0
Thursday 6 Jan 2022 14:51

مجھ کو سمجھیں گے میرے بعد زمانے والے

مجھ کو سمجھیں گے میرے بعد زمانے والے
تحریر: علامہ محمد رمضان توقیر
مرکزی نائب صدر ایس یو سی پاکستان

شہید قاسم سلیمانی اور شہید مہدی مہندس اگرچہ دو اسلامی ممالک یعنی ایران و عراق سے وابستہ تھے، لیکن ان کے کارہائے عظیم نے انہیں عالمِ اسلام میں ایک نمایاں اور ممتاز شناخت عطا کر دی اور موجودہ صدی کے جید انسانوں میں ان کا شمار ہوگیا اور وہ پورے عالم اسلام کی عمومی طور پر ہر دلعزیز شخصیت کے طور پر دنیا میں متعارف ہوئے جبکہ حریت و مقاومت کے میدان میں وہ دور حاضر کی سب سے بڑی شخصیات کے طور پر دنیا کے ہر حریت پسند اور مقاومت پرست انسان کے لیے نمونہ عمل قرار پائے۔ شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس کو اگرچہ بعض تعصب زدہ لوگ مسلکی اور مکتبی عینک سے دیکھتے ہیں، لیکن ان دونوں شہداء کا تعارف ہرگز مسلکی یا مذہبی نہیں بلکہ اسلامی اور انسانی ہے، کیونکہ ان دونوں کمانڈروں نے کسی مسلک یا مکتب کی نہیں بلکہ اسلام اور انسانیت کی جنگ لڑی اور اسی جنگ میں دشمن کے میزائل کا نشانہ بنے۔

دنیا میں کسی بھی انسان کی حقیقت اور اصلیت اس کے دوستوں اور دشمنوں سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ دو طبقات ہی انسان کی حقیقت کے آئینہ دار اور شاہد ہوتے ہیں۔ شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس کا عظیم اسلامی و انسانی قد کاٹھ اس لحاظ سے کون ناپ سکتا ہے کہ جن کے دشمنوں میں امریکہ و اسرائیل جیسے سفاک ممالک ہوں اور ان کے دوستوں میں دنیا کا ہر محکوم اور مظلوم انسان بالخصوص فلسطینی، کشمیری، یمنی، بحرینی، شامی، افغانی، لبنانی اور عراقی مظلومین شامل ہوں۔ دنیا جانتی ہے کہ شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس کو انہی محکومین اور مظلومین کی حمایت اور دوستی کی سزا دی گئی۔ دو سال قبل ان شہداء کی شہادت کے دلسوز واقعہ پر دنیا بھر میں امریکہ و اسرائیل سمیت جس جس قوت، جس جس ملک، جس جس طاقت اور جس جس طبقے نے خوشی کا اظہار کیا، ان سب کے ہاتھ کسی نہ کسی طرح انسانوں کے خون سے رنگین ہیں۔

شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس کی ایک اعلیٰ ترین خصوصیت یہ تھی کہ وہ طاقتور ترین ہونے کے باوجود صدق و صفا کے پیکر اور نمود و نمائش سے مکمل مبرا اور دور تھے۔ وہ چاہتے تو میڈیا کے اس تیز دور میں اپنی شخصیت کو اپنی زندگی میں بے پناہ مقبولیت دے سکتے تھے۔ اپنی طاقت کو اپنی تشہیر کے لیے آسانی سے استعمال کرسکتے تھے حتی کہ اپنے حربی اور جنگی کارناموں اور کامیابیوں کو دنیا کے سامنے رکھ کر شہرت کما سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ محض رضائے خدا اور خوشنودی پروردگار کی خاطر اپنی خدمات کا سلسلہ آگے بڑھاتے رہے۔ اس دوران مسلسل اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ظالموں کو للکارتے اور مظلوموں کو بچاتے رہے۔ کئی خطرناک محاذوں میں صف اول پر خود موجود رہے۔ شہرت اور تشہیر کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خالصتاً جہادی اور مجاہدانہ زندگی بسر کرتے ہوئے شہادت کے رتبے پر جب فائز ہوئے تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ شہید سلیمانی کس درجے کے انسان تھے اور شہید ابو مہدی مہندس کس پائے کی شخصیت تھے۔

سابق امریکی صدر ٹرمپ اور اس کے اسرائیلی ہم مرتبہ نے شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس کو بظاہر راستے سے ہٹا کر کچھ وقت خوشیاں بھی منائیں اور اطمینان کا اظہار کیا کہ اب ان کی راہ کے کانٹے نکل گئے ہیں اور راستے کے رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں، لہذا اب وہ عراق، شام، لبنان، یمن، بحرین اور فلسطین جیسے ممالک پر قبضے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر لیں گے اور من مانی کرتے ہوئے مظلومین پر مظالم کو دراز اور ظالموں کی حمایت میں اضافہ کر دیں گے، لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس اکیلے اور تنہا نہیں تھے بلکہ اپنے پیچھے اپنے جیسے ہی نائبین چھوڑ کر جا رہے ہیں، جو نہ صرف تحریکِ مقاومت کو جاری و ساری رکھیں گے بلکہ پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ اس تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔

یہ شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس کے دوستوں اور نائبین کی مزاحمت اور حکمت ِعملی کا اثر ہے کہ آج امریکہ جیسی غاصب اور جارح طاقت شام، عراق اور افغانستان سے ذلیل و رسوا ہو کر نکل رہی ہے اور ہزار ہا فوجی مروا کر اب اپنی افواج ان ممالک سے نکال رہی ہے جبکہ کئی امریکی دوست بحرین، یمن، افغانستان اور پاکستان میں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔ اسی طرح اسرائیل جیسا امریکی طفل بھی انہی شہداء کے نائبین و دوستان کے ہاتھوں دنیا بھر میں بالخصوص لبنان و فلسطین و شام میں ذلت آمیز شکست سے دوچار ہو رہا ہے۔ شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس نے جو اہداف مقرر کئے تھے، اب ان کی تکمیل ہو رہی ہے اور مرحلہ بہ مرحلہ کامیابیاں قدم چوم رہی ہیں۔ افغانستان میں تبدیلی کی فضاء اور سعودی عرب و ایران کے مابین بذریعہ عراق روابط بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

ہمیں یقین ہے کہ شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس نے جس مقصد اور اعلیٰ ہدف کے لیے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا، وہ مقاصد و اہداف یقیناً پورے ہوں گے۔ محکومین و مظلومین و محرومین کو ان کا حق ملے گا اور ظالمین و جارحین و غاصبین اپنے دائمی انجام تک پہنچیں گے۔ تب لوگ سمجھیں گے کہ شہید سلیمانی اور شہید مہندس کون تھے اور کیا تھے۔
مجھ پہ تحقیق میرے بعد کرے گی دنیا
مجھ کو سمجھیں گے میرے بعد زمانے والے
خبر کا کوڈ : 972268
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش