0
Monday 6 Dec 2021 20:43

شہید مصور، شہید بصیرت، احمد مھنہ

شہید مصور، شہید بصیرت، احمد مھنہ
تحریر: سید عظیم سبزواری

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے 50ویں سالانہ کنونشن پر جامعۃ المصطفیٰ لاہور، نومبر کے اوائل میں جانا ہوا۔ کنونشن کو مختلف انقلابی نہضتوں کے شہداء کی تصاویر لگا کر اُجا گر کیا گیا تھا۔ اس بار بالخصوص ان شہداء کو یاد رکھا گیا تھا، جنہوں نے میڈیا کے کام کرتے ہوئے شہادت پائی۔ یہ کسی چینل یا اخبار میں کام کرنیوالے افراد نہیں تھے، بلکہ وہ جنہوں نے اسلامی شناخت کیساتھ دنیا کے سامنے حقیقت پر مبنی وہ چیزیں سامنے لانے کی کوشش کی، جو یا تو کوئی اور کر نہیں رہا تھا یا جس کو پروپیگنڈا کی زد میں لا کر مسخ کر دیا جاتا ہے۔ یوں چار ممالک کے شہداء کے فلیکس لگے نظر آئے، جن میں امامیہ طلاب کافی دلچسپی لے رہے تھے۔ پاکستان سے کوئٹہ کے شہید باسط (سن شہادت 2014ء)، ایران سے معروف شہید مرتضیٰ آوینی (سن شہادت 1993ء)، لبنان سے شہید مہران محمد الطقش (سن شہادت 2017ء)، عراقی شہید احمد مھنہ (سن شہادت 2019ء)۔ میری نظر اس شہید احمد مھنہ پر رُکی جو کہ عراق سے تھے، کیونکہ کچھ عرصہ قبل اس کی وصیت نامہ ویڈیو بھی دیکھی تھی۔

یہ شہید جس کو شہید مصور کا لقب دیا گیا، اپنے قائد شھید ابو مھدی المہندس کی شہادت سے تقریباً ایک ماہ قبل جنہیں بغداد کے تحریر چوک میں حکومت مخالف مظاہروں کی کوریج کرتے ہوئے چاقووں کے وار سے امریکی و سعودی نواز گماشتوں کے ہاتھوں قتل کیا گیا۔ شھید مصور کے نام سے مشہور ہونیوالے اس عراقی جوان کا پورا نام احمد مھنہ جاسم اللامی تھا۔ بغداد کے ایک متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان نے زندگی میں کئی مشکلات دیکھیں، عراق پر ہونیوالی مسلسل جنگوں میں اس کے گھرانے کو ہجرت کرنی پڑی۔ پھر بھی اس نوجوان کے دل میں رنجشوں اور غصہ کی جگہ انسان کا درد تھا۔ جیسا اس کی وصیت میں دیکھا جا سکتا ہے، اس نے انسان کو خدا سے قربت اور ماں باپ کے احترام کی تلقین کی ہے۔

شھید احمد مھنہ کی خاصیت یہ تھی کے وہ بندوق اٹھا کر میدان میں لڑنے والا جنگجو نہیں تھا، بلکہ ایک فوٹو گرافر تھا، جو زندگی کے عکس کھینچتا اور سوشل میڈیا پر ان کو الفاظ کیساتھ پیش کرتا۔ یہ اہم معرکہ تھا، جو اس نے عراقی مزاحمتی تنظیم حشد الشعبی جو آیت اللہ سیستانی کے حکم کے بعد تشکیل پائی، اس میں شمولیت کے بعد انجام دینا شروع کیا۔ عراق کے پیچیدہ اور دگرگوں حالات میں جہاں عالمی میڈیا سب کچھ محور مزاحمت اور ایران کیخلاف محاذ عراق میں گرم رکھنا چاہتا ہے، وہاں ایسے جوانوں نے حقائق نہ صرف جنگی بلکہ عوامی مظاہروں کی کوریج کرکے دنیا کے سامنے رکھے۔ شہید احمد مھنہ کی اس سرگرمی کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ اس کو امریکی سفارتخانہ نے اس کی تصاویر اور سوشل میڈیا کے کاموں کو ان کیلئے استعمال کرنے پر منہ مانگی قیمت کی پیشکش کی، جو کہ اس جوان نے اپنے ایمانی تقاضا کی خاطر ٹھکرا دی تھیں۔ یہی وجہ ہے کے وہ عراقی مظاہروں میں ہونیوالے شرپسندوں اور ان کے امریکی و سعودی نواز گروہوں کو کھٹکتا تھا۔ اسی لئے اس جوان کو قتل کیا گیا اور شہادت پر اس کو شہید بصیرت کا لقب بھی دیا گیا۔

شہید نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ علماء بالخصوص آیت اللہ سید علی سیستانی اور دیگر مراجع کا ساتھ کبھی نہ چھوڑیں۔ نوجوان لڑکیوں کو خصوصی طور پر کہا تھا کہ حجاب نہ چھوڑیں اور اپنے والدین کا ساتھ دیں، حتی کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہوں۔ اپنے شوہر اور بھائیوں کا سر بلند رکھیں، صبر سے کام لیں، اگر زندگی میں ساری آسائشیں نہ بھی موجود ہوں تو۔ خواتین کو ایک اور اہم وصیت میں شہید کی گزارش تھی کہ گھر میں بھی ہو کر سوشل میڈیا کے محاذ پر اپنے وجود سے ان کا ساتھ دیں۔ حشد الشعبی کا پیغام گھر گھر پہنچائیں۔ صدام کے دور میں شہید احمد مھنہ کے والد کو سختیاں جھیلنی پڑیں اور مشکلات اٹھا کر غربت میں وقت گزارنا پڑا، مگر شہید نے کہا کہ ہمارے والد نے ہمیں صوم و صلاۃ اور عبادات کا سختی سے کہا۔ یعنی شہید کی سادگی دیکھیں، جہاں آج کل بچے ماں باپ سے دنیا کی سب آسائشیں مانگتے ہیں، یہ شہید اس دینی نعمت کا شکر گزار ہے۔

شہید اپنی زندگی میں بہت متحرک اور عالمی منظرنامہ اور عراق کے اندرونی حالات پر نظر رکھ کر دنیا کو اپنی پوسٹوں سے حالات کی آگہی دیتا، یعنی یہ مرد میدان تھا۔ اس کا اثر و رسوخ اتنا ہے کہ آج دو سال بعد بھی دنیا اور عراقی نوجوان اس کو یاد رکھے ہوئے ہیں۔ آج کے نوجوان اگر عہد کریں کہ شہید کی طرز پر میدان میں وارد رہ کر کام کریں گے تو وہ دنیا کے سامنے حقائق رکھ سکتے ہیں اور رہبر معظم کے بیان کے مطابق افسران جنگ نرم کا حقیقی روپ پیش کرسکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 967189
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش