0
Tuesday 24 Aug 2021 13:55

افغانستان کا مستقبل صرف طالبان نہیں

افغانستان کا مستقبل صرف طالبان نہیں
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

طالبان پچھلے بیس سے سال امریکہ کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے۔ امریکی اپنے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر قابض رہے اور افغانستان کی ثقافت کو تبدیل کرنے اور اسے مغربی لباس پہنانے کی بھرپور کوشش کی۔ امریکہ یہ کہہ کر افغانستان آیا تھا کہ ہم دہشتگردی کا خاتمہ کریں گے اور افغانستان کو پرامن ملک بنائیں گے۔ بیس سال مسلسل افغانوں کو غلام بنائے رکھا، طالبان نے کبھی کم اور کبھی زیادہ  مزاحمت جاری رکھی۔ اوبامہ کے دور میں افغانستان میں ایک لاکھ سے زیادہ فوجی موجود تھے۔ یہ جو ایک ٹریلین ڈالر افغانستان میں خرچ کرنے کی بات کی جاتی ہے، اس پیسے میں سے نوے پچانوے فیصد ان امریکیوں کی تنخواہوں اور ان کو دی جانے والی مراعات پر ہی خرچ ہوئے ہیں۔ اب اس پیسے کو افغانستان پر لٹانے سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس جنگ میں سینکڑوں امریکی فوجی مارے گئے اور لاکھوں افغان بھی کام آئے۔

سکائی نیوز کی رپورٹر نے طالبان ترجمان سہیل  شاہین سے پوچھا کہ جو امریکی اس جنگ میں مارے گئے ہیں، ان کے بارے میں کیا کہیں گے؟ سہیل شاہین نے جواب دیا کہ میں وہی کہوں گا، جو آپ اس وقت کہیں گی کہ کوئی امریکہ پر قبضہ کر لے، لاکھوں امریکیوں کا قتل عام کرے، ایک زبردست امریکی مزاحمتی تحریک کے نتیجے میں اس کے کچھ آدمی مر جائیں اور پھر آپ سے پوچھا جائے کہ آپ اس قابض، لاکھوں امریکیوں کی قاتل طاقت کے مرنے والے فوجیوں کے بارے میں کیا خیالات رکھتی ہیں۔؟ ہمیں ماضی پر نہیں مستقبل پر بات کرنی چاہیئے اور یہی سب کے لیے اچھا ہے۔ کیا امریکی انخلاء کے لیے یہ وقت مناسب ہے یا اس سے پہلے امریکی افغانستان سے نکل سکتے تھے۔؟ یہ سوال امریکی میڈیا پر بہت زیادہ اٹھایا جا رہا ہے۔ امریکیوں کے نقطہ نظر سے بھی ایسے بہت سے مواقع تھے، جب افغانستان سے نکلا جا سکتا تھا، مگر امریکہ کو یہی ذلت اختیار کرنا تھی، جو اس نے کر لی۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ کا افغانستان اور خطہ میں آنا ہی غلط تھا۔ طاقت کے نشے میں چور صدر بش نے افغانستان پر حملے کا فیصلہ کیا، حالانکہ امریکہ کی اپنی تحقیقات کے مطابق نائن الیون حملوں میں ملوث لوگوں کا تعلق سعودیہ اور مڈل ایسٹ کے دیگر ممالک سے تھا۔ امریکہ کے لیے افغانستان سے نکلنے کا بہترین موقع اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد تھا۔ امریکی بڑی کامیابی سے بظاہر فاتحانہ لوٹ سکتے تھے، مگر انہوں نے خطے سے شکست خوردہ ہو کر نکلنا مناسب سمجھا۔ امریکہ کی ایک بڑی غلطی یہ رہی کہ وہ افغانستان پر حملے کے بعد ہر کسی کے پیچھے پڑ گیا اور عراق کو بھی زیر کرنے کے لیے اس پر چڑھائی کر دی اور عراق کے بعد شام کو سیدھا کرنے کی خود ساختہ ذمہ داری اٹھا لی۔

افغان طالبان نے جن رکاوٹوں کو ہٹا کر سارے زونز کو ختم کرکے ایک کابل بنا دیا ہے، امریکی بیس سال میں صرف کابل کو محفوظ نہ بنا سکے۔ امریکی جاتے ہوئے ایک ایسی فوج چھوڑ کر جانا چاہ رہے تھے، جو خطے میں تنازع کو گرم رکھے، مگر امریکی اور بھارتی تربیت یافتہ فوج سے اتنا ہی لڑنے کی امید تھی کہ افغان طالبان سے جان بخشی کی رسید لے کر خاموشی سے گھر روانہ ہو جائیں۔ اس سے امریکہ اور انڈیا کے فوجی تربیتی نظام پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ طالبان کے لیے ایک بڑا چیلنج کابل ائرپورٹ کا ہے، جہاں سے غیر ملکی اور افغان ملک چھوڑ کر بھاگنا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں کابل ائرپورٹ پر جمع اکثریت ایسے لوگوں کی ہے، جو اچھے مستقبل کی تلاش میں ایران، ترکی اور یونان سے یورپ جانے کی بجائے یہ رسک لے رہے ہیں کہ امریکیوں کے ساتھ ہی افغانستان چھوڑ دیا جائے۔ مہینوں جان کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ سارے لوگ ایسے ہی ہیں، مگر اکثریت ایسے لوگوں کی ہی ہے، جو مالی آسودگی کے لیے ملک چھوڑنا چاہ رہے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جن کا طرز زندگی ایسا ہے، جو اب افغانستان میں دستیاب نہیں ہوسکے گا، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد کسی ایسی جگہ جا بسیں، جہاں مرضی سے جی سکیں۔ طالبان کا اصل امتحان نئی حکومت کی تشکیل ہے۔ طالبان بار بار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم حکومت میں سب کو شریک کریں گے۔ انہوں نے ایک لویہ جرگہ بھی  بلایا، جس میں پانچ علماء نے شرکت کی ہے، اس میں نئے نظام حکومت پر بات کی گئی۔ ویسے طالبان کے رابطے حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ اور گلبدین حکمت یار تک محدود ہیں۔ افغانستان میں ہزارہ، تاجک اور ازبک بڑی حقیقتیں ہیں، مگر ان سے اس طرح کے رابطے نہیں کیے جا رہے۔ اسی طرح طالبان کے اندر اختلافات موجود ہیں اور کسی لمحے شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

طالبان میں طاقتور گروہ موجود ہیں، جن میں اختلافات ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ابھی کابل کی سکیورٹی حقانی گروپ کے حوالے کر دی گئی ہے، یہ بات بہت اہم ہے۔ دونوں گروپ کب تک اکٹھے رہتے ہیں؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، کیونکہ طاقت کی اپنی حرکیات ہوتی ہیں۔ امریکہ کے خلاف تو سب متحد تھے، اب اصل کھنچا تانی شروع ہوگی۔ اسی طرح دو طاقتور پختون گروه درانی اور غلجائی جو ماضی می باہم دست و گریبان رہے اور آج بھی ان کے تعلقات مثالی نہیں ہیں، ان کے درمیان طالبان کیسے معاملات کو سیدھا رکھتے ہیں؟ کیونکہ ان کی باہمی چپقلش طالبان کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پنجشیر اگرچہ اب ماضی کی مزاحمت تو نہ دکھا سکے، پھر بھی طالبان کے لیے اس وقت ایک چیلنج ضرور بنی ہوئی ہے اور جہاں طالبان کو سچ مچ میں جنگ لڑنی پڑ سکتی ہے۔ ان حالات میں ایک بات تو طے ہے کہ طالبان افغانستان کے مسقبل کا تعین کرنے والا اہم ترین گروہ ضرور ہیں، مگر افغانستان کا سارے کا سارا مستقبل طالبان نہیں ہیں۔ افغانستان نے ابھی تک بڑی ہوشیاری سے اپنے پتے کھیلے ہیں، آگے کیا ہوتا ہے؟ چند دنوں میں دھند ہٹنا شروع ہو جائے گی۔
خبر کا کوڈ : 950144
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش