0
Friday 18 Jun 2021 16:49

پاکستان داعش کا اگلا ہدف؟

پاکستان داعش کا اگلا ہدف؟
رپورٹ: سید عدیل زیدی

عالمی دہشتگرد تنظیم داعش نے شام و عراق میں شکست کے بعد ایک بڑے منصوبے کے تحت خود کو افغانستان میں منظم کرنا شروع کیا، آغاز میں وہاں موجود دیگر دہشتگرد، شدت پسند اور جہادی گروہوں کی موجودگی کیوجہ سے اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بعض اوقات تو نوبت مسلح جھڑپوں تک آن پہنچی اور ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ خاص طور پر افغان طالبان ہرگز داعش کو افغانستان میں جگہ دینے کے حامی نہ تھے۔ موجودہ صورتحال کی بات کی جائے تو داعش کے دہشتگردوں نے خود کو افغانستان میں کافی حد تک منظم کر لیا ہے اور اس کی تنظیم سازی بھی ہوچکی ہے۔ اس خطہ میں عالمی دہشتگرد تنظیم نے ’’داعش خراسان‘‘ کے نام سے فعالیت کی۔ افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ داعش کا اگلا ہدف پاکستان ہوسکتا ہے، دہشتگرد تنظیم کے دہشتگردوں نے پاکستانی سرزمین پر بعض کارروائیاں کی تو ہیں، تاہم یہاں اب تک باقاعدہ منظم نہیں ہوسکی۔

داعش خراسان نے اب پاکستان میں اپنی فعالیت، تنظیم سازی اور دہشتگردانہ کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، جس کی ایک جھلک گذشتہ دنوں اردو زبان میں جاری کئے جانے والے پروپیگنڈا میگزین (مجلہ) ’’یلغار‘‘ کی اشاعت ہے۔ داعش خراسان کی ذیلی شاخ داعش پاکستان کی جانب سے جاری کیا گیا یہ مجلہ 30 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں 10 مضامین، ایک اداریہ اور رمضان کے بارے میں ایک تصویری مضمون شامل ہیں۔ مجلے میں پاکستان، افغانستان اور شام میں داعش کی کارروائیوں کی تفصیل موجود ہے۔ مجلے کے آخر میں قارئین کی تجاویز معلوم کرنے کے لیے ایک ای میل اور ٹیلی گرام کا ایڈریس بھی دیا گیا ہے۔ مجلے کے اداریے میں لکھا گیا ہے کہ یہ داعش کا پہلا باقاعدہ اردو مجلہ ہے۔ اردو زبان میں شائع ہونے والے اس مجلے میں سانحہ مچھ (جس میں ہزارہ پاکستانی شیعوں کو نشانہ بنایا گیا تھا) کے حوالے سے اقرار جرم کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اہل تشیع شہریوں اور قومی سلامتی کے ادارے آئی ایس آئی کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

افغانستان میں موجود رہتے ہوئے داعش نہ صرف پاکستان بلکہ چین اور ایران کیلئے بھی ایک بڑا خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ مجلہ کے سرورق (صفحہ اول) پر علامہ اقبال کا مشہور شعر ’’نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا، سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا’’ درج ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل افغان طالبان کی جانب سے بھی ’’نوائے افغان جہاد‘‘ جاری کیا گیا تھا، جبکہ القاعدہ کی طرف سے بھی ماضی میں اس قسم کے میگزین شائع کئے گئے ہیں۔ آن لائن اشاعت کے برعکس چھپا ہوا مواد ہر اس جگہ تک پہنچ سکتا ہے، جہاں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہ ہو۔ داعش کے اس اردو مجلے کی اشاعت کا مقصد سب سے پہلے پاکستان میں اپنی مزموم نظریاتی جڑوں کو مضبوط کرنا، شدت پسند و دہشتگرد طبقات تک اپنا پیغام پہنچانا، جہاد کے نام پر ماضی میں فعال رہنے والے گروہوں یا شخصیات کو اپنے ساتھ مربوط کرنا نظر آتا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں زمینہ سازی کے بعد پاکستان میں باقاعدہ بھرتیاں کرنا اور دہشتگردانہ کارروائیوں شروع کرنا ہوگا۔

داعش کی پاکستان میں یقینی طور پر پہلی ترجیح افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقے ہونگے، کیونکہ یہ دہشتگرد تنظیم اس وقت افغان علاقہ کنڑ، ننگرہار، جلال آباد اور نورستان میں فعال ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں اہلحدیث مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے شدت پسند ایک کثیر تعداد میں آباد ہیں اور داعش کے کارندے فکری و مسلکی اعتبار سے اہلحدیث ہیں۔ پاکستان کا قبائلی ضلع مہمند افغان صوبہ کنڑ سے منسلک ہے، اس کے علاوہ نورستان چترال کیساتھ اور اسی طرح جلال آباد ضلع خیبر کے قریب ہے۔ لہذا داعش کیلئے پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے یہ علاقے انتہائی آسان ہدف ہیں۔ امریکہ کے افغانستان سے رواں سال ممکنہ طور پر انخلا کے بعد داعش خطہ کیلئے اس وقت سب سے بڑے خطرے کی صورت میں موجود ہے، گذشتہ عیدالفطر کے موقع پر طالبان نے سیز فائر کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کے باوجود افغانستان میں دہشتگردانہ کارروائیاں جاری رہیں، طالبان نے ان کارروائیوں سے انکار کیا، تاہم امکان یہی ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ان کارروائیوں میں داعش ملوث ہے۔

داعش نے افغان دارالحکومت کابل میں ہزارہ شیعہ آبادی کو ماضی قریب میں متعدد مرتبہ نشانہ بنایا ہے، واضح رہے کہ جلال آباد (جہاں داعش مضبوط ہے) کابل سے قریب ہے، اسی وجہ سے اس کیلئے کابل میں حملے کرنا زیادہ آسان ہے۔ اب امریکہ رواں سال ستمبر تک افغان سرزمین چھوڑنے کا اعلان کرچکا ہے، درحقیقت امریکہ یہاں سے شکست کھا کر جا رہا ہے، اس صورتحال میں اس کی خواہش ہوگی کہ اس کے جانے کے بعد افغانستان میں حالات مزید خراب ہوں اور ایک طویل عرصہ تک خانہ جنگی رہے۔ ایسے حالات پیدا کرنے کیلئے داعش خراسان بہترین موقع فراہم کرسکتی ہے۔ امریکہ یہاں یہ تاثر چھوڑ کر جانا چاہتا ہے کہ ’’اس کی افغانستان میں موجودگی کے دوران تو حالات اتنے خراب نہیں تھے۔‘‘ درحقیقت داعش خراسان اس وقت نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کیلئے بھی ایک حقیقی اور سنگین خطرے کے طور پر موجود ہے۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو اس سنگین خطرے کو بھانپتے ہوئے ملک کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اپنی موثر منصوبہ بندی کرنا ہوگی، کیونکہ داعش طالبان سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
خبر کا کوڈ : 937497
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش