0
Monday 7 Jun 2021 05:07

بحریہ ٹاؤن میں پرتشدد احتجاج، مظاہرہ کس نے منعقد کیا تھا؟

بحریہ ٹاؤن میں پرتشدد احتجاج، مظاہرہ کس نے منعقد کیا تھا؟
رپورٹ: ایم رضا

کراچی کی سپر ہائی وے پر واقع بحریہ ٹاؤن میں مظاہرین نے حملہ کرتے ہوئے کئی دکانوں اور گاڑیاں کو آگ لگا دی۔ پولیس حکام کے مطابق مظاہرین کو منتشر کردیا گیا ہے تاہم آگ لگنے کی وجہ سے کروڑوں کا سامان جل گيا ہے۔ مظاہرین نے صبح سے ہی دھرنا دے رکھا تھا جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پولیس صبح سے ہی سوسائٹی میں تعینات تھی۔ مظاہرین گیٹ پر لگے کنٹینرز کو عبور کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ شروع کردی۔ اس دوران مظاہرین نے دکانوں، موٹر سائیکلوں، گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی جبکہ اے ٹی ایم مشینوں کو توڑ کر رقم بھی نکال لی گئی۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر شیلنگ کی گئی جس کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ مظاہرین کو حراست میں لے کر متعلقہ تھانے منتقل کیا گیا ہے۔ مظاہرین گزشتہ روز سے بحریہ ٹاؤن کے باہر موجود تھے۔ مظاہرین نے کہا تھا کہ اگر انکے مطالبات پورے نہ کئے گئے تو سوسائٹی کے اندر داخل ہوجائیں گے۔ واقعے سے متعلق بحریہ ٹاون کے رہائشی نبیل نے میڈیا ذرائع کو بتایا کہ رہائشیوں کی حفاظت کے لئے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے کافی تعاون کیا ہے البتہ مرکزی دروازے کے قریب موجود لوگوں کی املاک کو کافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ابھی ہمیں یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ باہر جانے کا راستہ کھلا ہے یا نہیں کیونکہ صبح لوگوں نے اپنے دفاتر کو بھی جانا ہے۔

احتجاجی مظاہرہ کس نے منعقد کیا؟
بحریہ ٹاؤن کی جانب سے گوٹھوں کی زمینیں ہتھیانے پر صوبے کی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد سندھ ایکشن کمیٹی نے مظاہرے کی کال دی تھی۔ کمیٹی میں قادر مگسی، جلال محمود شاہ، ایاز لطیف پلیجو اور دیگر سندھی قوم پرست رہنما شامل ہیں۔ اس طرح کے متعدد مظاہروں کی قیادت کرنے والی سندھ انڈیجینئس رائٹس الائنس نے بھی مظاہرے کی حمایت کی تھی۔ سندھ انڈیجینئس رائٹس الائنس کے حفیظ بلوچ نے میڈیا کو بتایا کہ جیسے ہی احتجاج پرتشدد ہوگیا تو ہم نے اپنے تمام کارکنان کو واپس بلا لیا تھا اور وہاں جو کچھ ہوا اس میں ہم شریک نہیں تھے البتہ سندھ ایکشن کمیٹی کے ممبر اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ اتحاد گذشتہ 8 سالوں سے مقامی لوگوں کی اراضی کو بچانے کے لئے کوشاں ہے۔

حفیظ بلوچ کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے افسران اکثر ہی گوٹھوں کو دورہ کرتے ہیں اور وہاں کے رہائشیوں کو جگہ خالی کرنے کا کہتے ہیں، افسران اراضی کا متبادل دینے کی بھی پیشکش کرتے ہیں لیکن مقامی لوگ کسی قسم کی پیشکش لینے سے انکاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نور محمد گبول گوٹھ، عثمان اللہ رکھیو گوٹھ، ہادی بخش گبول گوٹھ اور عبد اللہ گبول گوٹھ میں اراضی پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بحریہ ٹاؤن ان اراضی کے علاوہ کمال جوکھیو، فیض گبول امیرالدین گبول کے زمینوں پر بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

قادر مگسی کا مؤقف
دوسری جانب سندھ ایکشن کمیٹی کے قادر مگسی نے کہا ہے کہ تشدد میں ملوث افراد کا مظاہرین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ یہ بحریہ ٹاؤن کے اپنے لوگ تھے جنہوں نے جان بوجھ کر احتجاج کو تشدد کی طرف موڑا، ہم پرامن دھرنا دے رہے تھے اس لئے سندھ ایکشن کمیٹی کا بحریہ ٹاؤن میں ہونے والے تشدد سے کوئی تعلق نہیں۔ قادر مگسی نے بتایا کہ پولیس نے ایک درجن کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا ہے جن کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دھرنے کا انعقاد قریبی دیہات کے رہائشیوں نے کیا تھا جن کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کو اپنی زمینیں دینے پر انہیں مجبور کیا گیا تھا۔ بحریہ ٹاؤن اراضی کے حصول کے لئے 2015ء میں سندھ انڈیجینئس رائٹس الائنس تشکیل دی گئی تھی جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ملیر کے علاقے میں دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

قادر مگسی نے کہا کہ اتحاد کی سربراہی سلیم بلوچ نے کی تھی جس کی حمایت اس وقت کے وزیر مملکت برائے مواصلات ایم این اے حکیم بلوچ، ملیر کے پی ایس 129 کے ایم پی اے حاجی شفیع جاموٹ، مؤرخ گل حسن کلمتی، ملیر کے جام عبد کریم، معروف کارکن یوسف مستی خان اور سابق ناظم خدا ڈنو شاہ نے کی۔ اس وقت انہوں نے اس بات کی دلیل دی تھی کہ سپریم کورٹ نے 2011ء میں حکومت کو یہ حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی زمین نجی اداروں کو الاٹ نہیں کرسکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے احکامات
واضح رہے کہ مئی 2018ء میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بحریہ ٹاؤن کراچی کو غیر قانونی طور پر اراضی دی تھی۔ سندھ حکومت نے ایم ڈی اے کو رہائشی اسکیم بنانے کے لئے اراضی الاٹ کی تھی۔ عدالت نے بحریہ ٹاؤن کو ہاؤسنگ اسکیم میں کوئی پلاٹ یا اپارٹمنٹ بیچنے سے بھی روک دیا تھا لیکن ایم ڈی اے نے پھر بھی بحریہ ٹاؤن کے ساتھ اراضی کا تبادلہ کیا۔

بحریہ ٹاؤن کیس کا پس منظر
گزشتہ برس 4 مئی کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ملک ریاض کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا جبکہ بحریہ ٹاؤن اراضی سے متعلق کیسز پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے معاملہ نیب کو بھیجنے اور 3 ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے ساتھ اراضی کا تبادلہ غیرقانونی ہے۔ اس لئے حکومت کی اراضی حکومت کو واپس کی جائے جبکہ بحریہ ٹاؤن کی اراضی بحریہ ٹاؤن کو دی جائے۔ عدالت کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا تھا جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی گئی کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لئے خصوصی بینچ تشکیل دیں۔

دوسری جانب عدالت نے اپنے ایک اور فیصلے میں اسلام آباد کے قریب تخت پڑی میں جنگلات کی زمین کی از سر نو حد بندی کا حکم دیا اور کہا کہ تخت پڑی کا علاقہ 2210 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے، لہٰذا فاریسٹ ریونیو اور سروے آف پاکستان دوبارہ اس کی نشاندہی کرے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کو جنگلات کی زمین پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا اور مری میں جنگلات اور شاملات کی زمین پر تعمیرات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مری میں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مزید تعمیرات کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں عدالت کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں دیئے گئے فیصلے پر عمدرآمد کے لئے ایک خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

اس کیس میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اپنی زمین کو قانونی دائرے میں لانے کے لئے پہلے 250 ارب روپے کی پیش کش کی تھی جسے مسترد کردیا تھا، جس کے بعد 16 ہزار ایکڑ زمین کے عوض 358 ارب روپے دینے کی پیشکش کی گئی تاہم اسے بھی عدالت نے مسترد کردیا تھا۔ بعد ازاں بحریہ ٹاؤن نے کراچی کے منصوبے کے لئے 405 ارب روپے کی پیش کش کی تھی لیکن عدالت نے اس پیش کش کو بھی مسترد کردیا جس پر ملک ریاض نے پیشکش مزید بڑھا کر 460 ارب کردی۔ ایک موقع پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملک ریاض سے ایک ہزار ارب کا مطالبہ کیا تھا مگر ملک ریاض نے کہا کہ ان کے پاس اتنی دولت نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ : 936666
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش