0
Tuesday 3 Aug 2021 14:51
مفتی تقی عثمانی نے سعودی اقدامات کو اسلام مخالف قرار دیدیا

پاکستان سے آلِ سعود مخالف نئی آواز، مفتی تقی عثمانی اور طاہر اشرفی کی کڑی تنقید کی اندرونی کہانی

طاہر اشرفی نے تقی عثمانی کے موقف کو ذاتی بیان قرار دے دیا
پاکستان سے آلِ سعود مخالف نئی آواز، مفتی تقی عثمانی اور طاہر اشرفی کی کڑی تنقید کی اندرونی کہانی
رپورٹ: ابو ضحاک

پاکستان کے معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل طاہر محمود اشرفی کے مابین گذشتہ روز سعودی عرب میں حج اور عمرہ پر پابندی کے خلاف سوشل میڈیا پر متازعہ گفتگو ہوئی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مفتی تقی عثمانی نے سعودی حکومت کی سرگرمیوں کو اسلام مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین اور حجاج کی بے مثال خدمت کی وجہ سے ہم ہمیشہ سعودی عرب کے مداح رہے ہیں لیکن اب جو افسوس ناک خبریں سوشل میڈیا پر اور کچھ براہ راست آرہی ہیں، وہ اسلامی روایات اور خود ملک عبدالعزیز کی روایات کے خلاف ہیں، حرم میں بے حجاب خواتین کی پولیس، نماز کے اوقات میں بازاروں کا کھول دینا جبکہ حج و عمرے پر پابندیاں اور سب سے بڑھ کر سنت کی اخبار آحاد کو حجت قرار نہ دینا، یہ باتیں نشاندہی کر رہی ہیں کہ ملک کا رخ بدل رہا ہے۔ چنانچہ عالم اسلام کے عوام اور علماء سب تشویش میں ہیں، کیونکہ حرمین شریفین سے انکا والہانہ رشتہ ہے، سعودی حکومت اپنے اس طرزعمل پر نظر ثانی کرکے اصلاح کرے۔"

مفتی تقی عثمانی کے سعودیہ مخالف بیان کے بعد وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی، پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین نے جوابی ٹویٹ میں لکھا کہ "حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی ممتاز عالم دین ہیں، ان کے تمام تر احترام کے ساتھ سعودی عرب کے حوالے سے ان کے موجودہ خیالات سے اتفاق نہیں ہے اور پاکستان میں سرکاری طور پر کوئی مفتی اعظم کا منصب نہیں ہے، لہذاٰ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں۔" حکومت، پاکستان علماء کونسل اور درا الالفتاء پاکستان اس سے بری ہیں۔ طاہر محمود اشرفی کے جوابی ٹویٹ کے بعد مفتی تقی عثمانی کے معتقدین اور سوشل میڈیا صارفین نے حکومتی نمائندہ طاہر اشرفی پر تنقید کی، جس کے جواب میں طاہر اشرفی نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں اپنے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے"کلمہ حق" قرار دیا۔

بعدازاں اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ مفتی تقی عثمانی کے بیان کے بعد عرب اور انڈیا کے ذرائع ابلاغ نے یہ پروپیگنڈہ کیا ہے کہ ریاست پاکستان کے مفتی اعظم نے سعودی عرب کے خلاف فتویٰ دے دیا ہے اور عرب ذرائع نے مجھ سے رابطہ کیا اور وضاحت طلب کی ہے۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مفتی صاحب کا ذاتی موقف ہے، پاکستان کی حکومت کا موقف نہیں۔ طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ اللہ کی حدود کرہ ارض پر صرف سعودی عرب میں ہی نافذ ہیں اور سعودی حکومت دنیا میں سب سے زیادہ اسلام کی خدمت کر رہی ہے۔ انہوں نے مفتی تقی عثمانی کے مدارس کے طلباء کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسی سے اختلاف ضرور کریں، مگر گالیاں دینا جرم ہے، جو مدرسہ کے طلاب کی اخلاقی تربیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مکتب دیوبند کے نمائندہ افراد نے مفتی تقی عثمانی کے سعودی حکوت سے مضبوط تعلقات کی بنیاد پر اسے مفتی تقی عثمانی اور سعوی حکومت کے آپس کا معاملہ قرار دیا ہے، جبکہ دوسری طرف حکومتی نمائندہ طاہر اشرفی کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے موقف کو غیر سنجیدہ قرار دیا جارہا ہے۔

دونوں مذہبی شخصیات کی متازعہ گفتگو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب آل سعود نے مسلسل دوسری بار کورونا کے بہانے سے حج کے سلسلے میں شدید محدودیتیں نافذ کی ہیں کہ سعودی عرب کے مختلف شہروں منجملہ دارالحکومت ریاض میں نائٹ کلبز، میوزیکل شوز اور تفریح کے نام پر رقص و سرور کی دیگر اسلام مخالف تقریبات پوری آب و تاب کے ساتھ منعقد ہو رہی ہیں، جن میں شریک دسیوں ہزار کی تعداد میں سعودی مرد اور خواتین ملے جلے مجمع میں ناچتے، گاتے اور احکام اسلامی کی کھلی خلاف ورزی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں مسلمان یورپ اور سعودی عرب میں ہونے والی آزادانہ سرگرمیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

کورونا وائرس کی آڑ کی میں سعودی حکومت کے حج و عمرہ پر پابندی لگانے کے ناقدین میں یمن کی تحریک انصار اللہ کے سربراہ سید عبد الملک بدر الدین الحوثی بھی شامل ہیں، انہوں نے اس عمل کو قرآنی اصولوں کے خلاف اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی رویہ قرار دیتے ہوئے برطانوی اور امریکی حکومت کی نگرانی میں قرار دیا۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آل سعود کی عیاشیاں اسلام مخالف ہیں اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے سعودی حکومت کے ناقدین سامنے آرہے ہیں۔ پاکستان کے جید عالم دین مفتی تقی عثمانی کی سعودی حکومت پر تنقید یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ سعودی عرب میں فحاشی کے اڈوں اور آزادانہ سرگرمیوں کو ناپسند قرا ر دیتے ہیں۔ سعودی عرب میں حکومت کی پالیسی کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کا سر قلم کر دیا جاتا ہے اور یمنیوں پر بھی زمین تنگ کر دی جاتی ہے، تاہم سعودی عرب سے اچھے تعلقات استوار ہونے کے باوجود پہلی بار پاکستان سے سعودی حکومت اور آل سعود کے خلاف ایک مضبوط اور قوی آواز سامنے آئی ہے، جسے اپنے ہی مکتب کے جید علماء کی تنقید کا سامنا ہے۔
خبر کا کوڈ : 946592
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش