0
Monday 24 Jan 2022 21:30

حضرت فاطمہ (س) کی نظر میں حجاب کی اہمیت اور اسکے اجتماعی آثار و نتائج

حضرت فاطمہ (س) کی نظر میں حجاب کی اہمیت اور اسکے اجتماعی آثار و نتائج
تحریر: محمد شریف ولی

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ خواتین کے لئے اسلامی لباس کا پہننا دین اسلام کی ضروریات میں سے ہے اور اس بارے میں متعدد آیات بھی موجود ہیں۔ قرآن مجید کی 23 آیتوں میں حجاب کی طرف اشارہ ہوا ہے اور دوسری طرف حجاب اسلامی کا مسئلہ دور حاضر کے انتہائی حساس موضوعات میں شمار ہوتا ہے، خاص طور پر ”حقوق بشر” کا نعرہ بلند کرنے والوں نے اس مسئلے کو زیادہ حساس بنانے کے لئے اس نعرے (مرد و عورت کے یکساں حقوق) کو عام کیا ہے اور حجاب کو عورتوں سے آزادی چھننے کے مترادف قرار دیا ہے۔ حقوق نسواں کے نام پر اس مسئلے کو اٹھایا ہے اور اس مسئلے کو بہت زیادہ حساس بنایا ہے، جبکہ اگر اس مسئلے کو تمام زاویوں سے دیکھ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ حجاب نہ صرف عورتوں سے آزادی سلب نہیں کرتا بلکہ اس سے خواتین اور زیادہ محفوظ ہو جاتی ہیں۔ خواتین حجاب اسلامی کی رعایت کے ساتھ اجتماعی امور میں حصہ لے سکتی ہیں، کیونکہ اسلامی نقطۂ نظر سے حجاب کا معنی یہ نہیں کہ خواتین پردے میں بیٹھ جائیں اور کسی کام میں شرکت نہ کریں، بلکہ مراد یہ ہے کہ خواتین معقول پردے کے ساتھ اجتماعی، سیاسی اور سماجی امور میں شرکت بھی کرسکتی ہیں اور اپنی حفاظت بھی کرسکتی ہیں اور ساتھ ساتھ برائیوں کا سدباب بھی ممکن ہے۔

حجاب کا لغوی معنی:
حجاب لغت میں اس چیز کو کہا جاتا ہے جو دو چیزوں کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔(لسان العرب بیروت، 1414 ھ ق، ج1 ص298 مادہ حجب)
حجاب کا اصطلاحی معنیٰ:
حجاب سے مراد احکام اسلامی کے مطابق خواتین اپنے بدن کو ڈھانپیں اور خودنمائی سے بچائیں(تفسیر نمونہ، ج 17ص402).

حجاب کی اہمیت:
حجاب کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے اور حجاب اسلامی کو انسان کی حفاظت کا وسیلہ قرار دیا ہے اور انسان کو جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا سبب قرار دیا ہے۔ اسلام نے حجاب کو اس لئے واجب قرار دیا ہے کہ جس کی وجہ سے مرد اور عورت خودنمائی اور گمراہی سے بچیں اور ایک دوسرے کی حرمت اور آداب کا خیال بھی رکھیں اور حیا بھی باقی رہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ ایک مسلمان عورت اپنی رسالت اور وظائف کو انجام دے جیسے گھر کے کام کاج، اولاد کی تربیت، نسل کی حفاظت وغیرہ اور ساتھ ساتھ اجتماعی امور میں بھی شرکت کرنے کا حکم دیتا ہے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ حجاب اسلامی کی رعایت واجب ہے، یعنی ایک عورت حجاب اسلامی کی رعایت کے ساتھ تمام اجتماعی، سیاسی اور دیگر امور میں حصہ لے سکتی ہے، اس کے لئے متعدد نمونے بھی بیان کیے ہیں، جیسے حضرت یوسف (ع) اور حضرت مریم (س) کو پاکدامنی کے لئے بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔

حضرت فاطمہ (س) بہترین نمونہ:
اسلام نے تمام انسانوں کے لئے مختلف نمونوں کی نشاندہی کی ہے اور انسانوں کو ان نمونوں کی پیروی کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، اگر دنیا میں موجود دوسرے ادیان اور مذاہب میں نمونے نہیں ہیں تو یقیناً دین اسلام (اور خاص طور پر مذہب تشیع) وہ دین ہے، جس میں بہترین اور اعلیٰ نمونے موجود ہیں اور قرآن مجید کے مطابق نمونے عام ہیں، یعنی انسان اپنی فردی، اجتماعی، سیاسی، اقتصادی اور دیگر امور میں ان نمونوں کی پیروی کرکے کمال تک پہنچ سکتا ہے۔ انہی نمونوں میں سے ایک نمونہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی ذات ہے۔ آپ اس عظیم ذات کا نام ہے کہ جس کو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے نمونہ قرار دیا ہے۔ “ان لی فی ابنة رسول اللہ اسوة حسنةمیرے لئے رسول کی بیٹی میں نمونہ ہے۔(غیبت طوسی ص 286).

حضرت فاطمہ (س) کی نظر میں حجاب:
حضرت فاطمہ (س) مقام اور رتبے کے اعتبار سے دنیا کی تمام خواتین میں سب سے افضل تھیں اور معروف روایت کے مطابق آپ سیدہ نساء العالمین یعنی دونوں عالم کی خواتین کی سردار ہیں۔ آپ کی ان تمام صفات کی روشنی میں یہ کہنا آسان ہوگا کہ آپ کا ہر فعل انسانوں کے لئے نمونہ عمل ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں حضرت فاطمہ (س) کو مانتا ہوں تو یقیناً اس کو اپنے کردار اور عمل کے ذریعے اس بات کو ثابت کرنا ہوگا خاص طور پر خواتین کے لئے ضروری ہے کہ حجاب کے معاملے میں حضرت فاطمہ (س) کی زندگی کا مطالعہ کریں اور حضرت فاطمہ (س) کے حجاب کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں، کیونکہ تمام تر مشکلات کے باوجود آپ نے کبھی حجاب اسلامی کو نہیں چھوڑا۔ آپ نے مختلف حوادث جیسے اجتماعی اور سیاسی امور میں شرکت فرمائی ہے، لیکن حجاب اسلامی کی مکمل رعایت کے ساتھ اپنا مدعا بیان کیا کرتی تھیں۔

مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ ایک نابینا شخص آپ کی اجازت سے آپ کے گھر میں داخل ہوا اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف فرما تھے، جب وہ شخص گھر میں داخل ہونا چاہا تو حضرت فاطمہ (س) نے اپنے آپ کو ڈھانپا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیٹی یہ شخص تو نابینا ہے اور آپ کو دیکھ نہیں سکتا، آپ کیوں اپنے آپ کو ڈھانپ رہی ہو؟ تو حضرت فاطمہ (س) نے فرمایا کہ بابا جان اگر یہ شخص مجھے نہیں دیکھ سکتا ہے تو میں تو اسے دیکھ سکتی ہوں اور اس کے علاوہ یہ شخص میری خوشبو سونگھ سکتا ہے، تو پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ (س) کی تایید کرتے ہوے فرمایا کہ “اشھد أنك بضعة منىمیں گواہی دیتا ہوں کہ تم میرا ٹکڑا ہو۔(بحار الانوار ج 43، ص91)

اس کے علاوہ وہ مشہور واقعہ جو امیر المؤمنین (ع) سے منقول ہے کہ ایک دفعہ کچھ اصحاب نبی اکرم (ص) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ (ص) نے پوچھا کہ عورت کے لئے سب سے اچھا کام کیا ہے؟ کوئی بھی صحیح جواب نہیں دے سکا۔ جب میں گھر آیا تو سارا واقعہ حضرت فاطمہ (س) کو سنایا تو حضرت فاطمہ (س) نے کہا کہ اس سوال کا جواب میں جانتی ہوں، تو امیر المؤمنین (ع) نے پوچھا کہ اے رسول کی بیٹی اس سوال کا جواب کیا ہے؟ تو حضرت فاطمہ (س) نے فرمایا کہ”خير للنساء أن لا يرين الرجال و لا يراهن الرجال” عورت کے لئے سب سے اچھا کام یہ ہے کہ کوئی مرد اسے نہ دیکھے اور وہ کسی مرد کو نہ دیکھے، تو میں نے رسول اللہ (ص) کی خدمت میں جا کر کہا کہ اے اللہ کے نبی اس سوال کا جواب میں جانتا ہوں کہ خواتین کے لئے سب سے بڑا کام یہ ہے کہ کوئی نامحرم مرد کی نگاہ اس پر نہ پڑے اور اس کی نگاہ کسی نامحرم مرد پر نہ پڑے، تو رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ یہ بات آپ کو کس نے بتائی؟ تو حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ فاطمہ (س) نے فرمایا ہے تو اس جواب سے خوش ہوکر حضرت فاطمہ (س) کے جواب کو پسند فرمایا اور تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ إن فاطمة بضعة منى کہ یقیناً فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔(کشف الغمہ ج2ص 23٫24).

حجاب اسلامی سے مراد یہ نہیں ہے کہ خواتین گھروں سے باہر نہ نکلیں بلکہ مراد یہ ہے کہ خواتین معقول پردے کے ساتھ تمام اجتماعی اور سیاسی امور میں حصہ لے سکتی ہیں اور حجاب اسلامی کے ذریعے معاشرے میں موجود اخلاقی برائیوں کو روک سکتی ہیں۔ حضرت فاطمہ (س) حجاب اسلامی کی رعایت کے ساتھ تمام اجتماعی اور سیاسی امور میں شرکت کرتی تھیں اور دنیا والوں کو یہ بتلا دیا کہ حجاب خواتین کے لئے ننگ و عار نہیں اور حجاب اسلامی سے خواتین محبوس بھی نہیں ہوتیں، بلکہ حجاب اسلامی کی رعایت سے ہی خواتین باوقار اور باعزت بن جاتی ہیں۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اس بات کو عملی طور پر ثابت کیا اور مکمل حجاب اسلامی کے ساتھ مختلف اجتماعی اور سیاسی امور میں شرکت کرتی تھیں۔

محدثین نقل کرتے ہیں: رُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: خَرَجَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ هُوَ آخِذٌ بِيَدِ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا اَلسَّلاَمُ فَقَالَ مَنْ عَرَفَ هَذِهِ فَقَدْ عَرَفَهَا وَ مَنْ لَمْ يَعْرِفْهَا فَهِيَ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَ هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي وَ هِيَ قَلْبِي وَ رُوحِيَ اَلَّتِي بَيْنَ جَنْبَيَّ فَمَنْ آذَاهَا فَقَدْ آذَانِي وَ مَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اَللَّهَ۔(بحار الانوار ج 43 ص 54)، (کنزالعمال ج 13ص96) ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ (س) کا ہاتھ پکڑ کر لوگوں کے درمیان لیکر آئے اور لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ جو فاطمہ (س) کو پہچانتے ہیں وہ پہچانتے ہیں اور جو نہیں پہچانتے وہ پہچان لیں کہ فاطمہ (س) محمد (ص) کی بیٹی ہے اور میرا ٹکڑا ہے فاطمہ میری جان ہے جس جس نے فاطمہ کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے خدا کو اذیت دی اور اس کے علاوہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے کہ مکہ کے مشرکین ابوجہل کے کہنے پر پیامبر اکرم (ص) کو اذیت پہنچاتے تھے۔ ایک شخص جس کا نام ابن زبعری تھا، اس نے جانور کی غلاظت کو آپ (ص) کی طرف پھینکا تو اس غلاظت کی وجہ سے آپ (ص) کا سر اور چہرۂ مبارک آلودہ ہوا، جب حضرت زہراء نے یہ حالت دیکھی تو آپ نے پانی سے اپنے بابا کے بدن مبارک کو صاف کیا جبکہ اس وقت آپ کی عمر بہت کم تھی۔(مناقب آل ابی طالب ج 1ص 60)

حجابِ حضرت فاطمہ (س) کو سمجھنے کے لئے سب سے اہم امر آپ (س) کا وہ خطبہ ہے، جو مسجد نبوی میں حضرت رسول اللہ (ص) کی رحلت کے بعد لوگوں کے درمیان میں دیا تھا، اس خطبے میں آپ (س) نے حق غصب کرنے والوں کی مذمت کی اور ساتھ ساتھ ولایت اور امامت کا دفاع بھی کیا۔ حضرت فاطمہ (س) کا گھر سے نکلنا اور لوگوں کی بھیڑ میں جانا اور خطبہ دینا اور اس وقت آپ کے حجاب کی کیفیت اس قدر ظریف اور کامل تھی کہ تمام انسانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حضرت کا لوگوں کے درمیان میں جانا اور حاکم وقت کی سرزنش کرنا، اہل بیت کے حق کا مطالبہ کرنا، ولایت کا دفاع اور اس قدر حجاب کی رعایت یہ وہی معتدل راستہ ہے، جس کا حکم اسلام نے دیا ہے۔

حضرت فاطمہ (س) کے گھر سے نکلنے کا انداز:
روی انّه لمّا أجمع أبوبکر و عمر علی منع فاطمة علیهاالسلام فدکاً و بلغها ذلک، لاثت خمارها علی رأسها، و اشتملت بجلبابها، و أقبلت فی لمّة من حفدتها و نساء قومها، تطأ ذیولها، ما تخرم مشیتها مشیة رسول اللَّه صلی اللَّه علیه و آله، حتّی دخلت علی أبی بکر، و هو فی حشد من المهاجرین و الانصار و غیر هم، فنیطت دونها ملاءة فجلست، ثم أنّت أنّة أجهش القوم لها بالبکاء، فارتجّ المجلس، ثم أمهلت هنیئة.
چند نکتے: ہم یہاں بطور اختصار صرف چند نکات کی طرف اشارہ کریں گے۔
لاثت: لاثت کا معنی لپیٹنا ہے، یعنی آپ نے سر اور گردن کے اردگرد روسری کو لپیٹا اور بلکہ (خمار) روسری سے بڑی ہے، جو سر، چہرہ، گردن اور سینے کے اوپر بھی آجاتی ہے۔
جلباب: اس لباس کو کہتے ہیں کہ جو خواتین لباس کے اوپر پہنتی ہیں، جو پورے جسم کو ڈھانپتا ہے جیسے چادر یا عربی لباس جو آج کل رائج ہے، اسی کی طرح ہے۔
من لمة: آپ خواتین کے ایک گروہ کے ساتھ جو یا تو آپ کے ہم سن تھیں یا آپ کی مددگار تھیں، گھر سے نکلیں، اس کی دو وجہ ہوسکتی ہے:
1۔ آپ کی ظاہری شخصیت محفوظ رہی۔
2۔ بدن لوگوں کے درمیان ظاہر نہ ہو۔
ملاءة: حضرت فاطمہ (س) اور لوگوں کے درمیان پردہ لگایا گیا تھا۔
مختصر کلام یہ کہ آپ (س) دربار میں گئیں اور اس اہتمام کے ساتھ گئیں کہ حجاب اسلامی بھی محفوظ اور حاکم وقت کی سرزنش بھی ہوئی اور اپنے حق کا مطالبہ بھی کیا اور ساتھ ساتھ ولایت اور امامت کا دفاع بھی کیا۔ (احتجاج طبرسى ج١ ص١٣١ و ١٣٢).

حجاب کے اجتماعی آثار اور نتائج:
انسان فردی زندگی میں جو بھی عمل انجام دیتا ہےو اس کا اثر ضرور اجتماع پر بھی پڑتا ہےو کیونکہ اجتماع یا معاشرہ ایک خاندان سے ہی تشکیل پاتا ہے۔ لہذا معاشرے کے اندر موجود ہر فرد اور ہر شخص کے عمل یا رفتار کا اثر معاشرے پر پڑتا ہے اور اسی طرح ہر فرد یا ہر شخص بھی معاشرے کے قوانین سے اثر لیتا ہے۔ فرد جو عمل انجام دیتا ہےو کبھی ذاتی آثار پر مشتمل ہوتا ہے اور کبھی شخصیتی آثار پر اور کبھی ان دونوں کے علاوہ اجتماعی آثار پر مشتمل ہوتا ہے۔ حجاب ایک ایسا عمل ہے کہ جس کے اندر یہ تمام آثار موجود ہیں۔ وہ معاشرہ جس میں خواتین دوسروں کے حقوق کی پاسداری کے ساتھ گھر سے باہر نکلتی ہیں اور معاشرے میں موجود جوانوں کے لئے ایک پرامن اور پرسکون ماحول فراہم کرتی ہیں۔

وہ معاشرہ ہمیشہ دنیا اور آخرت کی سعادت کی طرف بڑھے گا اور اگر معاشرے میں موجود خواتین حجاب اسلامی کی رعایت کرتی ہیں تو اس معاشرے میں موجود مرد حضرات بھی روحانی اور جسمانی طور پر پاک اور طاہر رہتے ہیں۔ جب یہ لوگ پاک اور طاہر رہیں گے تو معاشرہ بھی پرامن اور پرسکون رہے گا اور اخلاقی مفاسد سے بھی محفوظ رہے گا، جس کے نتیجے میں وہ خواتین جو حجاب اسلامی کی رعایت نہیں کرتی ہیں، وہ بھی ان سے متاثر ہوکر حجاب اسلامی کی رعایت کرنے کی کوشش کریں گی۔ اس طرح معاشرے میں موجود اجتماعی مراکز بھی محفوظ رہیں گے اور جس کے نتیجے میں ایک اسلامی معاشرہ وجود میں آئے گا اور ہر طرف اسلام کا بول بالا ہوگا۔ امام خمینی (رہ) فرماتے ہیں کہ خواتین اجتماعی اور سیاسی امور میں حصہ لے لیں، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ شرعی حدود کی رعایت کریں، جیسے شوہر کی رضایت۔ (صحیفہ امام، ج18، ص 403).

نتیجہ:
جب ہم اسلامی معاشرے کا موازنہ غیر اسلامی معاشرے سے کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جب تک حجاب کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر کو مکمل اور واضح طور پر بیان نہیں کریں گے، تب تک کوئی بھی معاشرہ کمال تک نہیں پہنچ سکتا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ خواتین فکری، سیاسی، علمی اور سب سے اہم معنوی اعتبار سے اعلیٰ درجے تک پہنچیں اور معاشرے کے لئے مفید ثابت ہوں۔ تمام تعلیمات اسلامی اور اسی طرح حجاب اسلامی کا مسئلہ بھی اسی بنیاد پر ہے اور حضرت فاطمہ (س) حجاب کے بارے میں فرماتی ہیں کہ دشمن کے مقابلے میں یا نامحرم کے مقابلے میں کھڑے ہوکر حق کا مطالبہ کرنا خواتین کا حق ہے، لیکن ساتھ ساتھ اس بات کو بھی واضح کر رہی ہیں کہ نامحرم مرد اور عورت کا کسی اجتماعی اور سیاسی یا کسی بھی امور میں حجاب اسلامی کی رعایت کے بغیر داخل ہونا ممنوع ہے۔ لہذا حضرت فاطمہ (س) ہمارے لئے بہترین نمونۂ عمل ہیں اور معاشرے میں حجاب اسلامی کی مکمل رعایت اور تشہیر کے لئے ضروری ہے کہ حجاب اسلامی کی افادیت اور اہمیت واضح طور پر بیان کریں اور حضرت فاطمہ (س) اس کے لئے بہترین اور بے مثال نمونہ ہیں، جس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ حضرت فاطمہ (س) کی زندگی کا مطالعہ اور آپ (س) کی زندگی کو سمجھتے ہوئے اس پر عمل کریں۔
خبر کا کوڈ : 975396
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش