?>?> کالعدم ٹی ٹی پی کو این آر آو دینے کی بیتابی کیوں؟ - اسلام ٹائمز
0
Saturday 2 Oct 2021 16:22

کالعدم ٹی ٹی پی کو این آر آو دینے کی بیتابی کیوں؟

کالعدم ٹی ٹی پی کو این آر آو دینے کی بیتابی کیوں؟
تحریر: توقیر کھرل

70 ہزار پاکستانیوں کے قاتلوں اور اربوں روپے کی معیشیت کا نقصان کرنے والوں کو ہر صورت معاف کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ، وزیراعظم، وزیر اطلاعات کے بعد وزیر داخلہ نے یکے بعد دیگرے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو معاف کرنے اور قومی دھارے میں لانے کا عندیہ دیا ہے۔ دو ہفتوں میں مسلسل وفاقی وزراء کی جانب سے طالبانوں کی حمایت میں بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان نے ہی طالبانوں کو این آر او دینے کا فیصلہ نہیں کیا ہے بلکہ یہ ریاستی پالیسی ہے۔ الغرض فوجیوں کے سروں سے کھیلنے والے وحشی قاتلوں کو معافی کی مخالفت کرنے والوں کے بیانیہ کو بھی کاونٹر کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ روز کالم نگار مبشر زیدی سمیت متعدد صحافیوں نے سوشل میڈیا سے سوال اٹھایا ہے کہ سانحہ آرمی پبلک سکول کے قاتلوں کا استقبال سانحہ کے مقتولین کے ورثاء سے کروایا جائے گا؟

اس بیانیہ کے بعد آج وزیر داخلہ نے بیان دیا ہے کہ ہمیں معلوم ہے گُڈ اور بیڈ طالبان کون ہیں، سانحہ اے پی ایس تو الگ کیس ہے۔ معلوم نہیں ریاست کو آخر ہمہ قسم کے دہشت گردوں سے ہمددردی کیوں ہے۔؟ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو عام معافی دیکر ملک کے مستقبل کو مستحکم اور محفوظ دیکھنے والے پالیسی سازی کیوں بھول رہے ہیں کہ انہی عناصر نے ہی گذشتہ ایک ہفتہ سے دہشت گردانہ کارروائیوں کو دوبارہ سے تیز کر دیا ہے۔ وزیر خارجہ کے مشروط معافی کے بیان پر ٹی ٹی پی کا ردعمل غیر لچکدار اور بظاہر کسی قسم کی بات چیت کے لیے عدم رضامندی پر مبنی ہے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کالعدم تنظیم کے اس رویئے کے باوجود حکومت بات چیت کے لیے بے تاب کیوں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ تنازعات کا حل تلاش کیا جانا چاہیئے اور امن مذاکرات اس حل کا راستہ بناتے ہیں، مگر امن کی تالی یک طرفہ طور پر نہیں بجائی جا سکتی۔ پائیدار امن اسی صورت ممکن ہو سکتا ہے، جب دوسرا فریق بھی اس کی خواہش کرے۔

دوسری طرف تحریک طالبان نے کہا ہے کہ ہم اپنے دشمنوں کو معاف نہیں کرسکتے۔ کالعدم تنظیم کے بیان اور عمل سے ایسا ثابت نہیں ہوتا کہ وہ امن بات چیت کے لیے سنجیدہ اور تیار ہے اور جب تک وہ اس معاملے میں آمادگی ثابت نہیں کرتی اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتی، یک طرفہ طور پر بات چیت کے اشارے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم سے مطابقت نہیں رکھتے۔ وفاقی وزراء کے معافی کے مسلسل بیانات اور کالعدم تحریک طالبان کی عدم رضامندی ایک طرح سے کمزوری کی دلالت کرتی ہے۔ پاکستان نے عالمی، علاقائی اور ملکی دہشت گردوں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف طویل اور غیر معمولی جدوجہد کی ہے اور ہم بڑے فخر سے یہ کہنے کے قابل ہیں کہ دہشت گردی کا جس کامیابی سے صفایا پاکستان نے کیا، عسکری اور جاسوسی کے اعلیٰ ترین وسائل سے لیس دنیا کی جدید ترین ریاستیں بھی ایسا نہیں کرسکیں۔

یہ امن اسی جدوجہد کا ثمر ہے۔ اگرچہ دہشت گرد عناصر اب بھی کبھی کبھار وارداتیں کرتے ہیں، مگر ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں موجودہ صورتحال قطعی مختلف اور قابلِ ذکر حد تک بہتر ہے۔ اس کا اعتراف پاکستان میں ہر طبقہ فکر کے لوگ کرتے ہیں اور بیرونی دنیا اور عالمی اداروں میں بھی یہ احساس پایا جاتا ہے۔ یہ صورتحال خود ثابت کرتی ہے کہ ہماری بہادر اور پیشہ وارانہ قابلیت سے لیس سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ آخر طالبانیت کے عشق سے سرشار وفاقی وزراء کیوں بھول گئے کہ وہ جو شہید ہوئے تھے، وہ کس جنگ کا رزق ہوئے تھے۔؟ عقیدہ فروشوں کے ساتھ ساتھ طالبان کو عام معافی دینے والے پالیسی سازوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ ہمیں اپنے ملکی مفادات اور سماجی ضرورتوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 956859
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش