0
Tuesday 21 Sep 2021 12:09

پاک ایران تعلقات خراب کرنے کی بھارتی کوششیں کامیاب ہونگی؟

پاک ایران تعلقات خراب کرنے کی بھارتی کوششیں کامیاب ہونگی؟
تحریر: تصور حسین شہزاد

افغانستان میں آنیوالی تبدیلی کے بعد خطے میں تیزی سے صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ امریکہ نے جہاں افغانستان میں ہزیمت اٹھائی ہے، وہیں عراق و شام سے بھی بے آبرو ہو کر نکل رہا ہے۔ افغانستان میں آنیوالی تبدیلی نے خطے کے ممالک کی پالیسیاں بھی بدل دی ہیں۔ کل تک ایک دوسرے کے دشمن، پاکستان اور روس، آج ایک پیج پر آچکے ہیں۔ افغانستان کا ہمسایہ ہونے کے سبب ایران کی اہمیت بھی دوچند ہوگئی ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی خطے کے ممالک ایران کو اپنے ساتھ شامل کرنے پر مجبور ہیں۔ حالات صورتحال کو اس نہج پر لے آئے ہیں کہ خطے کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کیلئے چین، پاکستان، ایران، روس، ترکمانستان، قازقستان، تاجکستان اور کرغستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ اس صورتحال میں اب زخم خوردہ دشمن ایران اور پاکستان میں دُوریاں پیدا کر رہا ہے۔ اس حوالے سے ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات خراب کرنا دشمن کا اولین ہدف ہے، جس کیلئے انڈیا کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران اور انڈیا کے باہمی تعلقات اتنے مضبوط ہیں نہیں، جتنے انڈین میڈیا دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ انڈین سرمایہ کاری کے افغانستان میں ڈوبنے کے بعد انڈیا تاحال صدمے میں ہے۔ اب انڈیا یہ کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح خطے میں نئے قائم ہوتے بلاک میں دراڑیں ڈال کر اس اتحاد کو متاثر کیا جائے۔ اس مقصد کیلئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی بھارت کی پشت پناہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا آج کل ایران سے اپنی قربتیں زیادہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پنج شیر میں طالبان کی چڑھائی کو انڈین میڈیا نے غلط رپورٹ کیا کہ وہاں پاکستانی فضائیہ نے ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے طالبان کی مدد کی ہے، جبکہ پاکستان نے اس کی سختی سے تردید کی۔ پاکستان نے کہا کہ ان کی ڈرون ٹیکنالوجی کی اتنی طویل رینج نہیں کہ وہ پاکستان میں بیٹھ کر پنجشیر تک آپریٹ کی جا سکے۔

پنجشیر کے معاملے میں کچھ ایرانی میڈیا بھی بھارتی موقف کی تائید کرتا نظر آیا، مگر پاکستان کا موقف آنے کے بعد ایرانی میڈیا نے ایسی کوئی خبر شائع نہیں کی۔ انڈیا کی بھرپور کوشش ہے کہ افغانستان کے ایشو پر ایران اور پاکستان کو آمنے سامنے لا کھڑا کرے، لیکن بھارتی عزائم پر اس وقت اوس پڑ گئی، جب پاک ایران حکام کے رابطے ہوئے۔ شاہ محمود قریشی نے اگست کے آخری ہفتے ایران کا دورہ کیا، جبکہ رواں ماہ کے آغاز میں ایرانی ہم منصب کیساتھ ٹیلی فون پر مشاورت کی۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں متعدد بار مختلف امور پر ایران کیساتھ رابطے کئے ہیں۔ اگر ایران کو پاکستان سے کوئی شکایت ہوتی تو وزرائے خارجہ کے ورچوئل اجلاس میں شرکت نہ کرتا اور نہ ہی ایرانی انٹیلی جنس کا سربراہ اسلام آباد میں ہونیوالے خصوصی اجلاس میں آکر شرکت کرتا۔ دوسری جانب ایرانی صدر نے دوشنبے میں عمران خان سے ملاقات کی بھی اور اس ملاقات میں افغانستان کے معاملے سمیت پاک ایران تعلقات کی بہتری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

موجودہ صورتحال اور روابط کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی بھارتی سازشیں مسلسل ناکام ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی ناکامی سے ہی دوچار ہوں گی، کیونکہ ایرانی قیادت کی پالیسیاں طویل المدتی ہوتی ہیں اور وہ بہتر انداز میں سوچتے اور کرتے ہیں۔ اقتصادی پابندیوں کے ایرا میں ایران کو دوستوں کی ضرورت بھی ہے، ایران بھارت کے جھانسے میں آ کر پاکستان کو کبھی ناراض نہیں کرے گا اور نہ پاکستان سے دور ہوگا، کیونکہ پاک ایران تعلقات صرف حکومتی سطح کے نہیں ہیں، بلکہ عوامی سطح کے ہیں اور ان کی جڑیں بہت گہری ہیں۔
خبر کا کوڈ : 954948
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش