0
Tuesday 12 Oct 2021 22:58

پیغمبر اکرمؐ کا اپنے اصحاب کے ساتھ برتاؤ

پیغمبر اکرمؐ کا اپنے اصحاب کے ساتھ برتاؤ
تحریر: امام بخش جنتی
Imambuxjannati@gmail.com

انسان کیلئے زندگی گزارنے کی خاطر نمونہ عمل کا ہونا ضروری ہے۔ ہم مسلمانوں کے لیے نبی اکرمؐ نمونہ عمل ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ رسولِ خداؐ نے اپنے اصحابؓ کے درمیان کیسے زندگی بسر کی ہے۔
(1) عملی تربیت
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو زبانی واعظ و نصیحت کرنے سے کہیں زیادہ اپنے عمل سے انہیں اچھی عادات اور نیک کردار کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ کے طور طریقے اسلامی تربیت کا کامل نمونہ تھے۔

(2) انداز گفتگو اور سادگی
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہونٹوں پر ہر وقت ایک حسین اور پرکشش مسکراہٹ پھیلی رہتی، لیکن قہقہہ لگا کر کبھی بھی نہ ہنستے، تند و تیز گفتگو اور غصے سے پرہیز فرماتے اور جھوٹ کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ جب تک لوگوں کی حالت اچھی نہ ہو جائے، آپ (ص) خود یا آپ کے اہل خانہ دوسروں سے خوشحال زندگی گزاریں۔ آپ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ تنگی میں دن کاٹیں اور آپ کے گھر والے ناز و نعم میں زندگی بسر کریں۔ آپ ہمیشہ لوگوں کی حالت بہتر بنانے کی کوشش کرتے اور خود بہت سادہ زندگی گزارتے تھے۔

(3) انکساری
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جوان اور بوڑھے کا لحاظ کرتے اور سلام کرنے میں ہمیشہ پہل کرتے تھے۔ آپ بیماروں کی عیادت کرتے اور اگر کوئی مسلمان انتقال کر جاتا تو اس کے جنازے میں شرکت کرتے تھے۔ مہمانوں کا استقبال ہمیشہ بڑی گرم جوشی سے کرتے تھے۔

(4) مہر و محبت اور آداب
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مسلمانوں کو ایک بھائی کی نگاہ سے دیکھتے اور ہر ایک کے ساتھ مہر و محبت کا بھرتاؤ کرتے تھے۔ جب نبیﷺ صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرماتے تھے تو انتہائی سادگی اور انکساری کا اظہار فرماتے، حتیٰ اگر کوئی اجنبی اس محفل میں آتا تو اس سے پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان میں سے رسول خدا کون ہیں۔ اگر لوگوں کے ہمراہ کہیں تشریف لے جاتے تو سب سے آگے نہیں چلتے، بلکہ لوگوں کے درمیان چلتے تھے۔

(5) عفو و درگزر
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عفو و درگزر کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنے سرکش دشمنوں پر قابو پا لینے کے باوجود انہیں معاف کر دیتے تھے، تاکہ وہ اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے اپنی اصلاح کرلیں اور مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہو جائیں۔ چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر آپ (ص) نے ان سرداران مکہ کو بھی معاف کر دیا، جن کے متعلق آپ (ص) کو شدید تحفظات تھے۔ جنہوں نے آپ (ص) کو اور آپ کے پیروکاروں کو بے انتہاء اذیتیں دی تھیں، آپ کے خلاف سازشیں کی تھیں اور جنگیں لڑی تھیں، آپ کی طبیعت میں کینہ اور انتقام نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ آپ (ص) دوست اور دشمن دونوں پر مہربان ہوتے تھے۔ طاقت کے باوجود عفو و درگزر اور رحمدلی سے کام لیتے تھے۔

(6) آپ (ص) کا عدل و انصاف
رحمدل ہونے کے باوجود آپ (ص) ایک اسلامی حکمران کے طور پر محروم لوگوں کو ان کا حق دلانے اور عدل و انصاف قائم کرنے میں کوئی رعایت نہیں برتتے تھے۔ آپ (ص) ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ کسی حقدار کا حق چھین لیا جائے۔

(7) ثابت قدمی
دشمنوں کے مقابلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہادری اور ثابت قدمی کا یہ عالم تھا کہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آتی تھی۔ چنانچہ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں، جب جنگ کی آگ شدت سے شعلہ بار ہوتی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سب سے کہیں زیادہ دشمن کے قریب ہوتے تھے۔

(8) بیت المال کی تقسیم
ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیت المال میں تقریباً 90 ہزار درہم کی خطیر رقم آئی، جسے آپ نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا تھا۔ آپ نے یہ ساری رقم ایک چادر پر پھیلا دی اور پھر مستحق لوگوں میں بانٹ دی اور خود اپنے لئے اس میں سے ایک درہم نہ لیا۔ بعد میں آپ پورے اطمینان سے اسی چادر پر سو گئے اور جب لوگوں نے آپ کے لئے ایک نرم بستر بچھانا چاہا تو آپ نے فرمایا میں دنیا میں ایک مسافر کی مانند ہوں، جو تھوڑی دیر کے لئے ایک درخت کے سائے میں آرام کرتا ہے اور پھر اپنے راہ پر چل کھڑا ہوتا ہے۔ ایک صحابی کا کہنا ہے کہ ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگوں کے ساتھ نماز عصر پڑھ رہے تھے، نماز ختم ہوتے ہی نبیﷺ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑی تیزی سے لوگوں کی صفیں چیرتے ہوئے اپنے گھر تشریف لے گئے اور کچھ دیر بعد آپ واپس آئے اور فرمایا: مسلمانوں کا کچھ مال ہمارے گھر میں رکھا تھا، اچانک مجھے اس کا خیال آیا اور دل میں خوف آیا کہ یہ ہمارے پاس پڑا رہا تو ہمیں اس کے لیے جوابدہی کرنا ہوگی، اسی لیے میں گھر گیا اور اسے حاجت مندوں میں تقسیم کرکے آیا ہوں۔

(9) قناعت پسندی
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قناعت و سادگی اور بے نیازی اس وقت کی تھی، جب آپ (ص) حاکم تھے اور آپ (ص) کی قوت اور اثر و رسوخ میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ آپ کو بہت سی کامیابیاں مل رہی تھی اور بڑی بڑی جنگوں میں آپ کو دشمن پر فتح ملی تھی۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے سرپرست کی حیثیت سے آپ کے اختیار میں بیت المال ہوتا تھا۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود آپ یہ نہیں بھولتے تھے کہ یہ مال سب مسلمانوں کا ہے، آپ خود کو ملت اسلامیہ کا ہی ایک فرد سمجھتے تھے اور بیت المال سے دوسروں کے برابر ہی حصہ وصول کیا کرتے تھے۔

(10) بھائی چارگی
اخوت اور بھائی چارگی کا قیام انتہائی اہم قدم تھا، طبقاتی نظام، بی جا تعصبات، قبائلی غرور اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان دشمنی اور نفرت اس دور کے متعصب اور جاہل معاشرے کے لئے کسی بلا سے کم نہ تھی۔ لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارگی کا رشتہ قائم کرکے ان تمام مسائل کو اپنے پاوں تلے کچل دیا۔ نبیﷺ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قبیلے کے سردار کو ایک انتہائی غریب اور متوسط طبقے کے شخص کا بھائی بناتے ہوئے فرمایا آج سے تم دونوں آپس میں بھائی ہو۔

(11) مسجد ضرار کا انہدام
جب کبھی منافقین کے کسی گروہ نے منصوبہ بندی کے ساتھ تحریک شروع کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کا مقابلہ کیا۔ ایک مرتبہ ان لوگوں نے منافقانہ سازشوں کے لئے لیے ضرار نامی مسجد کو مرکز بنایا۔ اسلامی حکومت سے باہر روم کے قلمرو میں موجود ابو عامر راہب جیسے شخص سے رابطہ برقرار کیا، تاکہ رومیو کے ذریعے سرور کائنات (ص) پر لشکر کشی کی جائے۔ اس منصوبہ بندی کے ساتھ کی جانے والی دشمنی کا مقابلہ کرنے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد ضرار منہدم کرا دی اور فرمایا کہ یہ عمارت مسجد نہیں بلکہ یہ اللہ اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا گڑھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے منصوبہ ساز دشمنوں، منافقوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا، لیکن دیگر منافقین کے ساتھ نرم سلوک روا رکھا، کیونکہ ان کا خطرہ انفرادی تھا۔ اکثر و بیشتر سرور کائنات (ص) اپنے نیک سلوک کے ذریعے انہیں شرمندہ ہونے پر مجبور کر دیتے تھے۔

(12) دشمن گروہوں کے ساتھ برتاؤ
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ تدبر اور غور و فکر کے بعد کوئی کام کرتے تھے، ہر کام کو بروقت انجام دیتے اور کسی بھی کام کا وقت گزرنے نہیں دیتے تھے۔ انفرادی لحاظ سے آپ قناعت پسند اور پاک و صاف طبیعت کے مالک تھے۔ آپ (ص) کی شخصیت میں کسی بھی قسم کی کمزوری کا کوئی پہلو نہیں پایا جاتا تھا۔ آپ پاک و صاف اور عصمت کے مالک تھے۔ یہ خود ہی معاشرے پر اثر انداز ہونے کا ایک بہترین سبب ہے۔ عمل زبان سے کہیں زیادہ موثر ہوتا ہے۔ آپ ہمیشہ صاف صاف بات کیا کرتے تھے۔ لیکن جب کبھی دشمن سے واسطہ پڑتا تھا تو ایسی سیاست سے کام لیتے کہ دشمن آپ (ص) کی تدبیر سے دھوکہ کھا جاتا تھا۔ چاہے سیاسی اعتبار سے ہو، یا دفاعی لحاظ سے، آپ (ص) نے متعدد بار دشمن کو دھوکہ کھانے پر مجبور کر دیا۔ لیکن مسلمانوں اور عام لوگوں کے ساتھ سیدھی سیدھی بات کرتے تھے۔ کبھی مبہم بات نہیں کرتے تھے اور بوقت ضرورت انتہائی نرمی کا بھی بھرپور مظاہرہ کرتے تھے۔

(13) مکمل رہنمائی
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی اسلام اور مسلمانوں کے لیے کوئی خطرہ محسوس کرتے تو مسلمانوں کی مکمل رہنمائی کرتے اور کسی صورت میں بھی مسلمانوں کو غفلت برتنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع و ماخذ
 (1) مکارم الاخلاق نسخہ خطی نگارندہ۔
(2) محمد رسول الله ص ۳۹
(3) طبقات ابن سعد۔
(4) تاریخ النبی احمد۔
(5) سیره حلبیه ص۱۳۲
(6) مکارم الاخلاق نسخه خطی
(7) دوائرالعلوم ص 45
خبر کا کوڈ : 958411
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش