0
Friday 21 May 2021 09:23

دین کے نام پر دھوکہ

دین کے نام پر دھوکہ
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے بعض یورپی ممالک کے دورے کے دوران ویٹکن کا دورہ کیا ہے اور کیتھولک عیسائیوں کے سب سی بڑے مذہبی رہنماء پاپ فرانسس سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ نے جہاں فلسطینی عوام کے خلاف مسلط کردہ سخت صورتحال سے متعلق پاپ فرانسس کے مثبت موقف کو سراہا، وہاں مختلف موضوعات من جملہ ویکیسن کی فراہمی میں تعصب اور ایران کے عوام کے خلاف امریکہ کی طالمانہ پابندیوں و ادیان الہیٰ میں مشترکہ اخلاقی اقدار جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ الہیٰ ادیان میں موجود انسانی اقدار اور تعلیمات نسل پرستی، تعصب، دہشت گردی، انتہاء پسندی اور دین مخالف نظریات کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ الہیٰ ادیان میں موجود ان عظیم صفات اور صلاحیتوں سے کما حقہ استفادہ نہیں کیا جاتا۔

عالمی سطح پر موجودہ حالیہ چیلنجوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مختلف آسمانی ادیان کے علماء اور دانشور نفرت انگیز اقدامات اور تشدد پسند نطریات و اقدامات کی پرزور مذمت کریں اور انسانی حقوق کی پامالی کو روکنے کے لیے عملی اقدامات انجام دیں۔ الہیٰ ادیان کے میدان عمل میں آنے کی دو حوالوں سے خصوصی اہمیت ہے، ایک تو بڑی واضح ہے کہ اس سے ادیان کی صحیح شناخت میں مدد ملے گی اور دین اور معنویت میں کی جانے والی تحریف کا بھی عوام الناس کو ادراک ہو جائے گا۔ ادیان الہیٰ کے افکار و نظریات جب سامنے آئیں گے تو تحریف کرنے والوں اور ان کے حقیقی افکار و نظریات بھی برملا ہو جائیں گے، الہیٰ و معنوی اقدار و تعلیمات کے سامنے آنے سے دنیا میں موجود انتہاء پسندی، تشدد اور اس کے پیچھے پوشیدہ عوامل اور مقاصد کو بھی سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔

اس وقت دنیا دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہے، ایک وہ گروہ ہے جس نے دہشت گردی، تشدد اور جنگ و خون ریزی کو جنم دیا ہے اور اس کی مسلسل پشت پناہی و حمایت بھی کر رہا ہے اور اسے دوسرے ممالک پر مسلط بھی کر رہا ہے، جبکہ دوسرا گروہ اس جنگ و خونریزی او دہشت گردی و تشدد کا شکار اور قربانی کی بھینٹ چڑھنے والا ہے۔ اس تناظر میں مختلف الہیٰ ادیان کے درمیان ہم فکری، ہم آہنگی اور گفتگو کی اشد ضرورت ہے۔ الہیٰ ادیان کی یہ قربتیں مختلف اقوام اور ممالک کے درمیان جہاں غلط فہمیوں کو دور کرنے کا باعث بنیں گی، وہاں ان عناصر کی جو مختلف دینی و ثقافتی و نسلی امتیازات و تعصبات کو ہوا دیکر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ناکام و نامراد بنایا جا سکتا ہے۔ ادیان کے درمیان گفتگو اور ڈائیلاگ دور حاضر کی بنیاید ضرورتوں میں سے ایک ہے۔

یہ گفتگو اور قربت عالمی سطح پر امن و صلح اور سیاسی و سماجی استحکام کا باعث بنے گی اور انتہاء پسندی، تشدد اور بنیاد پرستی کے انسداد میں موثر واقع ہوگی۔ ادیان کے درمیان رابطوں میں اضافہ ایک ایسا قدم ہوگا، جو سماجی بہبود کے نئے راستوں کو کھولنے کا باعث بنے گا۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ دنیا کو اس وقت دینی و ثقافتی سفارتکاری کی اشد ضرورت ہے۔ اسلام اور الہیٰ ادیان کے بارے میں غور و فکر وہ حقیقت ہے، جو انسانیت کی تقدیر کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور کائنات کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنانے میں بنیادی و اساسی کردار ادا کرسکتی ہے۔ آج کی دنیا کو انتہاء پسندی اور نسل پرستانہ نطریات نے اپنے پنجے میں لیا ہوا ہے، دنیا کے مختلف مافیاز جن کا دین اسلام سے یا کسی دوسرے آسمانی دین سے دور دور تک کوئی تعلق بھی نہِیں ہے، لیکن وہ مذہبی جذبات اور دینی تعصبات سے سوئے استفادہ کرتے ہوئے اپنے مذموم اہداف حاصل کرتے ہیں۔

فلسطین کا مسئلہ ہو یا داعش کی دہشت گردی، ان دونوں موضوعات سے کئی ایسے عناصر نے بھرپور استفادہ کیا ہے، جن کا دین و مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ماضی میں افغانستان میں طالبان اور القاعدہ سے اور اب داعش کے ذریعے جو سیاسی و اقتصادی فوائد اٹھائے گئے یا اٹھائے جا رہے ہیں، ان کا کسی دین سے تعلق جوڑا جا سکتا ہے۔ داعش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ترکی نے چوری کے تیل سے اپنی گرتی اقتصاد کو سنبھالا دیا۔ افغانستان میں بدامنی سے ڈرگ مافیا جو فائدہ اٹھایا، اسے کس دین یا مذہت کے کھاتے میں ڈالا جا سکتا ہے۔ آسمانی ادیان میں تحریف کے نتیجے میں عیسائیت، یہودیت اور اب اسلام میں جو انحرافی افکار و نظریات سامنے آ رہے ہیں، اس کا حقیقی دینی تعلیمات سے تعلق جوڑنا عظیم ظلم ہے۔

آج جتنے انحرافی مکاتب دنیا میں سماجی و سیاسی مشکلات کا باعث بن رہے ہیں، اس میں ایک بڑا انحرافی مکتب صہیونی مکتب بھی ہے۔ صہیونی پروٹوکول کا مطالعہ کرنے نیز فلسطین میں غاصب صہیونی حکومت کے قیام سے لے کر آج تک اس غاصب ریاست کے افکار و نظریات جو سامنے آئے ہیں، اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ "غلبہ کی جنگ" کو دین اور معنویت کے نام پر لڑے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آج صہیونی حکومت جس طرح فلسطین میں مظلوم و محروم و محصور فلسطینی باشندوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنا رہی ہے، اس میں یہودیت کے بڑے اور تحریف شدہ عقائد و تعلیمات کو بھی استعمال کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ دنیا کا کوئی آسمانی دین انسانیت کے قتل عام اور عام شہریوں کو نیست و نابود کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
خبر کا کوڈ : 933668
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش