0
Wednesday 12 May 2021 18:30

قرآنی معاشرے کی تشکیل اور معلماتِ قرآنی کا کردار

قرآنی معاشرے کی تشکیل اور معلماتِ قرآنی کا کردار
رپورٹ: سویرا بتول

ہم آج ایسی دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں کہ فتنوں نے تاریک رات کی طرح ہر جگہ کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ اس صورتحال میں قرآن اور وارثان ِقرآن کے پاس پناہ لینے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ قرآن نور ہے اور معاشرے اور فرد کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جانے والا ہے۔ کلامِ الہیٰ اسلام کی حقانیت کی سند اور پیغمبرِ اسلامﷺ کا زندہ و جاوید معجزہ ہے اور ایسی کتاب ہے، جو ہر قسم کی تحریف سے پاک ہے۔ تاہم انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں، جو قرآن کو پڑھنا تک نہیں جانتے، اگر پڑھتے ہیں تو اُس کے معنی و مفہوم کو نہیں سمجھتے۔ جو تھوڑا بہت مفاہیم کا ادراک رکھتے ہیں، وہ اس میں غور و فکر نہیں کرتے۔ اس بات کا ادارک کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرح امسال ادارہ التنزیل نے تدبرِ قرآن کے نام سے متعدد آنلائن ورکشاپس کا انعقاد کیا۔

رمضان مبارک میں ادارہ التنزیل کی جانب سے منعقد کی جانے والی تمام کلاسز کا آن لائن بذریعہ زوم ایپ افتتاحیہ *قرآن سے عہد* کے نام سے ہوا۔ جس میں ادارہ جامعہ بعثت کے مولانا حافظ سید حیدر نقوی اور ادارہ التنزیل کے چیئرمین ڈاکٹر علی عباس نقوی نے خطاب کیا۔ عہد با قرآن کے نام سے اس ورکشاپ کا مقصد ماہ صیام میں کلامِ الہیٰ سے عہد و پیمان باندھنا تھا۔ قرآنی معارف اور مفاہیم کو بالاخص نونہالوں تک پہنچانے کے لیے پرکشش اور موثر بنا کر پیش کیا گیا۔ مرحلہ با مرحلہ قرآن فہمی سیریز کورسز بذریعہ زوم ایپ منعقد کروائے گئے۔ جس میں بچوں کو قرآن کے مفاہیم ازبر کروائے گے اور تدبر قرآن کی روش پہلی دفعہ بچوں کے انداز میں بہترین اساتذہ کے ذریعے پیش کی گئی۔

*تفیسرِ قرآن کریم* کے نام سے جامعہ فاطمیہ میں تدبر سورة فجر کی کلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ معلمہ خانم رباب رضوی صاحبہ نے تفسیر سورة فجر کے ساتھ فقہی احکام اور مہدوی سماج کی ذمہ داریوں پر تفصیلی گفگتو کی۔ ورکشاپ کے اختتام پر بہترین طالبات میں تقسیمِ انعامات کی تقریب بروزِ ولادت امام حسنؑ منعقد کی گئی۔ ادارہ التنزیل کے زیرِ سایہ یوسفِ زہراء ٹیم کی خدمات کو سراہا گیا۔ تدبر قرآن کی روش کو برقرار رکھتے ہوئ *آنلائن تدبر سورة فجر* کی کلاس منعقد کی گئی، جس میں ادارہ التنزیل کے چیئرمین ڈاکٹر علی عباس نقوی نے خصوصی خطاب کیا۔ تدبر کے مراحل اور غور و فکر کی عملی مشقوں پر غور کیا گیا۔ آیات کے مقاصد کو اپنے انفرادی اور اجتماعی امور میں اپنانے کے لیے حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے سنہرے اصول پیش کیے گئے۔ کلامِ الہیٰ جس میں ہر خشک و تر کا علم ہے، اس کا ہماری عملی زندگیوں میں نفاذ تدبرِ قرآن کے ذریعے ممکن ہے۔ *دورہ قرآن کریم* کے نام سے ماہ رمضان میں روزانہ ایک پارہ کی تلاوت (ترتیل) کا اہتمام کیا گیا، جس میں قاری سید انور ہاشمی اور قاری سید شاکر موسوی نے خوبصورت لحن میں کلامِ الہیٰ پیش کیا۔