0
Tuesday 12 Oct 2021 22:30

خواب یا حقیقت

خواب یا حقیقت
تحریر: سید شکیل بخاری ایڈووکیٹ

ملکی سلامتی آپ کی زندگی سے زیادہ اہم ہے، ملکی سلامتی کی خاطر آپ کو بہت سی قربانیاں دینی پڑتی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ آپ آزادانہ حرکت نہ کرسکیں، اپنی مرضی سے کسی سے مل نہ سکیں، آپ کے خاندان کے افراد اور حتی آپ کے عزیز دوست بھی آپ کو باآسانی نہ مل سکیں، ملک سے باہر نہ جا سکیں وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ آپ زندگی میں تنہا رہ جاٸیں، کوٸی آپ کا پرسان حال تک نہ ہو، مگر یہ سب ملکی سلامتی کی خاطر کرنا پڑتا ہے۔ اگر آپکو یقین نہیں آتا تو تجربہ کرکے دکھ لیں، جیسا کہ میں نے کیا۔ جناب کونسا تجربہ میں نے پوچھا۔؟

کہا کہ آپ دفاعی سلامتی کے لیے کوٸی نیا اور منفرد کام کر دیں، ملک کو ایٹمی طاقت بنا دیں، تاکہ دشمن اس کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے اور پھر دیکھیں آپ کی تمام آزادی سلب ہو جائے گی اور زندگی میں محدود کر دیٸے جاٸیں گے، یہی یہاں کے حکمرانوں کا وطیرہ رہا ہے۔ قاٸد اعظم کو ہی دیکھ لو، جس ایمبولینس میں ہسپتال جا رہے تھے، اس کا پٹرول ختم ہوگیا۔ فاطمہ جناح کو زہر دیا گیا اور پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو قتل کر دیا گیا اور بھی بولوں یا کافی ہے۔؟ میں نے کہا شاٸد اس کی کوٸی اور وجہ ہوگی۔؟

وہ مسکرایا اور کہا کہ ایک وجہ اور بھی ہے اور وہ ہے بیش بہا قیمت انسان کی نا قدری کرنا، ذاتی مفادات کی خاطر اور دنیا کی نظر میں اپنے قد کو اونچا کرنے کی خاطر، عالمی اداروں سے شاباشی لینے کی خاطر اپنے محسن ملت اور باوقار انسان کو بے وقار کر دینا، اس پر بے جا پابندیاں لگا دینا اور اسے غدار تک کہنے سے نہ رکنا۔ ڈالر کے مقابلے میں اپنے ملک کے قیمتی اثاثے کو ذلیل و رسوا کرنا اور اس عالم بے بسی میں وہ اگر مر جائے تب بھی اس کے جنازے میں شرکت تک نہ کرنا۔ آج علی الصبح اٹھا تو طبیعت نڈھال تھی، کوٸی اور مسٸلہ دراصل نہ تھا، اس کی وجہ رات کا خواب تھا، ہوا یہ کہ رات میرے خواب میں ڈاکٹر عبد القدیر خان آئے اور یہ سب باتیں کر گٸے۔
خبر کا کوڈ : 958406
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش