0
Saturday 11 Sep 2021 22:39

سندھ میں صنعتی علاقے غیر قانونی طور پر کمرشل ایریاز میں تبدیل

سندھ میں صنعتی علاقے غیر قانونی طور پر کمرشل ایریاز میں تبدیل
ترتیب و تدوین: ایس حیدر

کراچی، حیدرآباد سمیت سندھ کے مختلف شہروں کے صنعتی علاقوں میں سینکڑوں بڑے صنعتی یونٹ کمرشل پروجیکٹس میں تبدیل کر دیئے گئے، پابندی کے باوجود جعلسازی سے منتقلی جاری ہے، حیدرآباد کا صنعتی علاقہ کچرے سے اٹا اور بارش کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے، کئی شہروں کے صنعتی علاقے اور صنعتی تربیتی ادارے ناکارہ یا بند ہوچکے ہیں، وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں صنعتی محنت کشوں کی بیروزگاری میں غیر معمولی اضافے اور لاقانونیت بڑھنے کا خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت صنعتی ترقی اور نئے ایکسپورٹ زون قائم کرنے کے دعوے کر رہی ہے، لیکن پہلے سے قائم ایکسپورٹ زون نیم جاں ہے، سندھ میں بڑی چھوٹی صنعتیں بند یا منتقل ہو رہی ہیں اور سائٹ ایریاز غیر قانونی طور پر کمرشل ایریاز میں تبدیل کئے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں صنعتی محنت کش بیروزگار ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے، وفاقی حکومت کراچی میں ایکسپورٹ زون کے قیام کا دعویٰ کر رہی ہے، جبکہ برسوں سے قائم ایکسورٹ زون نیم فعال ہے اور اس میں سہولتوں کا شدید فقدان ہے۔

سمجھا جا رہا کہ اب بھی اس کی بحالی اور سہولتوں میں اضافے کی آڑ میں کروڑوں کے فنڈز ٹھکانے لگانا ہی مقصود ہے، نئے ایکسپورٹ زون قائم کرنے کے دعوے ہوائی ہیں، جب پرانی صنعتیں ہی نہیں چل رہیں، منتقل اور بند ہو رہی ہیں، نئی سرمایہ کاری برائے نام ہے تو صنعتی ترقی سیاسی دعوے کے سوا کچھ نہیں۔ اہم صنعتکار رہنماﺅں کے مطابق کراچی سے کئی بڑے سرمایہ کار اسلام آباد منتقل ہوگئے ہیں اور پنجاب کے دیگر اہم شہروں صنعتی شہروں کی طرف بھی صنعتی سرمایہ کاروں کا رخ ہے۔ ذرائع کے مطابق کراچی سائٹ کی کوئی 250 کے قریب ٹیکسٹائل ملز سمیت بڑی صنعتیں بند یا منتقل ہوچکی ہیں اور ان کی جگہ 100 سے زائد سے کمرشل پروجیکٹس و پلازہ بن چکے ہیں اور باقی پر کثیر المنازل تعمیرات جاری ہیں، حیدرآباد سائٹ میں ویسے تو 400 سے زیادہ چھوٹے بڑے یونٹس ہیں، لیکن بڑے یونٹ چند درجن ہی تھے، جن میں سے 40 کے قریب بڑے یونٹ بولی ورڈ جیسے وسیع کمرشل پروجیکٹس میں تبدیل ہوچکے، یہ سلسلہ مزید جاری ہے۔

قانونی طور پر کسی بھی صنعتی ایریا کی زمین کسی اور مقصد کیلئے استعمال کرنے کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں ہے، خصوصاً قدیم حیدرآباد سائٹ کی زمین جو کہ صنعتیں لگانے کیلئے حکومت نے مفت فراہم کی تھی، اس کی صنعتی حیثیت تبدیل کرکے اسے کمرشل پروجیکٹس کیلئے استعمال کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لیکن گذشتہ عشرے سے غیر قانونی طور پر متعلقہ اداروں سے بھاری سودے بازی کرکے کراچی، حیدرآباد سکھر اور دیگر شہروں میں صنعتوں کی زمین پر کمرشل پروجیکٹس بنائے جا رہے ہیں، اس کے بعد عدالت عالیہ واٹر کمیشن اور صوبائی حکومت نے سندھ میں کہیں بھی کسی صنعتی پلاٹ کو کمرشل میں منتقل کرنے پر سختی سے پابندی لگا دی تھی اور صنعتی پلاٹوں کو کمرشل تبدیل کئے جانے کے بارے میں رپورٹ طلب کی تھی، لیکن وزارت صنعت سائٹ لمیٹڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ریوینیو بلدیات، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ دیگر اداروں کے کرپٹ راشی حکام کی ملی بھگت سے قانون کی خلاف ورزی کرتے بڑی تعداد میں صنعتی پلاٹوں کو کمرشل میں تبدیل کر دیا اور ان پر کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی اجازت بھی دی گئی۔

صنعتی ایسوسی ایشنز کے ذرائع کے مطابق بھاری رشوت اور سودے بازی کے عوض جعلسازی سے 2018ء سے پہلے کی تاریخوں میں صنعتی پلاٹ اب بھی کمرشل میں تبدیل کرکے بڑے پروجیکٹس کی تعمیر کی منظوری دی جا رہی ہے، لیکن چونکہ سب محکموں کے کرپٹ افسران کا گٹھ جوڑ ہے، اس لئے کوئی ادارہ اس لاقانونیت اور مزدور دشمنی میں رکاوٹ نہیں ڈالتا، حیدرآباد سائٹ تباہ حال ہے اور چند دن پہلے کی بارش کے بعد بڑا علاقہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، صفائی ستھرائی کی خراب صورتحال، نالیاں اور نالے ابلنے، کچرے کی وجہ سے تعفن پھیلا ہوا ہے، یہ بدترین ماحول محکمہ ماحولیات کے حکام کو نظر نہیں آرہا۔ سندھ حکومت کی سالہا سال سے عدم توجہ اور بدعنوانیوں کی وجہ سے سکھر نواب شاہ میرپور خاص سمیت کوئی نصف درجن شہروں میں قائم کئے گئے صنعتی یونٹس بھی زیادہ تر دم توڑ چکے ہیں، کچھ سسک رہے ہیں، اسی طرح کا اسمال انڈسٹریز کا بدتر حال ہے، ناصرف چھوٹے کارخانے، گھریلو یونٹس کی بڑی تعداد بند ہوچکی ہے یا برائے نام چل رہی ہے، بلکہ وزارت صنعت سندھ نے اسمال انڈسٹریز کی سائٹ حیدرآباد میں واقع مرکزی دفتر کی کروڑوں روپے مالیت کی عمارت بھی چند سال پہلے اونے پونے بیچ کھائی تھی۔

اسی طرح صنعتوں کیلئے تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرنے اور گھریلو یونٹس کے قیام کی تربیت دینے کیلئے صوبے کے اہم اضلاع میں قائم کئے گئے ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر بھی زیادہ تر بند ہوچکے ہیں یا کاغذی طور پر چلا کر ان کے نام پر فنڈز ہڑپ کئے جا رہے ہیں، حیدرآباد حالی روڈ کے علاقے میں واقع دو بڑی صنعتوں کی وسیع اراضی پر ہاﺅسنگ اسکیمیں بن چکی ہیں، جہاں ہزاروں محنت کش کام کرتے تھے، یہاں اردگرد آبادی بڑھنے کے بعد قبضہ مافیاز اور بلدیہ اعلیٰ اور دیگر اداروں کی کرپٹ افسر شاہی کی وجہ سے تجاوزات کی بھرمار ہوگئی اور ان صنعتوں میں ٹرکوں ٹرالروں کے ذریعے خام مال لانا اور تیار مصنوعات لے جانا مشکل ہوگیا، حیدرآباد میں تلک چاڑھی پر صنعتی مصنوعات کا بہت معروف ڈسپلے سینٹر قائم تھا، جو ادارے نے بیچ کھایا اور اب یہ حلیم اور جوتے کی دوکان میں تبدیل ہوچکا ہے۔

سکھر کے ڈسپلے سینٹر سے سائٹ کو ڈیڑھ کروڑ روپے سالانہ آمدنی ہوتی تھی، وہاں بھی اب دوکانین بن چکی ہیں، نوری آباد کا ہزاروں صنعتوں کیلئے قائم کیا گیا صنعتی علاقہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی مجرمانہ غفلت، شدید بدامنی اور سہولتوں کے فقدان کے باعث سمٹ چکا ہے، اب یہ صرف چند یونٹس تک محدود ہے اور وہ بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ ملک ریاض کا بحریہ ٹاﺅن کا منصوبہ کراچی سے نوری آباد کے پڑوس تک پھیل چکا ہے، سمجھا جا رہا ہے کہ سائٹ نوری آباد کا وسیع رقبہ بھی آئندہ بحریہ ٹاﺅن کے زیر نگیں ہوگا، بڑی صنعتیں بند ہونے سے بدامنی، لاقانونیت اور دیگر وجوہ کے باعث جس تیزی سے بیروزگاری پھیل رہی ہے، خطرہ ہے کہ اس کے نتیجے میں لاقانونیت اور جرائم میں اتنا اضافہ ہو جائے گا کہ اس پر قابو پانا مشکل ہوگا اور معیشت کے صدر گیٹ سندھ کی یہ صورتحال پورے ملک کیلئے بڑا اقتصادی خطرہ بن سکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 953376
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش