0
Monday 6 Dec 2021 23:30

"وہ سوچتا تو ہوگا"

"وہ سوچتا تو ہوگا"
تحریر: تبرید حسین

وہ عربی، اردو، پنجابی نہیں جانتا تھا، سوچتا تو ہوگا کہ مجھے گھسیٹ کر کہاں لے جا رہے ہو۔ جب کوئی پتھر مار رہا تھا، کوئی مکہ اور کوئی لاٹھی تو سوچتا تو ہوگا۔ پچھلے 12 ربیع الاول کو جب ایک کولیگ محفل نعت میں لے گیا تھا تو بتایا گیا تھا کہ وہ رحمۃ اللعالمین ہیں۔ مگر کیا یہ اسی کے ماننے والے اور عشاق ہیں۔؟ میں تو اکیلا ہوں، پردیسی ہوں، نہتا ہوں۔ جب پتھر اور ڈنڈے برسائے گئے تو رحم کی بھیک تو مانگی ہوگی؟ مگر جواب میں مزید پتھر، دشنام، گالیاں اور لاٹھیاں۔ کیا سوچتا ہوگا۔؟ آپ تو کہتے تھے کہ اسلام کا لفظ سلامتی سے نکلا ہے، یہ سلامتی کا مذہب ہے۔ مگر میں کیوں مسلمانوں کے ہاتھوں دہشت زدگی کا شکار ہوں۔ کیوں،سوچتا تو ہوگا۔؟

اس کی ایک چھوٹی سی بیٹی تھی۔ درد کی ہر لہر کیساتھ اس کی یاد تو آئی ہوگی۔ خدا کرے، اس کی بیٹی تک یہ بے رحم ویڈیو نہ پہنچے۔ سوچتا تو ہو ہوگا کہ اس نے یہ سب دیکھا تو کیسے زندہ رہے گی؟ اس کا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ سوچتا تو ہوگا۔؟؟ آج اچھا ہوا، سب مسلمان کیا شیعہ، کیا سنی، کیا دیوبندی، کیا لبرلز اور کیا مذہبی رہنماء، سب بیک زبان مذمت کر رہے ہیں۔ قاتلوں پر لعن و نفرین کر رہے ہیں۔ اس پردیسی کی ان سوچوں میں، میں بھی کبھو شریک ہو جاتا ہوں۔ میں بھی سوچتا ہوں۔۔۔

1400 سال پہلے ایک پردیسی کو ایک لق و دق صحرا میں بلا کر نام نہاد مسلمانوں نے ایسا ظلم ڈھایا کہ زمین کانپ اٹھی، آسماں خون کے آنسو رو دیا۔ وہ مظلوم نینوا کہتا تھا کہ جس کے ہاتھ تیر تھا، اس نے تیر مارا، جس کے ہاتھ پتھر تھا، اس نے پتھر مارا اور جس کے ہاتھ کچھ نہ آیا، اس نے مٹھی بھر صحرا کی گرم ریت مظلوم کے زخموں سے چور بدن کی جانب اچھال دی۔ میں سوچتا ہوں کہ وہ کیسے مسلمان تھے۔؟ اس مظلوم کی بھی ایک چار سال کی بیٹی تھی۔ اس چار سالہ بیٹی نے خود اپنے بابا کو رخصت کیا تھا۔ دعا تو کی ہوگی، مظلوم بابا نے کہ بار الہہ ہر ظلم سہہ لوں گا، بس یہ سب اس چار سالہ بچی کی نظروں سے اوجھل ہو، ورنہ اس معصوم کا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ میں سوچتا ہوں کہ وہ کیسے مسلمان تھے۔؟؟

اور ہاں میں بتانا بھول گیا، وہ پردیسی اور بے وطن مظلوم کوئی اور نہیں مسلمانوں کے رحمۃ اللعالمین نبی کا لاڈلا نواسہ حسین ابن زہراء بنت محمد عربی رحمت اللعالمین تھا۔ چلیں اچھا ہوا کہ آج چودہ سو سال بعد ہی سہی، مسلمانوں کے تمام دھڑوں اور طبقوں کا اجماع تو ہوا کہ ظلم قابل نفرین اور مذمت و لعنت ہے تو آیئے ہم سب مل کر چودہ سو سال پہلے کرب و بلا میں ہونے والے ظلم و بربریت پر بھی نفرین کرتے ہیں۔ اگر مگر کے بغیر۔۔۔ ورنہ میرے جیسے مسلمان سوچتے رہیں گے، ہم کیسے مسلمان ہیں، جو آج کے دور میں ہونے والے ظلم پر لعن و نفرین تو کر رہے ہیں، مگر نواسہ رسول، جو سراپا رحمت تھا، پر ہونے والے ظلم پر بھلا کیوں لب سی رکھے ہیں۔۔۔ کیوں آخر کیوں۔؟؟؟
خبر کا کوڈ : 967227
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش