0
Thursday 10 Jun 2021 07:37

اسلامو فوبیا کی ایک اور مثال

اسلامو فوبیا کی ایک اور مثال
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

کینیڈا میں ایک مسلمان خاندان کے قتل پر مذمتوں کا سلسلہ جاری ہے اور اسے اسلامو فوبیا کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کینیڈا کے صوبے انٹاریو کے شہر لندن میں اتوار کی شام کینیڈین شہری نے سڑک عبور کرنے والے ایک پاکستانی نژاد مسلم خاندان کو جان بوجھ کر اپنے ٹرک کے نیچے روند ڈالا۔ اس حملے میں مذکورہ خاندان کے چار افراد جاں بحق اور ایک نو سالہ بچہ شدید زخمی ہوا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم نے اس حملے کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ وزیراعظم جسٹسن ٹروڈو نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ملک میں سرگرم دائیں بازو کے انتہاء پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ کینیڈین وزیراعظم نے ایسے عالم میں اس واقعہ کو دہشت گردی قرار دیا ہے کہ یہ واقعہ ایک مسلمان خاندان کے خلاف انجام پایا ہے اور اسلامو فوبیا کی بدترین مثال ہے۔ کینیڈا کے میڈیا کے مطابق اس وحشیانہ حملے کا ذمہ دار ایک بیس سالہ کینیڈین شہری تاتھانیل ولمن (Nathaniel Veltman ) ہے، جس نے مذہبی جذبات کے تحت ایک مسلمان خاندان کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا ہے۔

حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ قتل کی اس کارروائی کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اس حملے کو کینیڈا میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔ کینیڈا کی مسلم کمیونٹی کے ادارے NCOCM (National council of Canadian Muslim) کے مطابق 2015ء سے 2019ء تک مسلمانوں خلاف تین سو حملے کئے گئے ہیں، جن میں تیس سے زیادہ واقعات میں شدید جسمانی تشدد روا رکھا گیا ہے۔ ان واقعات میں 2017ء میں ایک مسجد میں ہونے والا واقعہ بھی شامل ہے، جس میں چھ نمازی جاں بحق ہوئے تھے۔ حقیقیت میں مغرب من جملہ کینیڈا میں اسلامو فوبیا کی کارروائیاں روز بروز نیا رخ اختیار کیے جا رہی ہیں۔ اس میں اسلام و مسلمین کے خلاف نفرت و تشدد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کارروائیوں کے پیچھے سیاسی، سماجی اور تشہیراتی عناصر محسوس کئے جا رہے ہیں۔

یورپی معاشروں میں اسلامو فوبیا منصوبہ بندی اور بغیر منصوبہ بندی دونوں طریقوں سے بڑھ رہا ہے۔ اسلام کا چہرہ بگاڑ کر اور اسلامی تعلیمات میں تحریف کرکے عام شہریوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف مختلف طرح کی پابندیاں اور رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں۔ دوسری طرف یورپی حکام بھی اسلامو فوبیا کے بارے میں واضح موقف اپنانے کی بجائے ایسا انداز اپنا رہے ہیں، جس سے اسلام دشمنی میں کمی کی بجائے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرامپ کا نام خصوصی طور پر لیا جا سکتا ہے، جس کے دور صدارت میں اسلامو فوبیا میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس وقت یورپی ممالک میں رہنے والے مسلمان اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔ مغرب کا میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا جس انداز سے اسلامی تعلیمات کو مسخ کر رہا ہے، اس کا منطقی نتیجہ دین اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا۔

البتہ یہاں پر مسلمانوں کو اپنی غلطیوں کا بھی اعتراف کرنا ہوگا۔ اسلام کے پردے میں داعش، القاعدہ، طالبان، بوکو حرام اور الشباب سمیت کئی گروہ دین اسلام کا مسخ شدہ چہرہ پیش کرنے میں نمایاں ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ ان گروہوں کو امریکہ اور سامراجی طاقتوں نے ہی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے تخلیق کیا ہے، لیکن بدقسمتی سے یورپی معاشروں میں ان کا نام اسلام کے ساتھ ملا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اب جبکہ کینیڈا میں بھی اسلامو فوبیا کی وجہ سے مسلمانون کے لیے حالات تنگ ہو رہے ہیں، مسلمان اداروں کو اسلام و مسلمین کا حقیقی روشن چہرہ پیش کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیئے۔ اگر حقیقت یورپی معاشرے بالخصوص نوجوان نسل تک نہ پہنچی تو مستقبل تاریک سے تاریک تر ہوتا جائے گا اور دائیں بازو کی انتہاء پسند یورپی جماعتیں اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے اسلامو فوبیا کو ہوا دیتی رہیں گی۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اسی وجہ سے یورپی نوجوانوں کے نام دو خط تحریر فرمائے تھے، تاکہ مغرب کی نئی نسل حقائق سے آشنا ہوسکے۔ رہبر انقلاب تحریر کرتے ہیں: "یہ بات درست ہے کہ آج دہشت گردی ہمارا اور آپ کا مشترکہ مسئلہ ہے، لیکن آپ لوگوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ جس بدامنی اور اضطراب کا حالیہ واقعات کے دوران آپ لوگوں کو سامنا کرنا پڑا ہے، ان مشکلات میں اور برسہا برس سے عراق، شام، یمن، اور افغانستان کے لوگوں نے جو مشکلات برداشت کی ہیں، ان میں دو اہم فرق پانے جاتے ہیں۔ پہلا فرق یہ ہے کہ اسلامی دنیا مختلف زاویوں سے نہایت وسیع اور بڑے پیمانے پر اور ایک بہت لمبے عرصے تک تشدد کی بھینٹ چڑھی ہے۔ دوسرا یہ کہ افسوس کہ اس تشدد کی ہمیشہ بعض بڑی طاقتوں کی جانب سے مختلف اور موثر انداز میں حمایت کی جاتی رہی ہے۔ آج شاہد ہی کوئی ایسا فرد ہوگا جو القاعدہ، طالبان اور ان سے وابستہ منحوس گروہوں کو وجود میں لانے، ان کی تقویت اور ان کو مسلح کرنے کے سلسلے میں امریکہ کے کردار سے آگاہ نہ ہو۔

اس براہ راست حمایت کی وجہ سے تکفیری دہشت گردی کے جانے پہچانے حامی پسماندہ ترین سیاسی نظام کے حامل ہونے کے باوجود ہمیشہ یورپ کے اتحادیوں کی صف میں کھڑے ہوتے ہیں اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب خطے میں آگے کی جانب گامزن جمہوریت سے جنم لینے والے ترقی یافتہ اور روشن ترین نظریات کو بڑی بے رحمی کے ساتھ کچلا جاتا ہے۔ اسلامی دنیا میں بیداری کی تحریک کے ساتھ یورپ کا دوہرا رویہ یورپی پالسییوں میں پانے جانے والے تضادات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بنابرایں میں آپ نوجوانوں سے تقاضا کرتا ہوں کہ آپ لوگ درست شناخت اور غور و خوض کی بنیاد پر اور تلخ تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی دنیا کے ساتھ عزت پر مبنی اور صحیح اشتراک عمل کی بنیاد رکھنے کی تیاری کریں۔
"

بہرحال یورپی ممالک میں دائیں بازو کی انتہاء پسند جماعتیں اور پاپولیسٹ سیاستدان عوام کی رائے اور ووٹ حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کے خلاف تند و تیز زبان استعمال کر رہے ہیں اور یورپ میں بسنے والے مسلمانوں کو دہشت گردی، بے روزگاری اور دوسری سماجی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ مساجد پر حملے، مذہبی مراکز کو نذر آتش کرنا، لفظی و فزیکل حملے وغیرہ اب مسلمانوں کے خلاف روز مرہ کا معمول بنتے جا رہے ہیں اور بعض رپورٹس کے مطابق مسلمانوں سے ملتے جلتے اور معمولی شباہت رکھنے والے ایشیائی شہریوں کو بھی مسلمان سمجھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مغرب کے تمام تر دعووں کے باوجود اسلامو فوبیا اور اسلام دشمنی کے اثرات تعلیمی اور محکمہ جاتی ماحول پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف تعصب سے کام لیا جا رہا ہے۔ بہرحال کینیڈا کے وزیراعظم نے انتہاء پسندوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے، لیکن چونکہ یہ انتہاء پسندی اور دہشت گردی مسلمانوں کے خلاف ہے، لہذا کینیڈین وزیراعظم ماضی کی طرح اس واقعہ پر بھی کوئی خاطر خواہ اقدام انجام نہیں دیں گے، کیونکہ وہ دائیں بازو کی مسلمان دشمن جماعتوں کو ناراض نہیں کرسکتے، کیونکہ اس سے ان کا ووٹ بینک متاثر ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 937301
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش