0
Thursday 27 Jan 2022 17:09

ریاض، ابوظہبی اور تل ابیب کی یمن مخالف مثلث

ریاض، ابوظہبی اور تل ابیب کی یمن مخالف مثلث
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

متحدہ عرب امارات پر یمن کے جوابی حملوں کی وجوہات اور پیغامات سے قطع نظر، یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یمن کے خلاف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور صیہونی حکومت کی مثلث کی نقل و حرکت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یمن کے خلاف سعودی اتحاد کی جنگ آج 27 جنوری کو اپنے 83ویں مہینے میں داخل ہوگئی۔ گذشتہ ایک سال سے یہ قیاس آرائیاں عروج پر تھیں کہ یمن کے خلاف جنگ کی شدت میں کمی ہوگی اور یہ کہ دونوں فریق مذاکرات اور بحران کو کم کرنے کی طرف بڑھیں گے، کیونکہ کسی ایک فریق کو دوسرے پر مکمل برتری حاصل نہیں ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ دوسری طرف 2022ء کے آغاز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن میں تنازع کے پیمانے اور شدت میں اضافہ ہوا ہے اور اب یہ مزید بڑھ رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ہتھیاروں سے بھرا بحری جہاز یمن بھیجا، جسے یمنیوں نے قبضے میں لے لیا، یمنیوں نے جوابی کارروائی میں ابوظہبی پر حملہ کیا اور متحدہ عرب امارات کو واضح پیغام بھی دے دیا کہ اگر اس نے جنگ میں شرکت جاری رکھی تو وہ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
 
اس دوران صوبہ صنعا میں رہائشی علاقوں کو سعودی جنگجوؤں کی جانب سے شدید ترین فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گذشتہ منگل کو سعودی لڑاکا طیاروں نے یمن کے شمالی صوبے صعدہ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 91 افراد جاں بحق اور 236 زخمی ہوگئے۔ یمنی وزیر صحت المتوکل نے کہا کہ سعودی اتحاد واضح طور پر عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور جان بوجھ کر شہریوں کو مارنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس وقت اہم بات یہ ہے کہ صیہونی عنصر نے یمن کے خلاف جنگ میں اپنی شرکت کو بڑھا دیا ہے، تاکہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور صیہونی حکومت کی مثلث یمن کے مخالف مزید فعال ہو۔ اگر یمن کی جنگ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے ساکھ کا مسئلہ ہے تو صیہونی حکومت کے بھی اس جنگ میں کئی مفادات ہیں اور وہ اس جنک سے اپنے مقاصد حاصل کرے گی۔

ایک طرف صیہونی حکومت یمن کی جنگ کے اندر بالخصوص متحدہ عرب امارات سے اپنے اقتصادی مفادات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری طرف ریاض کو بھی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ اس دوران صہیونی کمپنی "اسکائی لاک" جو فضائی دفاع کی پیداوار میں مشہور ہے، نے اعلان کیا ہے کہ اماراتی حکومت نے اس کمپنی سے فوری مدد کی درخواست کی ہے اور وہ صیہونی حکومت سے میزائل سسٹم خریدنے کے خواہاں ہیں۔ دوسری جانب صیہونی حکومت یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مدد کرکے سعودی عرب کو تل ابیب کے ساتھ اپنے تعلقات کو برملا کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ متعدد رپورٹوں کے مطابق ریاض اور تل ابیب کے درمیان خفیہ تعلقات میں اضافہ ہوا ہے، لیکن آل سعود تعلقات کو معمول پر لانے والے ممالک میں شامل ہونے سے انکار کر رہا ہے،کیونکہ اسے خاص طور پر اس اقدام کے ردعمل میں اسلامی دنیا میں اپنے امیج پر پڑنے والے نتائج کی فکر ہے۔

اسی تناظر میں صیہونی حکومت یمن کے خلاف جنگ میں اپنی شرکت کو بڑھا کر سعودی عرب کو تعلقات کو معمول پر لانے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ ریاض، ابوظہبی اور تل ابیب کی یمن مخالف تکون کی سرگرمیںوں میں اضافے سے یمن کو مادی اور انسانی نقصان پہنچے گا، لیکن یہ یمنیوں کی شکست کا باعث نہیں بنے گا۔ پچھلے 7 سالوں میں بار بار کیے جانے والے اس طرح کے اقدامات کا سعودی، اماراتی اور صیہونی حکومت کو کبھی بھی مطلوبہ نتیجہ نہیں ملا، بلکہ تنازعات میں شدت سے عام شہریوں کی ہلاکت میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے جارح اتحاد کی مزید رسوائی ہوگی۔ یمن کے خلاف جنگ میں اس مثلث کے جرائم پر بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی بھی جہاں یمن کی بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال پر بہت زیادہ اثر ڈالے گی، وہاں ان اداروں کی دوہری اور منافقانہ پالیسیاں بھی رائے عامہ پر مزید آشکار ہونگی۔

سعودی عرب کی جانب سے یمن کے مکمل محاصرے کے باوجود یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورسز کی دفاعی طاقت و توانائی میں روز بروز اضافے کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب یمن کی مرکزی قومی حکومت کے ترجمان محمد عبدالسلام نے جارح سعودی اتحاد کو امریکی بیساکھیوں پر کھڑا لنگڑا لولا اتحاد قرار دیا ہے۔ اپنے ایک ٹوئٹ میں محمد عبدالسلام نے لکھا ہے کہ یمن پر جارحیت کرنے والے سعودی اتحاد میں شامل بعض ممالک خود اندرونی سلامتی کے بحران سے دوچار ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات جیسا ملک تو امریکی بیساکھیوں کے بغیر کھڑا بھی نہیں ہوسکتا اور واشنگٹن سے حمایت کی بھیک مانگ رہا ہے۔ یمن کی مرکزی قومی حکومت کے ترجمان اور چیف مذاکرات کار  محمد عبدالسلام نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کو حقیقی معنوں میں یمن کی دلدل سے باہر نکل جانے کی ضرورت ہے، تاکہ اسے امریکہ سے حمایت کی بھیک نہ مانگنا پڑے۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یمن پر حملے بند نہ کیے تو امریکی حمایت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور وہ بھی اس کی سلامتی کا تحفظ نہیں کر پائے گا۔ یاد رہے کہ سعودی عرب نے امریکہ، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر عرب ملکوں کے ساتھ مل کر مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کو زمینی، فضائی اور سمندری جارحیت کا نشانہ بنانے کے لیے اس ملک کا محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔ تقریباً سات برس سے جاری سعودی جارحیت کے نتیجے میں لاکھوں بے گناہ شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ چالیس لاکھ سے زائد افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ یمن کے خلاف سعودی جارحیت اور بمباری کے باعث اس ملک کا اسی فی صد بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا گیا ہے اور یمنی عوام کو ایندھن، غذائی اشیاء اور دواؤں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
خبر کا کوڈ : 975879
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش