0
Wednesday 9 Jun 2021 15:45

نصابِ تعلیم یا بچوں کے عقائد پر ڈاکہ

نصابِ تعلیم یا بچوں کے عقائد پر ڈاکہ
تحریر: کفایت علی رضی

پاکستان کی آبادی کی تبدیلی پر کام ہو رہا ہے۔ ایک اقلیت کو اکثریت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ تیس سالوں سے مسلسل ایک اقلیتی فرقے کے لوگ دیگر مذاہب و مسالک پر شب خون مار رہے ہیں۔ ریاستی اداروں میں ان کے سہولتکار موجود ہیں اور ایک برادر اسلامی ملک کے ریال اور امریکی ڈالر اُن کے قدموں میں ہیں۔ اب اس مقصد کے حصول کیلئے پاکستان کے تعلیمی اداروں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ یکساں تعلیمی نصاب کے نام پر اکثریتی مسلمانوں کے عقائد کو حذف کرکے ایک مخصوص اقلیت کے عقائد و نظریات کو نصابِ تعلیم میں داخل کر دیا گیا ہے۔ مقصد واضح ہے کہ گولی کے بعد قلم کے ذریعے لوگوں کے عقائد تبدیل کرکے اقلیتی فرقے کی آبادی کے تناسب میں اضافہ کرنا ہے۔

یہاں پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ ایسا کرنا آئین پاکستان اور دینِ اسلام دونوں کی رو سے ناجائز ہے۔ اسلام نے اپنے دورِ حکومت میں کبھی کسی مذہب کے پیروکار کو اپنے عقائد بدلنے پر مجبور نہیں کیا۔ ہمارے سامنے دورِ نبوی (ص) کی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ غیر مسلم لوگوں کے مسائل کا حل ان کے مذہب کے مطابق بتایا گیا اور یہی ہمارے لیے نمونہ ہے۔ جہاں تک بات ہے ہمارے ملک کی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ہر مذہب کے عقائد کے اظہار کا قانون موجود ہے۔ اقلیتوں کے لیے تو ہر فورم پر مخصوص نشستیں ہیں، جن پر اقلیتوں کو موقع دیا جاتا ہے کہ اگر کوئی قانون ان کے لیے اذیت کا سببب ہو تو وہ اس کے لیے آواز اٹھائیں۔ اب دیکھنا یہ بھی ہے کہ کیا ریاست کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ لوگوں کے مذہبی عقائد طے کرے۔ مذہب کے اختیار کرنے میں ہر شخص آزاد ہے۔ ریاست لوگوں کی مذہبی آزادی کی محافظ ہوتی ہے۔ اگر ریاست لوگوں کے بچوں کے عقائد پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرے گی تو اس سے لوگ عدمِ تحفظ کا احساس کریں گے۔

ان دنوں ریاست پاکستان کے نام پر اسلام میں تحریف اور عوام کے عقائد پر ڈاکہ ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دراصل اسلام نے ہمیں دو طرح کے احکام دیئے ہیں، جن پر عمل پیرا ہونا ہے۔ ایک قسم کے احکامات ایسے ہیں، جن کے لیے ایک لائحہ عمل اور حد مقرر کر دی گئی ہے۔ مثلاََ نمازوں کی تعداد کہ پانچ نمازیں مقرر کر دی گئیں۔ دوسری قسم کے احکامات کے لیے سمت کا تعین کیا گیا ہے، یعنی ہم نے ایک سمت پر رہتے ہوئے اسے ادا کرنا ہے۔ مثلاً ہم نے نماز کی تعداد کی مثال دی جو کہ مقرر کر دی گئی، اب نماز کو ادا کرنے میں ہمارے پاس ایک سمت ہے، مثلاً کہ نماز ادا کرنے کے لیے جگہ پاک ہو، لہذا اب وہ ہر پاک جگہ چاہے گھر کی ہو یا سکول کی\، کالج کی یا دفتر کی، وہاں نماز ادا کی جا سکتی ہے۔

اب حکومتی اقدامات کو دیکھئے تو نصاب تعلیم کی کتب میں درود شریف کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وہ درود کہ جو مسلماتِ دین میں سے ہے۔ یہ سراسر مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ دہی ہے۔ اسلامی مسلمات کو تبدیل کرنا یعنی اسلام میں تحریف اور اسلام کبھی بھی تحریف کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اب یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ دنیا میں جتنے بھی مسلم ممالک ہیں، ان میں سے پاکستان ہی مذہب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیوں کرتا ہے۔؟ بات یہ ہے کہ باقی اسلامی ممالک کے بسنے والے ڈالر اور ریال نیز اپنی اقتصادی مجبوریوں کیلئے اپنے عوام کے دین کا سودا نہیں کرتے جبکہ ہمارے ہاں دین و مذہب بھی بکتا ہے۔ سو ہماری جانوں کا سودا ہوچکا ہے، ہمارے بچوں کے عقائد کی قیمت لگ چکی ہے اور اب ہماری آئندہ نسلیں کسی نئی جہاد انڈسٹری کیلئے تیار کی جا رہی ہیں۔
https://b2n.ir/a31967 
خبر کا کوڈ : 937157
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش