0
Tuesday 18 Jan 2022 10:49

سرزمین حجاز پنجہ یہود میں ہے

سرزمین حجاز پنجہ یہود میں ہے
تحریر: تصور حسین شہزاد

سعودی عرب نے مسجد نبوی (ص) میں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ مسجد نبوی (ص) میں نماز سے قبل اجازت لینا ہوگی۔ اجازت ملنے کے بعد نماز ادا کی جا سکے گی۔ اجازت کے باوجود مسجد نبوی (ص) میں رُکنے کا دورانیہ صرف دس منٹ رکھا گیا ہے۔ سعودی عرب میں وزارت حج و عمرہ نے ٹویٹر پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ مسجد نبوی (ص) اور روضہ رسول (ص) میں نماز ادا کرنے کیلئے پیشگی اجازت لینا اور بُکنگ کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ روضہ رسول پر حاضری کے دوران نماز کی ادائیگی کیلیے "توکلنا" ایپ پر رجسٹریشن کروانا ہوگی۔

دوسرے لفظوں میں سرزمینِ حجاز میں عبادت کیلئے بھی اب اجازت لینا پڑے گی، جبکہ گذشتہ شب ہی جسٹن بیبر کا کنسرٹ کروایا گیا۔ یہ وہی جسٹن بیبر ہے، جس نے ایک ماہ قبل سکارف پہن کر کنسرٹ کیا تھا اور مسلمانوں کی اسلامی اقدار کا مذاق اُڑایا تھا۔ جدہ میں ہونیوالے اس کے کنسرٹ میں 70 ہزار مرد و خواتین نے شرکت کی۔ اس مخلوط کنسرٹ میں خواتین و مرد جھومتے رہے، جبکہ خود محمد بن سلمان بھی اس تقریب میں شریک ہوئے اور کنسرٹ کے شرکاء کو سلام کی بجائے ہندووں کی طرح ہاتھ جوڑ کر ’’پرنام‘‘ کرتے رہے اور شرکاء نے ان کیساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں۔

اس سے قبل سعودی عرب میں بھارتی اداکار سلمان خان کا کنسرٹ بھی ہوچکا ہے۔ جسٹن بیبر کے کنسرٹ کا ٹکٹ ریالوں میں تھا، جو 20 سے 25 ہزار روپے پاکستانی بنتے ہیں۔ جسٹن بیبر کے اس کنسرٹ میں مرد خواتین کو اُٹھا کر بھی ناچتے دیکھے گئے۔ سرزمین حجاز، مقدس سرزمین ہے، یہاں حرمین شریفین کے باعث ہر مسلمان اس ملک کیساتھ عقیدت رکھتا ہے، مگر محمد بن سلمان کے حالیہ اقدامات سے ایسے لگ رہا ہے کہ آلِ سعود دراصل آل یہود ہی ہیں اور آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہے ہیں۔ سرزمین حجاز پر اسلامی اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ تبلیغی جماعت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ محمد بن سلمان کے ان اقدامات سے امتِ مسلمہ میں بیداری بھی آرہی ہے۔ جو لوگ انہیں ’’محافظِ اسلام‘‘ سمجھتے تھے، ان پر اب حقیقت کھل چکی ہے کہ یہ مسلمانوں کے لبادہ میں یہودی چھپے ہوئے تھے۔

پاکستان میں جتنی جماعتیں سعودی عرب اور آل سعود کا دفاع کرتی دکھائی دیتی تھیں، اب وہ بھی ان سے دُور ہوتی جا رہی ہیں۔ صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے دیگر مسلم ممالک میں بھی آل سعود کی اصلیت سامنے آنے پر مسلمانوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کو اب سوچنا ہوگا کہ حرمین شریفین کو کس طرح ان ’’آل یہود‘‘ سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔ مکہ معظمہ میں پابندی ہے، اب تو مسجد نبوی (ص) میں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس کیلئے نیا قانون بنا دیا گیا ہے کہ پہلے اجازت لینا ہوگی، جبکہ سعودی عرب میں نئے بننے والے مندروں میں جانے کی کھلی اجازت ہے، اس کیلئے کسی اجازت نامے کی بھی ضرورت نہیں۔ مسلم اُمہ سوال کرتی ہے کہ یہ کونسا اسلام ہے، جہاں عبادت کیلئے پہلے رجسٹریشن کروائیں؟ جبکہ میوزیکل کنسرٹ کیلئے نہ کوئی کورونا ایس او پیز ہیں اور نہ ہی کسی رجسٹریشن کی ضرورت ہے۔

رحمانی امور کیلئے لائسنس اور شیطانی امور کیلئے کھلی اجازت؟؟ یہ کیسا اسلامی مرکز ہے؟؟ محمد بن سلمان سعودی عرب کو جدید نہیں، غلیظ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ سعودی عرب میں اسلام پسندوں پر سرزمین تنگ کی جا رہی ہے، جبکہ شیطانی امور کے ماہرین کیلئے بغیر ویزہ آنے جانے کی سہولتیں دیدی گئی ہیں۔ بن سلمان نے اب امریکہ و اسرائیل کے اشارے پر جو جدید سعودی عرب بنایا ہے، اس میں نامحرموں کو ایک ساتھ بغیر شادی یا نکاح کے ایک کمرے میں سونے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ سعودی عرب نے گذشتہ برس ملکی تاریخ میں پہلی بار عام سیاحت کا اعلان کرتے ہوئے غیر ملکی خواتین کیلئے عبایا پہننے کی پابندی بھی ختم کر دی تھی۔ غیر ملکی مرد اور عورت اب ہوٹل میں ایک ہی کمرہ لے سکیں گے۔

محمد بن سلمان ملکی معیشت کو بچانے کیلئے اخلاقی و اسلامی اقدار کو تباہ کر رہا ہے۔ یوں محمد بن سلمان نے اعلانیہ طور پر اسلامی اور شرعی قوانین کیخلاف جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سعودی عرب کے اقتدار کا کُلی مالک محمد بن سلمان ہے اور محمد بن سلمان کی ڈوریاں استعمار کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ اسے جس مقصد کیلئے چاہتے ہیں، استعمال کر لیتے ہیں۔ یمن کا محاذ ہو یا عراق و شام کا مسئلہ، کشمیر کا ایشو ہو یا فلسطین کا قضیہ، ایران کیساتھ کشیدگی ہو یا ترکی کیساتھ خفگی، سب میں محمد بن سلمان صفِ دشمناں میں کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ مسلم امہ کیخلاف براہ راست محاذ آرائی میں اب محمد بن سلمان ہی اسلام دشمنوں کو مہرہ ہے۔ ایسی صورتحال میں سعودی عرب کیساتھ ساتھ اسلامی اقدار کی حفاظت، امت کی ذمہ داری ہے۔ امت کو اس حوالے سے سر جوڑنا ہوں گے کہ سرزمین حجاز کو کیسے پنجہ یہود سے نجات دلانی ہے۔
خبر کا کوڈ : 974203
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش