0
Monday 29 Nov 2021 00:36

پاک، ایران صدور کی ترکمانستان میں اہم ملاقات

پاک، ایران صدور کی ترکمانستان میں اہم ملاقات
رپورٹ: سید عدیل زیدی

ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے 15ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے برادر اسلامی ملک ایران کے اپنے ہم منصب آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی سے اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر صدر پاکستان ڈاکٹر عارف نے صدر سید ابراہیم رئیسی کو حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد ایران کے صدر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔ ملاقات کے دوران صدر علوی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایران کو ایک اہم مسلم پڑوسی اور بھائی سمجھتا ہے، جس کی بنیاد دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی، لسانی، مذہبی اور ثقافتی روابط ہیں۔ دونوں رہنمائوں نے اعلیٰ سطح کی باقاعدہ بات چیت پر اطمینان کا اظہار کیا، جس سے دوطرفہ تعاون کی مختلف راہوں کو تقویت ملی ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان نے جیو اکنامک خوشحالی اور علاقائی روابط کے ایجنڈے کو تبدیل کرنے کو اولین ترجیح دی ہے۔

تہران میں حال ہی میں منعقدہ جے ٹی سی اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے صدر علوی نے تجارت اور معیشت کے لیے دوطرفہ میکانزم کے باقاعدہ انعقاد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں بارٹر ٹریڈ میکنزم کو بروئے کار لانے پر بھی بات کی۔ صدر علوی نے کشمیر کاز کے لیے ایران کی مسلسل حمایت بالخصوص سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا شکریہ ادا کیا۔ علاقائی صورتحال، خاص طور پر افغانستان کے تناظر میں، صدر علوی نے پڑوسی ممالک کے درمیان نظریات کی بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے قریبی مربوط نقطہ نظر کی ضرورت کی طرف بھی اشارہ کیا۔ صدر عارف علوی نے آیت اللہ ابراہیم رئیسی کو جلد از جلد پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

دونوں برادر اسلامی ممالک کے رہنمائوں نے باہمی دلچسپی کے تمام امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور دو طرفہ تعاون اور تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔ صدور نے دونوں ممالک کے مابین بڑھتے تعلقات اور دو طرفہ تعاون کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تجارتی اور معاشی تعلقات بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں بارٹر ٹریڈ میکنزم کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ آیت اللہ رئیسی نے کہا کہ ایران پاکستان کو برادر ملک سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک کے مابین تجارتی اور معاشی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ایران دنیا کے تمام ممالک اور بالخصوص علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ کا خواہشمند ہے، انہوں نے ہمسایہ اور علاقائی ممالک میں ایرانی مصنوعات کے سلسلے میں پائی جانے والی رغبت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی گنجائشوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

اس ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان، ایران اور ترکمانستان میں تعینات پاکستانی سفراء، پاکستانی وزارت خارجہ کے ڈپٹی اور دونوں ممالک کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ دونوں برادر ممالک کے صدور کی یہ ملاقات گو کہ اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر کسی اور ملک (ترکمانستان) میں ہوئی، تاہم خطہ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ دوطرفہ تعلقات بڑھائیں، خاص طور پر تجارت، قدرتی ذخائر سے استفادے اور دفاعی امور میں تعاون کو فروغ دیں۔ اس تناظر میں توقع کی جا رہی ہے کہ ایران کے صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی جلد پاکستان کا اہم دورہ کریں گے، وزیراعظم عمران خان کے دورہ تہران اور پھر ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل باقری کے دورہ اسلام آباد سے کئی معاملات بہتر سمت میں آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے۔
خبر کا کوڈ : 965886
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش