0
Friday 11 Jun 2021 08:30

فلسطین خواب نہیں حقیقت ہے

فلسطین خواب نہیں حقیقت ہے
تحریر: توقیر کھرل

گذشتہ ماہ گیارہ روز جنگ نے ایک بار اسرائیلی مظالم کو آشکار کیا ہے، فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے تصور کو اور بھی مضبوط کیا ہے۔ دنیا بھر میں فلسطینیوں پر ہونے والے مطالم کے خلاف ایک بڑی تعداد نے احتجاج میں حصہ لیا اور اسرائیلی تسلط کی مذمت کی۔ اسرائیل کے ناجائز قیام سے ہی فلسطینی وجود حتیٰ کہ نام کو مٹانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں اور اسی کی ایک کوشش مقبوضہ فلسطین کے غزہ سمیت تمام حصہ کو ختم کرکے مکمل اسرائیلی ریاست کا قیام بھی عمل میں لانا ہے۔ مگر حالیہ مزاحمت نے صیہونیوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں اور ناجائز حکومت پر عوام نے اس بے چینی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

اسرائیل میں ہی ایک بڑے طبقہ نے جنگ کے دوران 200 سے زائد فلسطینیوں کے قتل پر بھی اعتراض کیا ہے کہ مارے جانے والے حماس کے مجاہدین کم اور غزہ کے عام شہری زیادہ تھے، آخر اسرائیل کو دفاع کے نام پر شہریوں کو مارنے کا اختیار کس نے دیا ہے۔ یہ سوال دنیا بھر کے مسلمان اٹھا رہے تھے اور اب یہ سوال اسرائیلی بھی کر رہے ہیں کہ اگر حماس نے حملے کئے تھے تو جوابی حملے بھی ان پر کرنے چاہیئے تھے، بجائے غزہ کے عوام پر۔ فلسطینی مصنفہ غدہ کرمی کہتی ہیں کہ فلسطینیوں کی کہانی کو منظرنامہ سے ہٹانا آسان نہیں ہے، البتہ اس حوالے سے ماضی میں بھی کوششیں کی گئی ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کی مثال وہ یوں دیتی ہیں کہ اسرائیل کے ناجائز قیام کے چند سال بعد 1950ء میں فلسطین کا نام بھی استعمال سے ہٹا دیا گیا تھا۔

حتیٰ کہ جب فلسطین میں ہماری زمین پر قبضہ کر لیا اور ہم لندن میں منتقل ہوگئے تھے، وہاں ایک بار بچپن میں مجھ سے پوچھا گیا کہ میں کہاں سے آئی ہوں تو میں نے لوگوں کے مزید سوالات کے جوابات کے خوف اور فلسطین کے نام کے استعمال پر پابندی کے باعث جواب دیا کہ میں پاکستان سے آئی ہوں۔ یہ کس قدر مایوس کن تھا کہ کوئی بھی ہماری کہانی سننے کو تیار نہیں تھا بلکہ ہمیں سنایا جاتا تھا کہ یہ تو یہودیوں کی سرزمین ہے اور عرب اس پر صرف بکھرے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی 1967ء کی جنگ میں فتح نے ان تلخ رویوں میں اضافہ کیا اور صہیونیوں کا فلسطین کو آبائی زمین قرار دینے کا بیانیہ اور مضبوط کیا جانے لگا تھا اور ہمیں دوسرے درجے کا انسان ثابت کرنے کا تاثر دیا گیا، ساتھ یہ تاثر بھی بڑھتا گیا کہ گویا ہم کسی اور سرزمین پر رہتے ہیں۔ اس بیانیہ کی تقویت نے ہمیں بہت مایوس کیا۔ فلسطینیوں کے نسل پرست مخالفین کا یہ رویہ تاریخ کے تناظر سمجھنے میں مجھے عرصہ لگا، کیونکہ اگر حقوق کی بات کی جائے تو فلسطنیوں کو کم حقوق ملے ہیں۔

صیہنیوں کے نسل پرست نظریہ کے مطابق یہاں اسرائیل کے قیام کی پیشن گوئی بہت پہلے کی گئی، گویا وہ اس سرزمین میں فلسطینیوں کا وجود ہی نہیں چاہتے تھے۔ صہیونیوں نے جیسے ہی فلسطین کا یہودی ریاست کے طور پر انتخاب کیا، 19 ویں صدی کے آخر میں، اس کے عرب باشندوں کو تاریخ سے ہٹ کر لکھنے کی منظم کوششیں کی گئیں۔ اس سازش کو 1875ء سے ہی کامیاب بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ایک صیہیونی شخص لارڈ شافٹس بیری نے گریٹر شام کا خواب دیکھا کہ جس میں ایک ایسا ملک ہوگا، جو پہلے سے موجود ملک کے بغیر ہوگا اور پھر ایسا ہی ہوا، فلسطین کے حصہ میں ہی اسرائیل کو بنایا گیا۔ اس عمل نے صیہونی بیانیہ کو تقویت دی۔

غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی آئے روز انسانی حقوق کی پامالیوں پر صرف اتنا ہی کہا جاتا ہے کہ یہ نسل پرستی کی بدترین مثال ہے اور بس۔ غزہ پر جیسے مظالم کئے جاتے ہیں، بمباری سے بچوں کو مارا جاتا ہے، ساری دنیا نے پچھلے ماہ دیکھا کہ کیسے اسرائیل نے ظلم ڈھایا۔ اسرائیل نے اپنے قیام سے تا دم تحریر ہمیشہ فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ ہی ڈھائے یا شہریوں کو قید کیا۔ اسرائیل اور فلسطین کے تنازعہ کا حل تب تک ممکن نہیں ہے، جب تک انصاف پر مبنی قرارداد نہیں لائی جاتی یا فلسطینیوں کو نسل پرست صیہونیوں کے مظالم سے محفوظ نہیں رکھا جاسکتا۔ اسرائیلی مظالم کا پردہ فاش کرنا ہوگا اور اس سے نمٹنا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 937443
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش