0
Monday 24 Jan 2022 14:19

یوم خواتین اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا

یوم خواتین اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
تحریر: علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر
      
طول تاریخ میں عورت ظالم بھی رہی اور مظلوم بھی، خاص طور پر دورِ جاہلیت میں تو اس کی مظلومیت تمام حدود کو عبور کر گئی تھی۔ حالت یہاں تک آپہنچی تھی کہ پیدا ہوتے ہی اسے زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ باقاعدہ ان کی خرید و فروخت کی منڈیاں اور بازار سجتے تھے، لیکن اسلام نے عورت کو نہ صرف عزت و وقار کی انتہائی بلندیوں تک پہنچایا بلکہ اسے ماں باپ کیلئے رحمت، اولاد کیلئے جنت اور شوہر کیلئے نصف ایمان کی محافظہ بنانے کیساتھ ساتھ حق ملکیت، تجارت، کاروبار اور حجاب جیسی نعمت سے سرفراز کرکے اوج ثریا تک پہنچا دیا، لیکن اسلام کی روشنی جس نے ظلم و جور کی تاریکیوں کو ختم کر دیا تھا۔

ملوکیت اور عالمی استعمار نے اسے آج پھر دور جاہلیت سے بھی بہت آگے ظلمت اور تاریکیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں پھینک دیا ہے اور آج کا دور جسے انسان اپنے طور پر ترقی یافتہ اور روشن فکری کا دور کہتا ہے، عورت کے استحصال کا دروازہ پہلے سے کہیں عجیب انداز میں کھلا ہوا ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ عورت ہر پروڈکٹ کا عریاں اشتہار بنی ہوئی فخر محسوس کرتی ہے۔ مردوں کے برابر حقوق مانگ کر گھر کی چاردیواری کے اندر اپنی عزت، عفت اور ناموس کی حفاظت کیساتھ دنیا کی تمام تر ضروریات اپنے قدموں میں حاصل کرنے کی بجائے گھر سے باہر نکل کر فتنوں، قتل و غارت اور وڈیروں، سرمایہ داروں، صنعتکاروں کی خواہشات اور خدمت گاری کو اپنے لئے عزت اور شرف تصور کرکے اسلام کی مخدرات عصمت بیبیوں، ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھن اور خانوادہ اہلبیت اطہار ؑ کی عظیم مرتبت بیبیوں بالخصوص سیدہ طیبہ طاہرہ صدیقہ کبریٰ بضعۃ الرسول حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام کے کردار کو اپنا آئیڈیل بنانے کی بجائے آج کی دنیا کی بدقماش اور بدکردار عورتوں کو آئیڈیل بنا کر ذلت اور رسوائی کے تاریک گڑھوں میں جا گری ہے۔

آج کی عورت گھر کے اندر ایک شوہر اور اولاد کی خدمت سے تنگ دن بھر میں ہزاروں نامحرم مردوں کی خدمت پر راضی رہنا پسند کرتی ہے اور ایسے لباس اور وضع قطع میں گھر سے نکلتی ہے، گویا حضرت علی علیہ السلام کے اس فرمان کی عملی تفسیر بن چکی ہیں، جو آپ علیہ السلام نے بطور پیشین گوئی ارشاد فرمائی تھی کہ ’’عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا، جس میں عورتیں لباس تو پہنیں گی، لیکن عریاں ہوں گی، دنیا کے ہر فتنہ و فساد میں حصہ دار ہوں گی، وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جائیں گی اور مردوں کو مخاطب کرکے آپ ؑ نے ارشاد فرمایا تم بُری عورتوں کے شر سے تو بچو ہی سہی بلکہ جو نیک ہیں، ان سے بھی محتاط رہو، تم اچھے کاموں میں بھی بے سوچے سمجھے اور حد سے زیادہ ان کی فرمانبرداری نہ کرو، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو برائی میں بھی اسیر نہ کرلیں۔

پھر فرمایا، اے لوگو! تم عورتوں کو راز دار نہ بنائو اور نہ ہی مال و دولت کی حفاظت کی انہیں ذمہ داری سونپو اور نہ ہی گھریلو امور میں سب کچھ ان پر چھوڑ دو، کیونکہ اگر انہیں چھوڑ دیا جائے تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی تباہیوں میں ڈال دیں گی اور مملکتوں کو تباہ و برباد کر دیں گی، ہم نے انہیں ایسا پایا ہے کہ وہ اپنی خلوتوں میں بے دینی، اپنی شہوتوں میں بے صبری اور اپنی ضرورتوں میں بے تقوائی اختیار کر لیتی ہیں، ان کیساتھ لذت آسان اور حیرت زدہ ہے، تکبر ان کی سرشت میں داخل ہے، خواہ بوڑھی ہی کیوں نہ ہو جائیں اور غرور خود بینی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے، خواہ وہ کتنی ہی عمر رسیدہ کیوں نہ ہوں، ان کی خوشی ان کی شرمگاہوں میں ہے اور اگر انہیں تھوڑی چیز نہ دی جائے تو وہ کثیر چیزوں پر بھی شکر گزار نہیں ہوتیں، خیر اور اچھائی اور نیکی کو بھول جاتی ہیں، شر اور برائی کو یاد رکھتی ہیں، الزام تراشی میں پیش قدم ہوتی ہیں، ان میں یہودیوں والی تین خصلتیں پائی جاتی ہیں۔
۱۔ مظلوم بنتی ہیں جبکہ خود ظالم ہوتی ہیں۔
۲۔ قسمیں کھاتی ہیں جبکہ جھوٹی ہوتی ہیں۔
۳۔ روکتی ہیں جبکہ خود رغبت رکھتی ہیں۔

بہرحال ان کیساتھ مدارات کرو، ان کیساتھ اچھی گفتگو کرو، شاید نیکی کی راہ پر چل پڑیں۔ اسی طرح دانشوروں کا قول ہے کہ اگر ایک عورت اپنے آپ کو اسلام کے صحیح نورانی سانچے میں ڈھال لے تو پورا معاشرہ گلستان کا منظر پیش کرے گا۔ ایک عورت کی صحیح تربیت تین خاندانوں کی اعلیٰ تربیت کی ضامن ہے۔ دنیا بھر کی عورتوں کیلئے بالعموم اور مسلمان خواتین کیلئے بالخصوص حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لخت جگر حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام جن کا آج یوم ولادت ہے کی سیرت اور کردار ہر حوالے سے آئیڈیل اور مثالی کردار ہے۔ آپ علیہا السلام کو آنحضرت ؐ نے مومنات کی اولین و آخرین جنتی عورتوں کی سیدہ و سردار قرار دیا ہے۔ اس دنیا میں اگر عورتوں نے فرعون، نمرود، شیداد، قارون جیسے ظالموں اور طاغوتوں کو جنم دیا ہے، انبیاء، اولیاء، اوصیاء نے بھی اسی عورت کی طیب و طاہر کوکھ سے جنم لیا ہے۔ (مضمون نگار ممتاز عالم دین، رکن اسلامی نظریاتی کونسل، رکن پنجاب قرآن بورڈ اور ادارہ منہاج الحسینؑ کے سربراہ ہیں)
خبر کا کوڈ : 975337
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش