0
Thursday 29 Jul 2021 17:00

عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کی واشنگٹن یاترا

عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کی واشنگٹن یاترا
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

جنوری دو ہزار اکیس میں عراقی پارلیمنٹ نے ملک سے امریکی فوجیوں کے مکمل انخلاء کا بل منظور کیا، تاہم ابھی تک حکومت نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔ یاد رہے کہ یہ بل عراقی پارلیمنٹ نے اُس وقت منظور کیا تھا، جب جنوری دو ہزار بیس میں امریکی دہشتگردوں نے ایران کی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی رضاکار فورس کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنا کر شہید کر دیا تھا۔  شہید جنرل قاسم سلیمانی عراقی حکومت کی باقاعدہ سرکاری دعوت پر بغداد پہنچے تھے۔ شہید قاسم سلیمانی اور ابو مہدی مہندس کی شہادت کے بعد عراق میں امریکہ سے نفرت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے علاوہ پورے عراق سے الموت لامریکہ یعنی مردہ باد امریکہ زبان زدہ خاص و عام ہوگیا۔

اسی دوران اسوقت کے عراقی وزیراعظم عادل عبدالمھدی کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کی امریکی سازشیں زور پکڑنے لگیں۔ عراق میں موجود امریکی لابی یہ سمجھتی تھی کہ عادل عبدالمھدی امریکہ مخالف لابی کو مضبوط کر رہے ہیں اور انہوں نے ایران کے علاوہ روس اور چین سے تعلقات استوار کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ عادل عبدلمھدی کی امریکہ دشمنی اس بات کا باعث بنی کہ انہیں مختلف سازشوں سے اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔ عادل عبدالمھدی کی جگہ مصطفیٰ کاظمی کو اقتدار میں لایا گیا اور ماضی کے امریکی ایجنڈے پر دوبارہ کام شروع کر دیا گیا، تاہم امریکہ اس بات کا صحیح اندازہ نہ لگا سکا کہ شہید قاسم سلیمانی اور ابو مھدی کی شھادت اپنا رنگ دکھا چکی ہے۔ مصطفیٰ کاظمی عراق سے امریکی فوجی انخلا کو موخر کرنے میں تو کامیاب رہے، لیکن انخلا کے ایجنڈے کو مکمل ملتوی کرنے میں خاطر خواہ کامیاب نہ ہوسکے۔ مصطفیٰ کاظمی کے حالیہ دورہ امریکہ کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

عراق کے حالات پر سرسری نظر رکھنے والے سیاسی تجزیہ نگاروں کا بھی کہنا ہے کہ امریکا، عراق کے موجود عبوری وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کا حمایتی ہے اور ان کو وزیراعظم بنائے جانے کے دوران امریکہ نے ان کی بھرپور لیکن غیر اعلانیہ حمایت کی تھی اور اب غالباً مصطفیٰ الکاظمی واشنگٹن کی عراق میں فوجی موجودگی کو عنوان بدل کر برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہيں۔ قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی سے واشنگٹن میں ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ سال کے آخر تک عراق میں اس کا فوجی مشن ختم ہو جائے گا، تاہم دیگر مقاصد کے لئے امریکی عراق میں موجود رہیں گے۔ امریکی صدر جو بائيڈن نے عراق میں دہشت گرد امریکی فوج کی موجودگی کا عنوان تبدیل اور لفظوں کے کھیل کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں موجود امریکیوں کا فوجی مشن رواں سال کے آخر تک ختم ہو جائے گا، تاہم عراقی فوج کی ٹریننگ اور دہشت گرد گروہ داعش سے مقابلے کے حوالے سے عراق میں امریکہ اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

قابل غور بات یہ ہے کہ عراقی وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات میں امریکی صدر نے عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی بالکل بات نہیں کی۔ دونوں ممالک کے سربراہوں نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان کے ضمن میں اعلان کیا کہ اکتیس دسمبر دو ہزار اکیس کے بعد سے امریکی فوج کا کوئی بھی جوان فوجی و عسکری مقاصد کے لئے عراق میں باقی نہیں رہے گا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے ایسے عالم میں عراقی فورسز کی ٹریننگ اور داعش سے مقابلے کی بات کی ہے کہ اس سے قبل عراقی تنظیمیں منجملہ تحریک صادقون، نجباء اور عصائب اہل الحق  یہ واضح کرچکی ہیں کہ ٹریننگ اور فوجی مشاورت دو بڑے جھوٹ ہیں، جن کا امریکہ، عراق میں رہنے کے لئے ماضی میں بھی سہارا لیتا رہا ہے۔

کیا عراقی عوام امریکی استعمار کو مزید برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں، اس کے قطعی جواب کے بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے تاہم اسوقت عراق میں جس طرح سے امریکا اور امریکی فوج کے بارے میں سخت نفرت پائی جا رہی ہے، اس کے پیش نظر اب مصطفیٰ الکاظمی کو اپنی سیاسی ساکھ  کو بچانا بہت ہی مشکل ہو جائیگا اور آئندہ اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات میں عراقی عوام مصطفیٰ الکاظمی کو اس سیاسی غلطی کا ناقابل فراموش سبق ضرور سکھائيں گے، ان شاء اللہ۔
خبر کا کوڈ : 945776
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش