1
Friday 28 Jan 2022 01:47

آنسو اور شہادت(1)

(حرم کے پروانوں سے لازوال عشق کی داستان)
آنسو اور شہادت(1)
تحریر: سویرا بتول

(یہ حرم کے پروانوں سے لازوال عشق کی سچی داستان ہے۔ راہِ عشق خدا پر گامزن اِس لڑکی کے قدرت نے بہت امتحان لیے مگر شہداء سے توسل کی بناء پر وہ ہر موڑ پر ثابت قدم رہی۔ یہ داستان چند اقساط پر مشتمل ہے۔ یہاں چشمِ تصور میں بہشت زہراء کی منظر کشی کی گئی ہے۔ مسلسل اضطراب اور شہداء سے توسل زندگی کو کیسا تبدیل کرکے رکھ دیتا ہے، یہ اس داستان سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عشق کی اس سچی داستان کا ہر حرف اشکوں سے لکھا گیا ہے، جس کا اندازہ ہمارے قارئين کو بھی ہوگا۔ یہ داستان ہر عاشقِ شہداء کے نام، جو شب کی تاریکیوں میں جنابِ سیدہ سلام اللہ علیہا سے اپنے لیے گمنامی لکھواتے ہیں)
سلام بر عاشقانِ خدا
سلام بر مدافعین حرم


شب کا سناٹا ہر سو پھیل رہا تھا، ہر گزرتا لمحہ اُس کے اضطراب میں اضافہ کرتا۔ آج شبِ جمعہ تھی اور یہ شب ہمیشہ اُس پر گراں گزرتی۔ بہشتِ زہراء میں بلند ہوتی العفو کی صداٸیں اُس کے وجود میں اضطراب کی ایک نئی لہر کو جاری کر دیتیں۔ وہ ایک گمنام شہید کی قبر پر موجود تھی۔ وہ شہداء جن کا جنازہ نہ مل پاتا، اُن کی قبر مں پھول دفن کیے جاتے ہیں، جسے یادِ بود کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ شہداء شہادت کے پروں سے پرواز کرتے ہوٸے ذاتِ اقدس کی طرف چلے گئے، لیکن اُن کے خونی جسد یہاں وہاں بکھرے ہوٸے پھولوں کی مانند پڑے ہوٸے تھے، وہ کئی گھنٹے شہداء کے جوار میں گزار دیتی۔

شبِ جمعہ گلزارِ شہداء کا منظر عجیب ہوتا ہے۔ وہ یہاں باقاعدگی سے آیا کرتی تھی، اکثر اوقات شہداء سے توسل کرتے، گریہ کرتے اُس کا سانس رکتا دکھاٸی دیتا۔ گرد سے اٹا نحیف سا وجود اور چہرے پر آنسوٶں کی لڑیاں اُس کی شہداء سے عقیدت کو ظاہر کرتا، وہ آج تک اِس عشق کو کوئی نام نہیں دے پاٸی تھی۔ راہِ عشقِ خدا پر گامزن یہ لڑکی نہیں جانتی تھی کہ عشق الہیٰ میں بڑے بڑے امتحان لیے جاتے ہیں، ایک ذرا سی غلطی عرش سے فرش پر لا پھینکتی ہے۔ گذشتہ کچھ برسوں سے اُس نے شہداء پر اس قدر گریہ کیا کہ اُس کے احباب اُسے کسی اچھے ماہرِ نفسیات سے تشخيص کروانے کا کہتے۔ وہ ہمیشہ جواباً یہی کہتی کہ دنیا کا کوٸی طبیب بھی حرم کے پروانوں سے عشق کی داستان کو سمجھ نہیں سکتا۔ بسا اوقات اُسے ایسا لگتا کہ وہ ٹوٹ چکی ہے، بکھر گئی ہے، تھک گئی ہے اور پھر وہ گھنٹوں شہداء سے توسل کرتی، کبھی اپنے لیے گمنامی مانگتی اور کبھی جلد پرواز کرنے کا عندیہ طلب کرتی۔

آج کی شب بہت خاص تھی، کیونکہ آج شہید ابراہیم ہادی کا روزِ ولادت تھا اور کیا حسن اتفاق تھا کہ چند روز قبل ام الشہداء جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کا روزِ ولادت بھی تھا۔ شہید ابراہیم ہادی کو جنابِ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا سے ایک خاص قسم کی عقیدت تھی۔ شہید ہمیشہ اپنے لیے جناب زہراء سلام اللہ علیہا جیسی گمنامی طلب کرتے۔ اکثر کہا کرتے کہ میری خواہش ہے کہ جیسے مادر جان کے روضے کا کتبہ نہیں ہے، ویسے میری قبر کا بھی نشان نہ ملے۔ شہید ابراہیم ہادی اکثر اوقات مجلس میں مرثیے و نوحے پڑھتے تھے، خصوصاً حضرت زہراء سلام اللہ علیہا سے متعلق نوحے بہت ہی جان سوز تھے۔ وہ شہداء کہ جن کے جنازے بھی نہ ملتے تھے، اُن سے شہید کو عجیب قسم کا لگاٶ تھا۔ اتنا زیادہ کہ اُن کی تمام سوچیں اور ذکر اُن گمنام شہداء کے بارے میں تھیں۔

وہ اُن کے گمنام مزاروں کو حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے مخفی مزار سے تشبیہ دیتے تھے۔ اُن کی آرزو تھی کہ وہ حضرت زہراء کی طرح شہید ہوں اور اُن کی قبر کا بھی کسی کو علم نہ ہو۔ وہ شہید ابراہیم ہادی کی طرح جانتی تھی کہ جو عشق کرتا ہے، وہ شہید ہو جاتا ہے اور جو عشق کی تمام منازل کو عبور کرتا ہے، وہ گمنام ہو جاتا ہے۔ اُسے علم تھا کہ شہرت پرستوں کے لیے شہرت سب کچھ ہے، جبکہ تمام تر اجر گمنامی میں ہے۔ اُس نے کئی سال گمنام رہ کر کام کیا، مگر شہداء کے طفیل اُسے شہرت بھی ملی اور مقام بھی۔ وہ جانتی تھی کہ عشق کا راستہ ایسا راستہ ہے، جس کی کوٸی انتہاء نہیں، وہاں سر کی بازی لگا دینا ہی عشق و وفا و اطاعت کی دلیل ہے۔

ابھی وہ شہداء سے توسل کر رہی تھی کہ ایک گوشے سے ایک جوان شہید کی آواز سناٸی دی *اے میرے دوستو! جلدی کرو کہ زمین رہنے کہ جگہ نہیں، صرف گزرگاہ ہے۔ کیا تم نے کبھی سنا ہے کہ کوٸی گزرگاہ پر رہائش پذیر ہو جاٸے؟ اور شک نہ کرو کہ موت یہاں سب سے زیادہ تمہارے نزدیک ہے کہ کربلا میں کربلا والوں کے ساتھ ہے۔ناامید مت ہوں کہ آپ کے لیے بھی کربلا اور عاشورہ ہے، جس میں کچھ تمہارے خون کے بھی پیاسے ہیں جبکہ تمہارے کچھ ساتھی انتظار کر رہے ہیں کہ تم اپنے خاکی وجود کی زنجیروں کو پاٶں سے کھول دو اور اپنے آپ سے اور اپنی دلی وابستگیوں سے ہجرت کرو اور زماں و مکاں کی قید سے بالاتر ہوکر آگے بڑھو اور خود کو سن 61 ہجری کے قافلے تک پہنچاٶ اور امامِ عشق کی رکاب میں اُس لذت اور سرمستی کو محسوس کرو، جسے حرع اور حبیب (ع) نے محسوس کیا* 

اس شہید کی آواز نے فضا میں ایک عجیب کیفیت کو پیدا کر دیا، شہید کی آواز مسلسل اُس کے ذہن میں گردش کر رہی تھی۔ وہ مسلسل رو رہی تھی، اُس کا دل کیا کہ زور سے چیخے چلاٸے، اپنے دل کا سارا درد چیخ چیخ کر بیان کرے، سالوں کا یہ اضطراب اور شہداء کی مناجات جو کئی برس سے اُسے سونے نہ دے رہی تھیں، اُسے اشکوں کے ذریعے بیان کرے، مگر اُس کے آنسو کہیں حلق میں ہی اٹک گئے تھے۔ گھنٹوں پر محیط گریہ کی وجہ سے اُس کی سانسیں اکھڑنے لگیں تھیں، زرد پڑتی رنگت کے باوجود وہ مسلسل مدافعین حرم سے توسل کرتے ہوٸے کہہ رہی تھی کہ مجھے علم ہے کہ میں گناہوں سے آلودہ ہوں، آپ جیسی پاک و طاہر نہیں، دنیا کی آلودگیوں نے میرے نفس کو پراگندہ کر دیا ہے، میں روز بروز گناہوں کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہوں۔

اُس کا دل کیا کہ وہ زور سے چیخ مارے اور اُس کی روح پرواز کر جاٸے۔ اُس کی حالت قابلِ رحم تھی، اُس کی روح کی اس تڑپ کو شاید کوٸی نہ سمجھ پاتا، عین ممکن تھا کہ اُس کی روح پرواز کر جاٸے کہ کہیں سے سحر انگیز عطر کی خوشبو آٸی، جس نے اُس کے پورے وجود کو معطر کر دیا۔ کشادہ پیشانی، مطمئن چہرہ، لب پر تبسم سجاٸے یہ سولہ سالہ شہید تھا، اُس نے چاہا کہ اُسے روکے، اپنے لیے شہادت طلب کرے کہ وہ جوان تبسم کرتا ہوا، دھیمے لہجے میں سرگوشی کرتا چلا گیا، اُس نے اپنے مخصوص انداز میں کہا تھا *رازِ شہادت در اشک است۔* اُس کے ہاتھ پر دھری کلنا عباسک یازینب کی پٹی ہنوز اشکوں سے تر تھی اور وہ بے ہوش ہوگئی تھی
دین کا ثبات ہو
زیست کی نجات ہو
قوم کی حیات ہو
اے شہیدو تم وفا کی کاٸنات ہو
اے شہیدو اے شہیدو تم حیات ہو
اے شہیدو تم وفا کی کاٸنات ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 975959
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش