0
Wednesday 9 Jun 2021 19:26

شیعہ ہراسی بھی ایک حقیقت ہے

شیعہ ہراسی بھی ایک حقیقت ہے
تحریر: توقیر کھرل

کینیڈا میں اتوار کی شام پیش آنے والے ایک واقعے میں 20 سالہ مقامی شخص نے اپنی گاڑی ایک خاندان پر اس وقت چڑھا دی تھی، جب وہ اپنے گھر کے باہر چہل قدمی کر رہے تھے۔ اس واقعے میں 4 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس سانحہ کے بعد کینیڈا کے وزیراعظم ٹروڈو نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اسلامو فوبیا حقیقت ہے۔ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ نسل پرستی اور نفرت اس ملک میں نہیں ہے تو میں ان کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ ہسپتال میں ایک بچے کو ایسے پرتشدد واقعے کی وضاحت کیسے پیش کریں گے؟ آپ کیسے ان خاندانوں سے نظریں ملا کر کہہ سکتے ہیں کہ اسلامو فوبیا ایک حقیقت نہیں ہے۔؟ اس واقعے پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کو مغربی ممالک میں پھیلنے والے اسلامو فوبیا کی ایک کڑی قرار دیا۔

وزیراعظم کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ جب کوئٹہ کے علاقہ میں شیعہ شناخت پر 11 شیعہ ہزارہ کو قتل کیا گیا تو لواحقین نے وزیراعظم کی کوئٹہ آمد کا مطالبہ کیا تھا، جس پر وزیراعظم نے بیان دیا کہ وہ شہداء کی تدفین کے بعد کوئٹہ آئیں گے، کوئی بھی وزیراعظم کو ایسے بلیک میل نہیں کرسکتا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر متعدد صارفین نے وزیراعظم کے بلیک میلنگ کے بیان کو یاد کرتے ہوئے ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ پاکستان میں شیعہ شناخت پر عرصہ دراز سے قتل کیا جار ہا ہے، مگر کوئی پاکستان میں شیعہ ہراسی کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہے اور شیعہ کلنگ کی مذمت نہیں کی جاتی ہے۔

صحافی حیدر جاوید سید نے وزیراعظم کو جوابی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ "سر چند دن قبل جڑانوالہ ضلع فیصل آباد میں دو شیعہ مسلمان نمازیوں کو مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے قتل کیا گیا، آپ کی طرف سے کوئی تعزیت نہیں آئی۔" سوشل میڈیا کے صارفین نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ یورپ میں اگر اسلامو فوبیا ہے تو پاکستان میں کونسا فوبیا ہے، یہاں اقلیتوں کو قتل کیا جاتا ہے اور ظالم کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے، یہ ظلم سے بڑا ظلم ہے۔ گذشتہ دنوں برطانوی نشریاتی ادارے نے شیعہ ہراسی کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی، جس میں یہ بتایا گیا کہ کیسے شیعہ بچوں سے سکول اور گلی محلے میں ان کے فرقہ سے متعلق مختلف سوالات کئے جاتے ہیں، جو شیعہ ہراسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان پاکستان کی آبادی کا تقریبا 20 فیصد حصہ ہیں اور یہ لوگ اکثر خود کو حملوں اور توہینِ مذہب جیسے الزامات میں گھرا ہوا پاتے ہیں۔

رواں سال جنوری اور گذشتہ سال یعنی 2020ء میں کئی ایسے واقعات پیش آئے ہیں، جہاں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے کھلِ عام فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف مظاہرے کیے۔ اس قسم کے زیادہ تر مظاہرے کراچی، کوئٹہ اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں دیکھنے میں آئے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کے ایک اندازے کے مطابق 2001ء سے لے کر آج تک پاکستان میں 2600 شیعہ افراد مختلف حملوں اور ٹارگٹ گلنگ میں شہید ہوئے ہیں۔ شیعہ شناخت پر قتل کے حوالے سے کتاب "شیعہ نسل کشی حقیقت ہے فسانہ نہیں" عامر حسینی نے مرتب کی ہے۔ جس میں شیعہ کلنگ کی وجوہات اور قتل ہونے والوں کی تعداد کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والوں پر حملوں کی ایک بڑی وجہ اس مسلک کے خلاف نفرت آمیز مواد اور دقیانوسی خیالات ہیں، جو معاشرے کے ایک طبقے میں رائج ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق دستیاب نفرت آمیز مواد ان حملوں کا جواز بتایا جاتا ہے، جو اس کمیونٹی کی مساجد اور لوگوں پر کالعدم تنظیموں یا دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے بارے میں میڈیا اور سول سوسائٹی نے جس بیانیہ کو فروغ دیا ہے، اس میں شیعہ نسل کشی کو بین المسالک لڑائی بنا کر پیش کیا جاتا ہے یا شیعہ کلنگ کے واقعہ کو پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے دوسرے واقعات کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ عام طور پر شیعہ کی پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ، امام بارگاہوں اور عاشورہ محرم کے جلوسوں، مجالس پر حملوں کو شیعہ سنی لڑائی کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی جا رہی ہے۔ شیعہ ہراسی کو حقیقت قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا کے صارفین نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں آئے روز شیعہ کلنگ ہوتی ہے، لیکن اس کے خلاف اسی مسلک کے افراد احتجاج کرتے ہیں، جبکہ کینیڈا میں قتل ہونے والے مسلمانوں کے قتل کے بعد اس ظلم کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ اگر کینیڈا کے وزیراعظم کو اپنے ملک میں اسلامو فوبیا کی حقیقت نظر آتی ہے اور وہ اس سے انکار نہیں کر پا رہے ہیں تو پاکستان میں عرصہ دراز سے شیعہ شناخت پر نسل کُشی اور شیعہ ہراسی سے انکار کرکے حقیقت سے انکار کیوں کیا جا رہا ہے۔؟ حکومت اور عوام کی طرف سے قتل کی مذمت کیوں نہیں کی جاتی۔؟
خبر کا کوڈ : 937201
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش