0
Monday 22 Nov 2021 19:30

سوڈان میں اسرائیلی سازشیں

سوڈان میں اسرائیلی سازشیں
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

سوڈان میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد، گورننگ کونسل میں شامل فوجی گروپ نے سوڈانی وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے ساتھ موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لیے بالآخر ایک معاہدہ کر لیا ہے۔ اس طرح حمدوک نے سوڈان کے وزیراعظم کے طور پر پیر کے روز اپنے عہدے کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔ 14 نکاتی سیاسی معاہدے میں تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی اور ایک منظم سوڈانی فوج بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔ معاہدے میں 2019ء کی آئینی دستاویز پر بھی زور دیا گیا ہے، جو سوڈان میں عبوری مدت کو مکمل کرنے کے لیے اہم حوالہ ہے۔ سوڈان میں سیاسی بحران 25 اکتوبر کو سعودی فوج کے ہاتھوں سوڈانی وزیراعظم حمدوک کی گرفتاری اور ان کی نامعلوم مقام پر منتقلی کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس اقدام کے بعد، فوج نے باضابطہ طور پر اقتدار سنبھال لیا اور سوڈانی فوج کے کمانڈر انچیف عبدالفتاح البرہان نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی نئے وزیراعظم اور گورننگ کونسل کے ارکان کے نام کا اعلان کریں گے۔ سوڈانی فوج کے اس اقدام پر ملک کے عوام اور جماعتوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا اور سوڈان سے باہر بھی مختلف ممالک نے اس بغاوت کی مذمت کی۔

فوجی کارروائی کے ایک ماہ سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی نہ صرف ملک میں عوامی مظاہرے کم نہیں ہوئے بلکہ سوڈان میں غیر ملکی مداخلت کے بڑھنے سے صورت حال مزید خراب ہوتی گئی۔ سوڈانی عوام جنہوں نے ایک سویلین حکومت کی تشکیل اور عمر البشیر کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاکہ جمہوری منتقلی کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل، خاص طور پر غربت، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل پر قابو پایا جاسکے، لیکن موجودہ صورت حال نے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ غیر ملکی مداخلتوں میں اضافے اور امریکہ اور صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات استوار ہونے سے سوڈانی عوام کے اسلامی اور انسانی نظریات بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ درحقیقت موجودہ سیاسی بحران نے ملک میں اسرائیلی حکام کی زیادہ گہری اور براہ راست موجودگی نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ  اسرائیل، سوڈانی حکومت میں فوج کی موجودگی اور حالیہ بغاوت کا خیر مقدم کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ سوڈان میں حکام نے اپنی سرزمین پر فلسطینی تحریک "حماس" کے تمام اثاثے ضبط کر لیے ہیں، اس تحریک کو فنڈز کی منتقلی روک دی ہے اور اس کے لیے کام کرنے والی کمپنیوں اور افراد کے اکاؤنٹس منجمد کر دیئے ہیں۔

سوڈانی حکام نے برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے حماس مخالف اس سرکاری اقدام کی تصدیق کی ہے۔ رائیٹرز کے مطابق سوڈان میں حماس کے اثاثے اور جائیدادیں کئی دہائیوں سے اس کی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم وسیلہ رہی ہیں۔ سوڈان میں اس تحریک کے اثاثوں میں ہوٹل، رئیل اسٹیٹ، کثیرالمقاصد کمپنیاں، اراضی اور کرنسی کے تبادلے کے کاروبار شامل تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سوڈان کی وزارتِ خارجہ نے 23 اکتوبر2020ء کو امریکا کی ثالثی اور سرپرستی میں صہیونی ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی منظوری کا اعلان کیا تھا۔ اس سرکاری اعلان سے قبل جنرل عبدالفتاح البرہان کے زیر قیادت ملک کی عبوری حکمران خود مختار کونسل نے کہا تھا کہ امریکا کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوڈان کا نام ’’دہشتگردی کی سرپرستی کرنیوالی ریاستوں‘‘ کی فہرست سے حذف کرنے کے فیصلے پر دستخط کر دیئے ہیں۔

معروف سیاسی ماہر عبدالباری عطوان کا کہنا ہے کہ "سوڈان افراتفری اور عدم استحکام کے ایک دردناک اور بے مثال مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس ملک کو نسلی بنیادوں پر تقسیم ہونے کے امریکی اسرائیلی منصوبے کا سامنا ہے۔" سوڈان میں مہنگائی، غربت اور بیروزگاری ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ سوڈان اور صیہونی حکومت کے درمیان تعلقات کے بدلے امریکی امداد کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ سیاسی نظریات نے بھی عوام کے غصے کو بھڑکا دیا، کیونکہ ملک میں فوجی حکمرانی ایک نئے انداز میں جڑیں پکڑ رہی ہے، اسی لئے سوڈان میں گذشتہ ہفتے کے دوران کئی عوامی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ اب جبکہ بحران میں شدت آچکی ہے، ملٹری کونسل اور حمدوک نے ایک سویلین حکومت بنانے کا معاہدہ کیا ہے۔ سوڈانی وزیراعظم نے ایک ٹیکنوکریٹک، خود مختار حکومت بنانے کا وعدہ کیا ہے، اسی طرح کچھ سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض دیگر کی رہائی متوقع ہے۔

اگرچہ معاہدے پر دستخط سوڈان کے موجودہ بحران میں امید کی کرن ہے اور بہت سے لوگوں کو امید ہے کہ یہ حکومت موجودہ بحران کو ختم کر دے گی، لیکن بعض جماعتوں نے سرکاری طور پر اس طرح کے معاہدے کی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے اسے عارضی طور پر آگ بجھانے کی کوشش احتجاج کا رخ موڑنے کی ایک سازش قرار دیا ہے۔ حزب الأمه نامی جماعت نے اس معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: "کوئی بھی ایسا معاہدہ جو سوڈانی بحران کی جڑوں کو حل نہیں کرتا، ہم اس میں شرکت نہیں کریں گے۔" اسی طرح "مرکزی کونسل"، جو سوڈان گروپ فار فریڈم اینڈ چینج کا حصہ ہے، اس نے کہا ہے کہ ہم اس معاہدے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ ایسا لگتا ہے کہ سوڈان کے وزیراعظم کے ساتھ فوجی معاہدہ سے مختصر مدت کے لئے اس بحران پر قابو پا لیا جائے گا، لیکن سوڈان میں جمہوریت کے قیام اور عوام کے ووٹ کی بنیاد پر عوامی حکومت کے قیام کی منزل ابھی بہت دور ہے۔ بہرحال سوڈان میں جب تک غاصب اسرائیل کی مداخلت رہے گی، اس ملک میں امن اور جمہوریت کا قیام ناممکن نظر آرہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 964893
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش