعصب انتظامیہ بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستان بھر میں باالخصوص پنجاب میں یوم علی (ع)، قدس اور خطباء کی ویڈیوز کو بہانہ بنا کر دبانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، Fir s، گرفتاریاں، فورتھ شیڈول، دھمکیاں دی جا رہی ہیں، ملک بھر میں جلوسوں کے بانیان اور تعزیہ کے لائیسنسداران کے خلاف معمولی باتوں کی بنیاد پر پرچے کاٹ کے فورتھ شیڈول کی تلوار ان کے سروں پر لٹکائی جا رہی ہے۔ یہ سب عالمی سطح پر دین و مذہب سے دور کرنے کی سازش کا حصہ محسوس ہوتا ہے، لہذا اس کا تدارک اور روک بھی گہری سوجھ بوجھ اور حکمت عملی سے ممکن ہے، اس کے خلاف قائدین کو حکمت و دانائی اور جرآت مندانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

ایک ملت کے تمام طبقات بشمول بانیان، ذاکرین، خطباء، علماء، طلباء، مدارس، جامعات، تنظیمات، انجمنوں، ٹرسٹیز اور عوام الناس کو اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرکے آگے بڑھنا ہوگا، اپنے معمولی اختلافات اور مفادات کو پس پشت ڈال کر اپنی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔ ایک زمانے میں تکفیریوں نے جو نعرہ بلند کیا تھا کہ ہمارے جلوسوں کو امام بارگاہوں کے اندر کروائیں گے، اکیس رمضان المبارک مولا علی علیہ السلام کی شہادت کے جلوسوں کو امام بارگاہوں تک محدود کرنے کی کوشش اسی منصوبہ کا حصہ تھا۔ بہت سارے شہروں میں کرونا کے بہانہ سے ایسا کروایا گیا ہے، اس کے باوجود بہت سے شہروں میں مومنین نے پرچے جھیل کر اس سازش کو ناکام بنایا ہے، چونکہ یہ مسئلہ کسی ایک شہر اور صوبے کا نہیں، اس لیے اس پہ ملک گیر وجود رکھنے والی جماعتیں اور قیادتیں مشترک پالیسی ترتیب دیں، جو گہرے غور و خوض اور دقیق معلومات کے بعد سامنے آئے۔

ہمارا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ ہم اس ملک، ملت اور مکتب کے خلاف ہر سازش کا مقابلہ کرتے آئے ہیں اور دشمن کو ناکام بنایا ہے، ممکن ہے کہ ہمارے دشمن ہمیں کسی متشدد گروہ کے طور پر میدان میں لانے کی سازش پر عمل پیرا ہوں، ممکن ہے کہ ہمیں ملک گیر پابندیوں کا شکار کرنے کیلئے جال پھینکا گیا ہو، اس لئے تدبر اور حکمت سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، قوم و ملت بھی اپنا کردار ادا کرے، اپنی توانائیاں اور وسائل فضول اور جاہلانہ انداز کے ذاکرین پر خرچ نہ کرے اور نہ ہی ان حالات میں کسی غیر ذمہ دار کے ہاتھ میں منبر دے، اس وقت ایسا کرنا ملت و مکتب کے خلاف دشمن کی سازش کا حصہ بننے کے مترادف ہے، اگر قوم نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو قائدین بھی کچھ نہیں کرسکین گے اور نقصان مکتب کا ہوگا، اس صورت میں تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
خبر کا کوڈ : 932049
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش