0
Tuesday 30 Nov 2021 03:02

متنازعہ افراد کو فورتھ شیڈول سے نکالنے کا منصوبہ؟

متنازعہ افراد کو فورتھ شیڈول سے نکالنے کا منصوبہ؟
رپورٹ: زینب فاطمہ

ملک میں امن و امان کے لئے خطرہ سمجھے جانے والے طبقات کو ایک مرتبہ پھر ریلیف دینے کی ہوا چل پڑی ہے، حکومت کبھی تحریک لبیک پاکستان کے سامنے بے بس نظر آتی ہے تو کبھی کئی سالوں تک وطن عزیز میں دہشتگردی کا بازار گرم رکھنے والی تحریک طالبان پاکستان کیساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح اب فورتھ شیڈول میں شامل ایک مخصوص مکتب فکر کے متنازعہ اور شدت پسند افراد کو نوازنے کی منصوبہ بندی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی اور پاکستان علماء کونسل کے سربراہ مولانا طاہر محمود اشرفی کی جانب سے ان کی جماعت (پاکستان علماء کونسل) کے نام سے مختصر فارم پر مشتمل ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے، جس میں فورتھ شیڈول میں شامل کارکنان سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہیں تو رابطہ کریں, تاکہ انہیں شیڈول فور سے نکالا جائے۔ اس سرکلر کا دقیق انداز میں جائزہ لیا جائے تو اس کا متن کچھ اس طرح سے ہے۔

’’فورتھ شیڈول میں شامل افراد متوجہ ہوں‘‘
پاکستان علماء کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ فورتھ شیڈول میں شامل وہ علماء و مشائخ، مذہبی کارکنان، جو کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا اس وقت کسی کالعدم تنظیم یا جماعت سے تعلق نہیں ہے، ان کے حوالے سے حکومت پاکستان سے رجوع کیا جائے۔ لہذا مندرجہ ذیل واٹس ایپ نمبر پر وہ ساتھی جو فورتھ شیڈول میں شامل ہیں اور ان کا کسی منفی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں، اپنی تفصیل ارسال کریں۔
نام۔۔۔ شناختی کارڈ نمبر۔۔۔ فورتھ شیڈول میں کب شامل کیا گیا۔۔۔۔ جماعت سے تعلق۔۔۔ فون نمبر۔۔۔۔

تحریر کے آخر میں مولانا محمد طاہر اشرفی (سربراہ پاکستان علماء کونسل اور مولانا زکریا قاسمی (سیکرٹری جنرل پاکستان علماء کونسل سمیت چھ دیگر تنظیمی ذمہ داران کے نام درج ہیں۔

مولانا طاہر اشرفی چونکہ اس وقت حکومت کا حصہ ہیں، لہذا توقع ہے کہ متعلقہ افراد کو شیڈول فور سے نکالنے کیلئے انہوں نے تمام تر پیپر ورک مکمل کرلیا ہوگا، واضح رہے کہ یہ سرکلر مولانا صاحب نے معاون خصوصی وزیراعظم کی حیثیت سے نہیں بلکہ پاکستان علماء کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے جاری کیا ہے، جس کا واضح ثبوت ان کے نام کیساتھ دیگر تنظیمی ذمہ داران کے نام موجود ہونا ہے۔ اگر مولانا حکومتی ذمہ دار کی حیثیت سے ایسا ہدایت نامہ جاری کرتے تو اس کو مسلکی اور جماعتی وابستگی سے بالاتر قرار دیتے ہوئے بے جا طور پر فورتھ شیڈول میں شامل بے گناہ افراد کیلئے ایک تازہ ہوا کا جھونکا اور خوش آئند قرار دیا جاسکتا تھا، تاہم حکومتی ذمہ دار ہوتے ہوئے تنظیمی حیثیت سے جاری ’’ریلیف نامہ‘‘ اس جانب اشارہ کر رہا ہے کہ شائد یہ منصوبہ بندی محض کسی ایک طبقہ کو نوازنے کیلئے کی گئی ہے۔

اس امر سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جب سے مولانا طاہر اشرفی نے معاون خصوصی کی سیٹ سنبھالی ہے، ماضی کے مقابلے میں ان میں مثبت تبدیلی دیکھی گئی ہے، ان کی تقاریر میں اتحاد بین المسلمین کی جھلک نظر آتی ہے، انہوں نے شدت پسند و فرقہ پرست عناصر، کالعدم جماعتوں اور دہشتگردی کی کھل کر مذمت بھی کی ہے، بعض حساس معاملات کو بھی دانشمندی سے حل کرایا ہے، وہ مختلف مکاتب فکر کے علماء اور دینی اسکالرز کیساتھ ملاقاتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ ممکن ہے کہ مولانا کی ’’امن پسند‘‘ افراد کو فورتھ شیڈول سے نکالنے کی کوشش میں کہیں شدت پسند اور فرقہ پرستوں کو ریلیف نہ مل جائے۔ بہتر ہوتا کہ مولانا طاہر اشرفی تمام مکاتب فکر کی نمائندہ قیادت کی مشاورت کیساتھ یہ اقدام حکومتی نمائندے کی حیثیت سے اٹھاتے، نہ کہ تنظیمی حیثیت سے، تاکہ امن پسند اور منفی افراد میں تقسیم کی جاتی اور بے جا طور پر فورتھ شیڈول میں شامل افراد کیساتھ انصاف ہوسکتا۔
خبر کا کوڈ : 966098
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش