0
Wednesday 27 Oct 2021 19:13

وحدت مسلمین اور اس کے تقاضے

وحدت مسلمین اور اس کے تقاضے
تحریر : سیّدہ تسنیم اعجاز

"عشق پیغمبر اعظمؐ مرکز وحدت مسلمین" کے عنوان سے ٢۴ اکتوبر ١٧ ربیع الاوّل بروز اتوار کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ایک عظیمُ الشّان تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے بھرپور شرکت کی۔ سیاسی رہنما، مذہبی رہنما اور اہل علم و دانش کی بڑی تعداد کے علاوہ عوام کا جم غفیر دیکھ کر بے حد خوشی محسوس ہوئی۔ ایسے روحانی اقدام اپنے حقیقی قائد "نبئ رحمةؐ" سے اظہار عقیدت و محبت کے علاوہ انتہائی امید افزا بھی ہیں اور اسلام کے دشمنوں کی سازشوں کو بے نقاب کرنے کیلئے بے حد ضروری بھی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ طول تاریخ میں اسلام کا حقیقی درد رکھنے والوں نے ہمیشہ وحدت کی بات کی ہے۔  کسی اختلاف رائے کو بنیاد بنا کر نفرتوں کے آتشکدے روشن کرنیوالے اسلام اور سلامتی کی بات کر بھی کیسے سکتے ہیں۔؟ ایسے شیطان صفتو ں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے بھی عاشقان رسولؐ کا وحدت کے پلیٹ فارم پر جمع ہونا ناگزیر ہے۔

چند خوشگوار اقدام جو دیکھنے میں آئے ان میں ایک خواتین اور بچوں کی بھرپور شرکت تھی، جنھیں عموماً ہمارے ہاں اس قسم کی محافل میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہماری آبادی کا نصف سے زیادہ عورتوں اور بچوں پر مشتمل ہے تو کیا ہم ایسی فکری ارتقائی محافل میں ان کی دوری سے خاطر خواہ نتائج حاصل کر پائیں گے۔؟ ضمناً ایک بات جس کا ذکر غالباً یہاں مناسب ہوتا ہے، وہ ہے مساجد سے خواتین کو دور رکھنا۔ یعنی کیا یہ بات تکلیف دہ نہیں کہ ہماری خواتین جو زندگی کے ہر شعبے میں برسرپیکار ہیں، اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھتی اور ادا کرتی ہیں، مساجد میں داخلہ ان کیلئے ممنوع قرار دے دیا جائے۔؟ مسجد نبویؐ میں تو خواتین بِنا روک ٹوک آتی اور اپنے مسائل کا حل رسولؐ خدا سے لیتی تھیں اور اب جبکہ عورت نے اپنے مضبوط کردار سے اپنی قابلیت کا لوہا پورے شرق و غرب میں منوا لیا ہے۔ کیا اسے دوبارہ زمانہ جاہلیت کے اندھیروں میں دھکیل دینا چاہیے۔۔؟ یا پھر ہمیں اپنی فکر اور اپنے شعور کی اصلاح کرنی چاہیے۔؟ ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں عورت کی مُثبت شمولیت کے بِنا کوئی بھی معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔

یہ ایک ضمنی مسئلہ تھا، جو آپ قارئین کے سامنے پیش کیا گیا اور جس پر بہرحال دِقّت نظر کی ضرورت ہے۔ دوسری اہم بات جو کنونشن سینٹر کے اس پروگرام کو کامیاب بناتی ہے وہ کم وقت اور محدود وسائل کے باوجود ہزاروں شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کی مہمان نوازی کا انتہائی مناسب بندوبست ہے۔ غیر یقینی حد تک عوام کی بڑی تعداد میں شمولیت کے باوجود کسی قسم کی بھگدڑ یا نا خوشگوار واقعہ دیکھنے میں نہیں آیا، البتہ بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔  دوسری طرف رِم جھم بارش کے انگڑائیاں لیتے حسین موسم میں آنیوالے عوام و خواص کی اپنے پیارے رسولؐ سے محبت و عقیدت کا منظر بھی دیدنی تھا۔ علاوہ ازیں جس بات نے ہماری توجہ اپنی جانب جذب کی وہ مختلف مکاتب فکر کی قیادت میں نظر آنیوالی وحدت، باہمی رواداری اور احترام تھا جو ہمیں معاشرے کے امن و سکون کا خوش آئند نقطۂ آغاز محسوس ہوا۔ انتہائی دلنشین اور سادہ الفاظ میں رسولؐ خدا کے اسوہ حسنہ کو بیان کیا گیا اور وحدت کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔ البتہ ماضی میں جس چیز کی کمی کو محسوس کیا گیا وہ ہمہ جہت اور مسلسل کوششیں ہیں یعنی کچھ ایسے اقدام کیے جانے چاہئیں جو وحدت کی ضرورت کا یہ احساس حصول وحدت تک باقی رکھیں۔ ’’رات گئی بات گئی‘‘ والا عمل نہ ہو بلکہ سال بھر عشق رسولؐ اور اس کے تقاضوں پر بات ہونی چاہیے۔

حق تو یہی تھا کہ رسولِؐ واحد کی امت، امتِ واحدہ ہی ہوتی۔ جس نبئ رحمتؐ نے انسان کے ہر قسم کے ننگ و عار کو لباس تقویٰ عطا کیا ہو، اسے بُتانِ رنگا رنگ سے نجات دلا کر خدائے وحدہٗ لاشریک سے آگاہی عطا کی ہو، نفرتوں کے آتش کدے بجھا کر محبتوں کے دیئے روشن کیے ہوں، غرض دم توڑتی انسانیت کو اپنے کردار کی بلندیوں سے معراج انسانیت عطا کی ہو۔ اسے عشق تو زیب دیتا ہی ہے۔۔ پر کیا ہم ایسے عاشق زیب دیتے ہیں۔۔۔؟!! لہٰذا چاہیے کہ ہم اپنے افعال و کردار کی نگرانی کریں تاکہ اخوت و محبت کیساتھ وحدت کلی پیدا ہو سکے۔ علاوہ ازیں یہ بھی ضروری ہے کہ امت کیلئے درد دل رکھنے والے ’’وحدت فعلی‘‘ کیساتھ ’’وحدت فکری‘‘ پر کام کریں۔ شعوری اور فکری ایثار کو بیان کیا جائے۔ اپنے حصے کی روٹی دینا آسان لیکن اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا بہرحال مشکل کام ہے اور در حقیقت اسی احساس کا پیدا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ یکجہتی کا مطلب اپنا اپنا راستہ ماپنا نہیں بلکہ ایک ہی جہت میں آگے بڑھنا ہے، اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب ہم سچے اور اچھے مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے شعوری اور فکری ایثار کو اپنی زندگیوں میں شامل کرلیں۔ اپنے موقف میں لچک پیدا کرکے دوسروں کی فکر کو اپنی فکر میں شامل کریں۔ دشمن ہمارے ہاتھوں میں ڈلے ہاتھ الگ نہیں کر سکتا۔ اگر ہمارے جڑے ہوئے دلوں میں خلوص اور بڑھتے ہوئے شعوری قدموں کا نتیجۂ فکر ایک ہو۔
خبر کا کوڈ : 960713
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش