0
Monday 27 Sep 2021 08:53

رہ جانے والوں کا سفرنامہ(1)

رہ جانے والوں کا سفرنامہ(1)
تحریر: سید زین عباس

وہ سفر جو نہیں ہوسکا، یا شاید نہیں ہو پائے گا۔۔۔ وہ بد نصیب جو رہ گئے، ڈھونڈتے رہے، ہاتھ پاوں مارتے رہے، پر نہیں پہنچ سکے، یا شاید اب تک بیم و رجا کے برزخ میں ہیں، جا سکیں گے یا نہیں۔۔۔۔ آیئے اس سفر کی روداد سنتے ہیں، جو اب تک نہیں ہوا، یا شاید نہیں ہوسکے گا، اگر آپ بھی اس سال سفر اربعین پر نہیں جا سکے تو یہ تحریر شاید آپ کے احساسات کو مہمیز کرنے کا باعث بن سکے۔۔۔ سفر اربعین پیادہ روی کے اچھوتے تصور کے سبب ایک معجزے کی صورت میں سامنے آیا، کم از کم اسی کلومیٹر پیدل چلنا، ان مسافروں کی یاد میں چلنا جنھیں قیدی بنایا گیا، جنھیں اذیتیں دی گئیں، جنھیں بھوکا پیاسا رکھا گیا۔۔۔ ایک بار اس سفر پر ایک جوان کو برہنہ پا دیکھا تو سوال کیا، باقی سب بھی جا تو رہے ہیں، تم ننگے پاوں کیوں چلے ہو، کہنے لگا میں سوچتا ہوں، جب جناب سیدہ (س) کربلا کی طرف چلی ہوں گی تو کیسی اذیت میں گئی ہوں گی، چاہتا ہوں کہ اس کا ایک حصہ محسوس کر سکوں۔۔۔۔

یہ معجزات وہاں اتنی کثرت سے ہوتے ہیں کہ اب انھیں معجزہ نہیں کہا جاتا، معمول کی بات ہے کہ مسافر کو جو چاہیئے ہوتا ہے مل جاتا ہے، عام سی بات ہے کہ خود پھٹے لباس پہنے ہوئے عراقی آپ کے لیے بہترین غذا کا اہتمام کرے، بلکہ یہاں تک ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ہمیں کھانا دے کر بہانے سے اٹھ گئے کہ کہیں کھانا کم نہ ہو جائے۔ یہ چیزیں اس سفر کی بہت معمولی سی جھلک ہے۔ لیکن اسی کا دوسرا پہلو بھی ہے، وہ ان اسیروں کا اپنے زمانے کے امام سے عہد وفاداری نبھانے کا اسوہ ہے۔۔۔ ممکن ہے ہم میں سے بہت سے افراد اپنے جسموں کو وہاں نہیں پہنچا سکے، لیکن چشم تخیل سے دیکھیے کہ آپ کی روح وہاں پہنچ سکتی ہے، بلکہ وہیں نہیں، کچھ مناظر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

ہم عراقی حکومت، پاکستانی حکومت اور عالمی استعمار سمیت بہت سے گروہوں پر لعن و نفرین تو کر رہے ہیں، جنھوں نے عراق کا سفر مشکل بنا دیا ہے، لیکن ہم کیوں بھول رہے ہیں کہ عراق کا سفر بند کیا جا سکتا ہے، لیکن کربلا کا نہیں، کربلا کا راستہ تو ہمیشہ سے کھلا ہے، لیکن شاید ہمارے من کی دنیا میں بھی تو استعماری حکومتیں بیٹھی ہیں، وہاں بھی ایسے دشمن موجود ہیں، جو من کے راستے میں بھی حائل ہیں۔۔۔ آئیں کچھ دیر کے لیے من کی دنیا میں سفر کریں، بقول علامہ من کی دنیا میں کسی افرنگی کا راج نہیں ہے، کوئی شیخ و برہمن نہیں ہے، کسی ویزے اور پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہے، جو چاہے سفر کرسکتا ہے۔ جانتے ہیں، جب سفر شروع ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔۔۔ ایک ایک کرکے انسان کے گناہ انسان کی نظروں میں پھرنے لگتے ہیں، گھر سے نکلتے ہی خیال آتا ہے کہ کہاں جا رہے ہیں، دل گریبان پکڑ کر پوچھتا ہے کہ معلوم بھی ہے کہ کہاں جا رہے ہو۔۔۔ نجف۔۔۔

امام المتقین کے دربار میں، جس کی ہیبت سے زمین و آسمان کانپ اٹھتے ہیں، وہ امام جو اپنے چاہنے والوں کو متقی دیکھنا چاہتے ہیں، کیا ہوگا، اگر ہم پہنچے اور امام نے کہا کہ کیوں تم میں اپنے شیعوں جیسی کوئی علامت نہیں دیکھتا، کیا آبرو رہ جائے گی۔۔۔ وائے ہو گزرے ہوئے ہر لمحے پر جب گناہ کیا۔۔۔۔ کیا امام سوال نہیں کرسکتے کہ تم میرے چاہنے والے ہو نا، بتاو تمہارے شہر میں کوئی یتیم تو نہیں، جو بے سہارہ ہو، کیا نہیں سنا کہ یتیموں کی پرورش علی (ع) کی سنت ہے، ظلم کے مقابلے میں کھڑے ہوسکتے ہو، کیا میں امام عادل نہیں ہوں۔۔۔۔ یقین جانیئے نجف کی طرف ایک ایک قدم بھاری ہو جاتا ہے۔۔۔ یہاں تک کہ حرم کے سنہری دروازے سے داخل ہوں اور خود کو ایک مجرم کی مانند پیش کر دیں، کھڑے ہو جائیں اور کہیں آقا بہت جرم کیے ہیں، آج آپ کے دربار میں آگیا ہوں کہ مجھے بچا لیں، اتنا گناہگار ہوں کہ آپ کے علاوہ کوئی سفارش کام نہ آئے گی۔

نہیں جانتا کہ اگر آپ نے ہاتھ نہ تھاما تو کس منہ سے خدا کے سامنے جاوں گا۔۔۔۔ خدا جانے یہ خاندان کیسا شفیق ہے، آپ اعتراف کریں اور یوں لگتا ہے کہ یتیموں کے بابا علی (ع) آپ کو اپنی آغوش میں بلا رہے ہیں، شکوہ لطف میں اور ہیبت کرم میں بدلتی محسوس ہوتی ہے۔ نجف کی فضائیں آپ کے بدن کو گدگدانے لگتی ہیں، شہر علم کی خاک کا ایک ایک ذرہ آپ کے وجود میں مسرت و تسکین کا احساس پیدا کرنے لگتا ہے، نجف کی گلیوں میں حقیقی احساس ہوتا ہے کہ شاید ہماری مٹی اسی خمیر سے لی گئی ہو کہ اس شہر میں اجنبیت نام کو نہیں ہے، ہر گلی دیکھی بھالی، ہر موڑ شناسا، گویا بچپن سے اسی شہر میں زندگی گزاری ہو۔۔۔ اگر من کی دنیا کا ویزہ لگ گیا ہو اور سفر شروع ہوگیا ہو تو کل ان شاء اللہ کربلا کی طرف سفر شروع کریں گے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 955943
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش