0
Tuesday 26 Oct 2021 14:31

27 اکتوبر۔۔۔۔ رہبر اور رہزن کی تشخیص

27 اکتوبر۔۔۔۔ رہبر اور رہزن کی تشخیص
تحریر: نذر حافی

آج خواجہ غلام نبی گلوکار انور کا نام ہمارے لئے نامانوس ہے۔ بعض تاریخی نام اس لئے بھی نامانوس ہو جاتے ہیں، جب تاریخ نویسی اور تاریخ گوئی میں حقائق کے بجائے عقائد محور بن جاتے ہیں۔ 1947ء کے ماہِ اگست میں جب پاکستان اور ہندوستان کو برطانوی استعمار سے  آزادی مل گئی تو اکتوبر 1947ء کی چار تاریخ کو کشمیر کی آزادی اور انقلابی حکومت کا اعلان بھی کیا گیا۔ اس انقلابی حکومت کی سربراہی غلام نبی گلوکار کے پاس تھی، سیاسی سرگرمیوں کے پیشِ نظر غلام نبی گلوکار کا فرضی نام انور رکھا گیا تھا اور موصوف نے اسی نام سے مہاراجہ ہری سنگھ ڈوگرہ کو معزول کرنے کا اعلان بھی کیا۔ یہ اعلان چار اکتوبر کو کیا گیا۔ اس کے مطابق مہاراجہ ہری سنگھ کو کشمیر کا حکمران کہلانے پر سزا دینے کا حکم دیا گیا۔ اس کے صرف دو دن کے بعد چھ اکتوبر کو غلام نبی گلوکار نے مہاراجہ کا تعاقب کرنے کیلئے مقبوضہ کشمیر کا رُخ کیا۔

مقبوضہ کشمیر میں وہ جلد ہی گرفتار ہوگئے اور تقریباً ایک سال کی گرفتاری کے بعد اُنہیں واپس پاکستان کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ گرفتاری اُن کی ایک طرح کی سیاسی کلاس ثابت ہوئی۔ اس کے بعد وہ الحاقِ پاکستان اور تکمیلِ پاکستان کے بجائے خود مختار کشمیر کے مبلغ، داعی اور لیڈر بن گئے۔ بالآخر حکومتِ پاکستان نے انہیں 1959ء میں کچھ عرصے کیلئے گرفتار کیا۔ یہ گرفتاری کچھ زیادہ سود مند ثابت نہ ہوئی اور اس کے بعد غلام نبی گلوکار نے خود مختار کشمیر کے نام پر دن رات فعالیت اور جدوجہد کی۔ خواجہ صاحب کی سوچ غلط تھی یا درست، وہ ایک منطقی اور آزاد فکر رکھتے تھے یا ہندوستانی ایجنسیوں کی زبان بول رہے تھے، ان کی فعالیت کے پیچھے اسلام دشمن مرزائی عقائد مخفی تھے یا بحیثیت کشمیری قوم پرست وہ کشمیر کے بارے میں کچھ منفرد سوچنے لگے تھے۔ اس کے بارے میں اگر کچھ سمجھنا ہو تو کشمیر میں محاذ رائے شماری کی تاریخ اور نظریات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔

ہم اپنے قارئین کو یہ بتا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں کہ چار اکتوبر 1947ء کو خواجہ غلام نبی گلوکار کی جس انقلابی حکومت کے اعلان نے ہندوپاک کے لوگوں کو  آزاد کشمیر کا تصور دیا تھا، وہ خود اگلے دو دنوں میں ہی زیرِ زمین چلی گئی تھی۔ جس کے اٹھارہ دن کے بعد 24 اکتوبر 1947ء کو کشمیر میں پونچھ کے علاقے تراڑ کھل سے ایک مرتبہ پھر ایک نئی حکومت کا اعلان کیا گیا۔ یہ نئی حکومت ان علاقوں پر مشتمل تھی، جو مہاراجہ کے اختیار سے نکل چکے تھے۔ چنانچہ اس نئی حکومت کا نام آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر رکھا گیا اور اس کے سربراہ سردار محمد ابراہیم خان مقرر ہوئے۔ سردار محمد ابراہیم خان کی عبوری حکومت کا نصب العین ملاحظہ فرمائیے: ’’عارضی حکومت جو ریاست کا نظام اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے، ایک فرقہ وارانہ حکومت نہیں ہے۔ اس حکومت کی عارضی کابینہ میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم بھی شریک ہوں گے۔ حکومت کا مقصد سردست ریاست میں نظم و نسق کی بحالی ہے کہ عوام اپنی رائے سے ایک جمہوری آئین ساز اور ایک نمائندہ حکومت چن لیں۔ عارضی حکومت ریاست کی جغرافیائی سالمیت اور سیاسی انفرادیت برقرار رکھنے کی متمنی ہے۔ پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ ریاست کے الحاق کا سوال یہاں کے عوام کی آزادانہ رائے شماری سے کیا جائے گا۔‘‘

یہاں پر ریاستِ کشمیر پر مہاراجہ خاندان کی حکومت کو سمجھنے کیلئے معاہدہ امرتسر کا مطالعہ کرنا بھی اشد ضروری ہے۔ تاہم اس وقت ہم یہ بتانا چاہیں گے کہ  اس نئی حکومت کے اعلان کے تین دن کے بعد 27 اکتوبر 1947ء کی شب بھارت نے آزاد کشمیر پر حملہ کر دیا، بھارتی حملے نے پاکستان کیلئے بھی کھلی فوجی مداخلت کا جواز پیدا کیا اور یوں یہ منطقہ میدانِ جنگ بن گیا۔ جس طرح بھارت کی چڑھائی نے پاکستان کو فوجیں داخل کرنے پر مجبور کیا، اسی طرح پاکستان کی طرف سے قبائلیوں کی کشمیر میں فتوحات نے بھارت کو لرزا کر رکھ دیا تھا۔ یوں یہ شکست و ریخت 27 اکتوبر 1947ء کو ایک بڑی جغرافیائی تبدیلی کی باعث بنی۔ کشمیر میں قبائلیوں کا داخلہ کشمیریوں کے ساتھ نظریاتی اور دینی یکجہتی کی بنیاد پر تھا، تاہم ہندوستان کا داخلہ کسی نظریاتی وحدت کے بجائے استعماری اہداف کے حصول کیلئے تھا۔

 اس کے بعد کشمیر کے ایک بڑے حصے پر ہندوستان کی فوجیں قابض ہوگئیں اور یہ دن نظریاتی کشمیریوں اور پاکستانیوں کیلئے یومِ سیاہ میں تبدیل ہوگیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ 28 اکتوبر 1947ء کو آزاد کشمیر میں وہیں تراڑکھل کے مقام پر پہلے عسکری تربیتی کیمپ کی بنیاد بھی رکھی گئی۔ اس نئی حکومت کو مقبوضہ جموں و  کشمیر کی آزادی کیلئے ایک بیس کیمپ کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا اور یہ امید کی جا رہی تھی کہ جلد ہی باقی کشمیر بھی آزاد کروا لیا جائے گا۔ اب یہاں پر یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ اس وقت اگرچہ اس مسئلے پر کارگل وار کو شامل کرکے ہندوپاک کے بیچ چار خونی جنگیں ہوچکی ہیں، تاہم اب چین بھی اس تنازعے کا ایک اہم اور مضبوط فریق ہے۔ 1962ء کی چین و ہند جنگ میں چین نے اکسائی چن کے جس رقبے پر قبضہ جمایا ہے، اب وہ بھی اس سے دستبردار ہونے والا نہیں ہے۔

تینوں فریقوں کی موجودگی میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو سمجھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ ممکن ہے کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا تعلق تقسیمِ برِّصغیر سے ہے، جبکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ برطانوی راج میں بھی کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی اور اس کے بعد سلامتی کونسل نے بھی اسی خصوصی حیثیت کو آج تک برقرار رکھا ہوا ہے۔ البتہ جہاں تک تقسیمِ برصغیر کے بعد بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو قبول اور لغو کرنے کا معاملہ  ہے تو اس کا پسِ منظر جاننا بہت ہی ضروری ہے۔ شیخ عبداللہ اور جواہر لال نہرو نے 20 جون 1949ء کو مہاراجہ ہری سنگھ سے ان کے بیٹے یوراج کرن سنگھ کو اقتدار منتقل کروایا۔ اس کے بعد یوراج کرن سنگھ سے 1935ء کے انڈیا ایکٹ کو ختم کروایا، جس سے ہندوستانیوں کیلئے کشمیر پر ہندوستان کے آئینی قبضے کی امید پیدا ہوئی۔

یوں قانونِ ہند میں ایک عبوری دفعہ آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت دے کر ہند کے قانون کے اندر لانے کی سعی کی گئی۔ ہندوستان کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت  کا نعرہ دراصل پاکستان کے موقف کے مقابلے میں کشمیر کو خود مختار بنانے کی فکر کو مستقل کرنے کیلئے تھا، چنانچہ اس وقت شیخ عبداللہ کی جماعت آل جموں اینڈ کشمیر نیشنل فرنٹ اور ہندوستان دونوں نے ایک دوسرے کی بھرپور مدد کی، لیکن اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اپنی 1957ء کی قرارداد نمبر122 میں اس کاوش کو رد کر دیا۔ بظاہر شیخ عبداللہ اور ہندوستان دونوں ناکام تو ہوئے، لیکن دونوں نے اہلیانِ جموں و کشمیر کے سطحی اور جذباتی سوچ رکھنے والے ایک بڑے طبقے کو نظریاتی طور پر متاثر ضرور کیا ہے۔

ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اظہر من الشّمس ہے کہ گذشتہ پچہتر سالوں میں شیخ عبداللہ جیسے کشمیری سیاستدان دہلی سرکار کے ہاتھوں  مسلسل تھالی کے بینگن بن کر ذاتی مفادات اور مراعات کے علاوہ اپنی قوم کیلئے کچھ بھی ہندوستان سے حاصل نہیں کرسکے۔ اس کے نتیجے کے طور پر آج جموں و کشمیر میں سات لاکھ سے زیادہ فوجی گینگ ریپ، انسانی حقوق کی پامالی، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، اغوا برائے تاوان، نفسیاتی ٹارچر، جعلی مقابلوں، اجتماعی قتل عام، مقامی تجارت کے خاتمے، آئے روز کے کرفیو اور سکولوں، کالجوں اور دینی مدارس کی تباہی میں مصروف ہیں۔ مظالم کی یہ شرح دنیا کے کسی بھی منطقے کی نسبت بہت زیادہ ہے۔

پانچ اگست 2019ء کو بی جے پی کی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا جو اعلان کیا ہے، یہ اعلان درحقیقت اُن لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے، جنہوں نے ماضی میں مسئلہ کشمیر کو اُس کی نظریاتی بنیادوں سے جدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنہوں نے یہ سوچا کہ قوم پرست کشمیری بن کر اور ہندوستان کے ساتھ مل کر وہ پاکستان کو نظر انداز کرکے کچھ حاصل کر پائیں گے۔ 27 اکتوبر کا دن جہاں ہمارے لئے یومِ سیاہ ہے، وہیں ہمیں یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ نظریات سے پھسل کر کوئی بھی قوم منزل تک نہیں پہنچ سکتی۔ ہمیں اس دِن یہ احساس کرنا چاہیئے کہ جو سیاستدان نظریات کی تجارت اور سودے بازی کرتے ہیں، وہ رہبر نہیں بلکہ رہزن ہوتے ہیں۔ یہ دِن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمیشہ نظریات کی کسوٹی ہی حقیقی کسوٹی ہے اور اقوام کو اسی کسوٹی پر رہبر اور رہزن کو تشخیص دینا چاہیئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: بعض نے گلکار، بعض نے گلوکار لکھا ہے. گلکار کے بارے میں بھی دو رائے ہیں. بعض کہتے ہیں کہ گل یعنی مٹی اور گلکار یعنی مٹی کا کام کرنے والے اور بعض کہتے ہیں کہ گل یعنی پھول اور گلکار یعنی کپڑوں اور قالینوں پر پھولوں کی کڑھائی کرنے والے جبکہ گلوکار اگر ہو تو اس کیلئے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں. شکریہ
خبر کا کوڈ : 960552
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش