0
Saturday 31 Jul 2021 18:38

عراق سے ممکنہ امریکی انخلا اور اسکے اثرات

عراق سے ممکنہ امریکی انخلا اور اسکے اثرات
رپورٹ: عدیل زیدی

امریکی صدر جو بائیڈن نے عراق سے 18 برس بعد رواں سال کے اختتام تک اپنے تمام فوجی واپس بلاںے تاہم تربیت کار فوجی افسران وہیں موجود رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے 26 جولائی کو عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کیساتھ اوول میں ہونیوالی ملاقات میں کیا۔ اس موقع پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس سال کے اختتام تک عراق میں تمام فوجی مشنز مکمل کرلیں گے، جس کے بعد امریکی فوج کا کردار داعش سے لڑنے کے لیے عراقی فوج کو عسکری مہارت میں اضافے کے لیے تربیت، مدد اور معاونت دینے تک محدود ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ اس وقت عراق میں اڑھائی ہزار کے لگ بھگ امریکی فوجی موجود ہیں، تاہم بائیڈن نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنے امریکی فوجی وطن واپس لوٹ آئیں گے اور کتنے ‘‘نئے منصوبہ‘‘ کیلئے وہاں موجود رہیں گے۔ عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے امریکی صدر سے ملاقات سے ایک روز قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عراقی فوجی اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس کے لیے اب امریکی فوجیوں کی ضرورت نہیں رہی ہے۔

عراق میں امریکی افواج کی موجودگی کے پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو امریکی فوج نے 2003ء میں جارج ڈبلیو بش کے دور حکومت میں القاعدہ کی موجودگی اور صدام حسین کی حکومت کے خاتمہ کا بہانا بنا کر عراق پر حملہ کیا، اس دوران لاکھوں عراقی شہری جاں بحق ہوئے، تاہم بعدازاں عراق میں داعش کی موجودگی کو جواز بناکر سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے دور میں ایک بار پھر امریکی افواج نے عراق کو آگ و خون میں نہلانے میں کردار ادا کیا۔ اس دوران امریکی افواج نے داعش کے خاتمے کی بجائے عراق کے قدرتی وسائل کو لوٹا، ایران سمیت مقاوومتی بلاک کو کمزور کرنے اور مشرق وسطیٰ میں مداخلت کو بڑھانے کی کوششیں کیں تاہم اس کے برعکس داعشی فتنہ کیخلاف مقاوومتی بلاک اور عراقی عوام میدان عمل میں آئے، مزاحمتی لشکر اور ملیشیاء تشکیل دی گئیں، جنہوں نے عراق سے داعش جیسے دہشتگرد گروہ کا سر کچلا۔ عراق سمیت شام میں داعش کا قلع قمع کرنے اور خطہ میں استعماری قوتوں کے مزموم عزائم خاک میں ملانے کے ماسٹر مائنڈ ایران کی القدس بریگیڈ کے سربراہ سردار قاسم سلیمانی تھے، جنہیں گذشتہ سال جنوری میں بغداد ائیر پورٹ پر امریکہ نے اس وقت نشانہ بنایا، جب وہ سرکاری دورہ پر عراق پہنچے تھے۔
 
سردار قاسم سلیمانی کی حشد الشعبی کے کمانڈر ابو مہدی المہندس سمیت دیگر ساتھیوں سمیت شہادت نے خطہ بالخصوص عراق کی صورتحال پر اہم نقوش چھوڑے، ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے شہید سلیمانی کے قتل کا بدلہ خطہ سے امریکی انخلاء کو قرار دیا گیا، بغداد ائیر پورٹ سانحہ کے بعد امریکی فوجیوں کو عراق میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ کے موجودہ صدر بائیڈن کے عراق سے فوجی انخلاء کے اعلان کو اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ حسب توقع ہی تھا، درحقیقت امریکہ عراق سے جانے پر مجبور ہوا ہے نہ کہ اپنا فوجی مشن مکمل کرنے میں کامیاب۔ علاوہ ازیں امریکہ افغانستان سے بھی اپنا بوریا بستر تقریباً گول کرچکا ہے، قابل غور امر یہ ہے کہ امریکہ عراق سے فوجی انخلاء تو ممکنہ طور پر رواں سال کے آخر تک کرلے گا، تاہم یہ قوی امکان ہے کہ جس طرح امریکہ نے افغانستان سے اپنی افواج نکال کر وہاں کے حالات کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت خراب ہونے کیلئے فتنہ چھوڑ دیا، اسی طرح عراق میں بھی داعش کو ایک مرتبہ پھر قوت فراہم کی جاسکتی ہے، تاکہ واشنگٹن انتظامیہ دنیا کو یہ باور کراسکے کہ عراق میں حالات امریکی افواج کی موجودگی کیوجہ سے ہی بہتر ہوئے تھے، اور اب ہمارے جانے کے بعد داعش کا قدرت مند ہونا فطری تھا۔

عراقی وزیراعظم کی بائیڈن سے ملاقات کے دوران طے پانے والے اسٹریٹجک معاہدے کو شائد عراق میں عوامی و سیاسی پزیرائی نہ مل سکے، یاد رہے کہ شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے واقعہ کے بعد عراقی پارلیمنٹ نے امریکی انخلاء کے حوالے سے قرارداد منظور کی تھی، اور عراق میں عوامی و سیاسی سطح پر امریکہ سے نفرت میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اس وقت کے عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی، جوکہ امریکہ مخالف سمجھے جاتے تھے، کو واشنگٹن نے منصوبہ بندی کے تحت ہٹاکر موجودہ وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کو اقتدار دلایا۔ لہذا عراق میں مصطفیٰ الکاظمی کو اس وقت عراق میں ویسی ہی شہرت حاصل ہے، جیسے افغانستان میں اشرف غنی انتظامیہ کو ہے۔ علاوہ ازیں عراق کے مختلف سیاسی دھڑوں کی جانب سے بھی امریکی حکومت کے اس اعلان پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، بالخصوص مزاحمتی گروہوں کا موقف ہے کہ امریکہ فوری طور پر مکمل انخلاء کرے، عراق کو مکمل طور پر آزاد اور بااختیار ہونا چاہئے، اپوزیشن سیاسی دھڑوں نے عراقی وزیراعظم اور بائیڈن کے مابین طے پانے والے اسٹریٹجک معاہدے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

عراقی سرزمین سے امریکی افواج کا انخلاء تو اٹل ہے، تاہم وہاں کچھ فوجیوں اور ماہرین کو رکھنے کا مطلب عراق میں امریکی مداخلت کا برقرار رہنا ہے، بائیڈن انتظامیہ کی حتیٰ الامکان کوشش ہوگی کہ بغداد میں اپنے عزائم کی ناکامی کو کامیابی کے لبادے میں لپیٹا جائے، اور اس دوران دہشتگردی کا ریمورٹ کنٹرول ایک مرتبہ پھر حرکت میں آسکتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عراق کی صورتحال کو افغانستان کیساتھ تشبیہ نہیں دی جاسکتی، کیونکہ افغان معاملات میں کئی عالمی قوتیں براہ راست شامل ہیں، مذاکرات کے کئی مراحل اور تحریری معاہدے ہوچکے ہیں، اس وجہ سے افغانستان سے امریکی و اتحادی افواج کے پاس نکلنے کے علاوہ کوئی راستہ موجود نہیں تھا۔ اس کے برعکس عراق کی صورتحال قدرے مختلف ہے، تاہم عراق ماضی کے مقابلہ میں اب کافی بدل چکا ہے، حشد الشعبی، النجباء اور کتائب حزب اللہ جیسے کئی گروہ عراق کے طول و عرض میں موجود ہیں، جو اپنی سرزمین کا دفاع کرسکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 945645
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش