0
Saturday 27 Nov 2021 23:41

بلوچستان میں کریمنل لاء آرڈیننس اور پی ٹی ایم کا جلسہ

بلوچستان میں کریمنل لاء آرڈیننس اور پی ٹی ایم کا جلسہ
تحریر: اعجاز علی

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں آئے روز احتجاجی دھرنوں، ریلیوں، جلسے اور جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت بلوچستان نے بعض احتجاجوں کی روک تھام کیلئے مذاکرات کا راستہ اپنایا تو کہیں پر عدالت عالیہ بلوچستان نے اپنے احکامات سنائے اور احتجاج کرنے والوں کو اٹھا لیا۔ البتہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور پشتون تحفظ موومنٹ کو روکنا صوبائی حکومت کے بس میں نظر نہیں آرہا تھا۔ ان دونوں کو روکنا بے حد ضروری تھا۔ پی ڈی ایم نے تو کوئٹہ میں اپنا احتجاج کر لیا اور حکومت کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔ جمہوری حکومت میں تو احتجاج کو روکا بھی نہیں جا سکتا ہے۔ البتہ پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد صوبائی مشیر وزارت داخلہ ضیاء لانگو نے ریڈ زون ایریا میں جلسے، جلوسوں اور ریلیوں پر پابندی عائد کر دی۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ جلسوں سے شہر کی ٹریفک میں بدنظمی پیدا ہوتی ہے۔ عوامی سہولیات اور ٹریفک کو فعال رکھنے کیلئے یہ فیصلہ ہوا ہے۔ حالانکہ اس کا اصل مقصد حکومت کے خلاف جاری احتجاجوں کی روک تھام تھا۔

پشتون تحفظ موومنٹ نے بلوچستان کے دارالحکومت میں اپنے احتجاجی جلسے کا اعلان کیا تو حکومت نے پہلے تو پی ٹی ایم کے رہنماؤں کی بلوچستان آمد پر پابندی عائد کر دی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری ہوا، جس کے مطابق صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور عوامی مفاد کی بہتری کیلئے پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو صوبے میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان رہنماؤں میں پی ٹی ایم کے رہنماء منظور احمد پشتین، رکن قومی اسمبلی محسن داور، ثناء اعجاز اور دیگر رہنماء شامل تھے۔ پی ٹی ایم کا جلسہ کل 28 نومبر کو کوئٹہ کے ہاکی گراؤنڈ میں منعقد ہونے والا ہے اور منظور پشتین بھی کسی طرح کوئٹہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس وقت وہ بلوچستان کے دارالحکومت میں موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ کل پی ٹی ایم کے جلسے سے خطاب کریں گے۔

احتجاجوں کو روکنے کے لئے مختلف طریقوں کے استعمال کے بجائے حکومت بلوچستان نے ایک ایسا حل نکالا، جو ان تمام احتجاجوں سے چھٹکارا دلا سکتا تھا۔ حکومت نے صوبے کے اندر کریمنل لاء آرڈننس جاری کر دیا۔ پاکستان کے ایک معروف قومی اخبار کے مطابق یہ آرڈننس گورنر بلوچستان سید ظہور آغا کی منظوری سے فوری طور پر نافذ ہوا ہے۔ اس بار یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آرڈیننس کے اجراء کا مقصد عوام الناس کی روزمرہ زندگی، آمد و رفت اور آزادانہ نقل و حمل میں رکاؤٹ پیدا کرنے کے کسی بھی عمل کو روکنا ہے۔ آرڈننس کے تحت گلی، سڑک یا ہائی وے پر ریلی، جلوس نکالنا اور دھرنا دینا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ آرڈننس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تین تا چھ ماہ سزا اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا دی جاسکے گی۔ آرڈننس کے تحت سڑکوں پر ریلی نکالنے اور دھرنا دینے والوں کو وارنٹ کے بغیر گرفتار کیا جاسکے گا اور سیشن کورٹ یا فرسٹ کلاس مجسٹریٹ جرم ثابت ہونے پر قید و جرمانے کی سزا دیتے کے مجاز ہونگے۔

اب حکومت آرڈیننس نافذ کرتے وقت جتنی چاہے اچھے دلائل اور وجوہات پیش کرے، عوام بھی گاس نہیں کھاتے، جنہیں سمجھ ہی نہ آئے کہ آرڈیننس کا اصل مقصد کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ آرڈیننس فی الحال پی ٹی ایم کے جلسے کی روک تھام اور اس کے بعد مستقبل کے احتجاجوں کو روکنے کیلئے جاری کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر حکومت صوبے کو اسی طرح کے آرڈیننس کے ذریعے ہی چلانا چاہتی ہے تو پھر صوبائی اسمبلی کس کام کیلئے ہے؟ وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو اور ان کی حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کا کیا ہوا؟ اور جو اپوزیشن فرینڈلی بنی ہوئی ہے، اس کا کیا فائدہ؟ کیا اپوزیشن اس آرڈیننس کے بعد بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ نہیں بنائے گی۔؟

حکومت بلوچستان نے اپنے اس آرڈیننس کے ساتھ ہی صوبے میں بدامنی پھیلانے کی پہلی اینٹ رکھ دی ہے۔ پی ٹی ایم کے ماضی کو اگر دیکھا جائے تو یہ ایک ایسی تحریک ہے، جس نے ریاست تک کو نہیں بخشا ہے۔ حکومت بلوچستان کو چاہیئے تھا کہ پی ٹی ایم کو کوئٹہ میں جلسہ کرنے دیتی۔ جلسے کے ایک ہفتے بعد کسی کو یاد بھی نہیں رہتا کہ مقررین نے کہا کیا تھا۔ مگر اسی جلسے میں حکومت نے زور آزمائی کی تو کئی سال تک لوگ اس کا تذکرہ کریں گے۔ اب بلوچستان کے دارالحکومت میں اگر انتظامیہ اور پی ٹی ایم کے کارکنوں کے درمیان کوئی چھوٹا مسئلہ بھی پیش آیا، تو بات بہت آگے نکل سکتی ہے۔ منظور پشتین اور دیگر رہنماؤں کو گرفتار کرنا اور پی ٹی ایم کے جلسے کو روکنا تو بہت دور کی بات ہے۔
خبر کا کوڈ : 965782
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش