0
Saturday 4 Dec 2021 11:33

مولوی سلیم بلتستان کی علمی، دینی اور سیاسی تاریخ کا امین

مولوی سلیم بلتستان کی علمی، دینی اور سیاسی تاریخ کا امین
تحریر: آغا مجتبیٰ زمانی

مولانا پروفیسر غلام حسین سلیم (المعروف مولوی سلیم) مرحوم کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ اپنی بے پناہ قابلیتوں کے علاوہ اعلیٰ اخلاقی صفات سے بھی متصف تھے۔ ان کی پیدائش بٙلتستان کے ضلع کھرمنگ کی علماء ساز وادی پاری میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم پاری میں ہی حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لئے کراچی چلے گئے، جہاں انہوں نے تقریباً 1962ء میں جامعہ امامیہ مدرسۃ الواعظین میں داخلہ لیا۔ وہیں سے انہوں نے دینی تعلیم حاصل کی اور ساتھ ساتھ پرائیویٹ طور پر اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے پیپر بھی دیتے رہے اور پھر مدرسۃ الواعظین سے سندِ فراغت حاصل کی اور ساتھ ساتھ جامعہ کراچی سے اسلامیات میں ایم اے کیا۔ ان کے اساتذہ میں ادیب اعظم علامہ ظفر حسن صاحب ہیں، جو اصولِ کافی کے مترجم ہیں اور بے شمار دیگر کتابیں بھی انہوں نے لکھی ہیں۔ پروفیسر غلام حسین سلیم کا اصل نام "غلام حسین" تھا لیکن ادیب اعظم صاحب نے انہیں جامعہ امامیہ میں تعلیم کے دوران "سلیم" کا خطاب دیا تھا، اس کے بعد یہ پروفیسر غلام حسین کے نام کا جزو بلکہ یہ ان کی پہچان بن گیا۔

پروفیسر غلام حسین سلیم جامعہ امامیہ میں نہایت ممتاز طالب علموں میں شمار ہوتے تھے اور خطابت کا آغاز وہیں سے کیا۔ اس زمانے میں نشتر پارک میں آل پاکستان تقریری مقابلہ منعقد ہوا، جہاں تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے اسٹوڈنٹس اور دینی مدارس کے طلباء نے شرکت کی۔ اس زمانے میں ہونے والے آل پاکستان تقریری مقابلے میں پروفیسر غلام حسین سلیم نے اپنے طالبِ علمی کے زمانے میں اوّل پوزیشن حاصل کی، پھر وہیں سے ادیبِ اعظم علامہ ظفر حسن صاحب، اساتذہ کرام، طلاب اور دیگر شرکاء جو وہاں شریکِ محفل تھے، پروفیسر غلام حسین سلیم کو انتہائی پرجوش انداز میں کاندھوں پر اٹھا کر جامعہ امامیہ تک لے کر آئے۔ اس زمانے میں عراق سے ایک مجتہد (آیت اللہ سید سعید الحکیم جن کا پچھلے سال انتقال ہوا، ان کے چچا جو مرجع تقلید تھے انہوں) نے پاکستان کا دورہ کیا تھا تو پورے کراچی اور سندھ بھر کے علمائے کرام بھی موجود تھے تو اس میں مدارس کے دینی طالب علموں کی نمائندگی کرتے ہوئے پروفیسر غلام حسین سلیم نے عربی میں تقریر پیش کی تھی تو اس پر خوش ہو کر عراق سے آئے ہوئے مرجع تقلید نے پروفیسر غلام حسین سلیم کو نجف اشرف میں مزید دینی تعلیم حاصل کرنے کی دعوت دی اور انھیں اپنی سرپرستی میں اپنے بچوں کے ساتھ تمام سہولیات دینے کا وعدہ کیا۔

پھر پروفیسر غلام حسین سلیم صاحب اپنی فیملی کو لینے بلتستان چلے گئے، جب بلتستان پہنچے تو ان کے چچا کی طبیعت شدید خراب تھی، چونکہ پروفیسر غلام حسین سلیم بچپن میں ہی یتیم ہوگئے تھے تو ان کی پرورش و تربیت ان کے چچا نے کی تھی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے چچا کی طبیعت انتہائی ناساز ہے تو وہ ان کی تیمارداری میں مصروف رہے، لہذا وہاں کے علماء کی گزارش پر بٙلتستان میں خدمات انجام دیتے رہے۔ پھر وہ سکٙردو کالج میں لیکچرار لگ گئے، اس کے بعد اسسٹنٹ پروفیسر بن گئے اور تقریباً دس سال تک وہ تدریس سے وابستہ رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امامیہ جامع مسجد سکٙردو جو بٙلتستان کی مرکزی جامع مسجد ہے، میں عشرہ مجالس عزاء کا آغاز کیا اور تقریباً 45 سال تک اس مرکز میں ان کا یہ سلسلہ جاری رہا اور مختلف مواقعوں پر پورے بٙلتستان میں جہاں جہاں مرکزی پروگرامز ہوتے تھے، ان میں پروفیسر غلام حسین سلیم خصوصی طور پر مدعو ہوتے اور خطابت فرماتے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا، وہ قادر الکلام خطیب تھے، جملوں کی ادائیگی اور الفاظ پر انتہائی مضبوط گرفت تھی، جوں جوں خطاب فرماتے سال بہ سال سامعین میں اضافہ ہوتا جاتا۔ اس کے بعد پروفیسر غلام حسین سلیم اسلام آباد منتقل ہوگئے اور ایچ نائن کالج اسلام آباد میں پروفیسر لگ گئے اور وہاں بھی تقریباً 17 سال تک تدریس سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد آپ منسٹری آف ایجوکیشن میں مقابلے کا امتحان دے کر جوائنٹ سیکرٹری سلکٹ ہوگئے۔ اس کے بعد بٙلتستان کے عمائدین اور عوام کی پرزور فرمائش اور دعوت پر پروفیسر غلام  حسین سلیم میدانِ سیاست میں اترے اور پھر سیاسی حوالے سے اپنی فعالیت کا آغاز کر دیا ہے اور ساتھ ساتھ اپنی دینی خدمات بھی جاری رکھیں۔ کئی مرتبہ عوامی نمائندہ منتخب ہوئے اور گلگت بلتستان اسمبلی میں پہنچے اور علاقے کے عوام کی بھرپور نمائندگی کی۔ وہ گلگت بٙلتستان میں وزیر اور مشیر بھی رہے۔ وہ یوسف رضا گیلانی کے دور میں وزیرِاعظم پاکستان کے مشیر بھی رہے۔

آپ انتہائی سادہ طریقے سے زندگی گزارتے تھے، آپ پروٹوکولز اور تکلفات کو پسند نہیں کرتے تھے۔ آپ جتنا عرصہ سیاسی میدان میں رہے، عوام کے درمیان رہے، اپنے حلقے میں خاص طور پر عوامی مسائل کے حل کیلئے کوشاں رہتے۔ پروفیسر غلام حسین سلیم کی خدمات زیادہ تر علمی، دینی، مذہبی، سیاسی اور سماجی حوالے سے رہی ہیں۔ انہوں نے پچاس برس تک تعلیم، تبلیغ، ثقافت، سیاست، اقتدار، سماجیات، خطابت، ادب و شاعری کے میدانوں میں خدمات انجام دیں اور نام کمایا۔ بٙلتستان کی گذشتہ پچاس سالہ تاریخ اگر لکھی جائے تو ہر حوالے سے پروفیسر غلام حسین سلیم کے تذکرے کے بغیر وہ تاریخ نامکمل رہے گی اور جب یکم دسمبر 2021ء کو پروفیسر غلام حسین سلیم کا انتقال ہوا تو بٙلتستان کی تقریباً تمام ہی اہم شخصیات اور افراد اس کو قومی نقصان اور قومی سانحہ قرار دے رہے ہیں، اس سے ان کی خدمات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پروردگار مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین
خبر کا کوڈ : 966800
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش