1
Thursday 12 May 2022 18:58

شام کے صدر بشار اسد کا دورہ تہران

شام کے صدر بشار اسد کا دورہ تہران
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی
 
شام کے صدر بشار اسد نے حال ہی میں غیر متوقع طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کا دورہ کیا ہے۔ یہ دورہ کئی اہداف و مقاصد کا حامل تھا۔ اس کا سب سے پہلا مقصد شام اور ایران کے درمیان تعلقات کی اہمیت واضح کرنا تھی۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا گذشتہ تین برس کے دوران شام کے صدر بشار اسد دو بار ایران کا دورہ کر چکے ہیں جبکہ اس دوران ایران کے بھی کئی اعلی سطحی حکام شام کا دورہ کر چکے ہیں۔ لہذا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک باہمی تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اعلی اسٹریٹجک سطح بھی ظاہر ہوتی ہے۔ شام کے صدر کا دورہ ایران ثابت کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں۔
 
صدر بشار اسد کے حالیہ دورے کا ایک اور مقصد شام میں تعمیر نو کے پراجیکٹس کو آگے بڑھانا تھا۔ اس نکتے کی جانب صدر بشار اسد نے بھی اشارہ کیا ہے جبکہ رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بھی شام کے صدر سے اپنی ملاقات میں اس پر اظہار خیال کیا ہے۔ لہذا اس دورے کا ایک مقصد شام میں تعمیر نو سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ شام کے صدر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کی تعمیر نو میں جہاں تک ممکن ہو مقامی افرادی قوت بروئے کار لائی جائے اور اگر غیر ملکی افرادی قوت کی ضرورت پڑی تو ایران کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔ شام کا اتحادی ہونے کے ناطے اسلامی جمہوریہ ایران کیلئے بھی یہ انتہائی اہم نکتہ ہے کیونکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہو گا۔
 
جب کوئی ملک شدید قسم کے بحران کی زد میں آتا ہے تو ایسی صورتحال میں جو ممالک بھی اس کی مدد کرتے ہیں اور شدید مشکلات میں اس کا ساتھ دیتے ہیں وہ اس کی نظر میں ایک خاص مقام اور اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی انتہائی مشکل اور کٹھن حالات میں شام کا ساتھ دیا ہے اور درپیش بحران پر پوری طرح قابو پانے کے آخری مرحلے تک اس کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ دوسری طرف ایسے ممالک جو مشکل حالات پیدا ہوتے ہی اپنی اقتصادی، سیاسی اور فوجی صلاحیتوں کو سمیٹ کر رخصت ہو جاتے ہیں ان پر کسی صورت اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ رہبر معظم انقلاب نے صدر بشار اسد سے ملاقات میں اسی نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ممالک جو بحرانی حالات میں شام کے مدمقابل کھڑے تھے آج اس کے مخلص دوست نہیں ہو سکتے۔
 
شام کے صدر بشار اسد کا دورہ تہران اور رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے ان کی ملاقات اپنے اندر کئی پیغامات لئے ہوئے تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دورے کا اہم ترین پیغام اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کیلئے تھا۔ مزید برآں، شام عرب دنیا کے چہرے کے طور پر معروف ہے لہذا صدر بشار اسد کا یہ دورہ غاصب صہیونی رژیم کے خلاف برسرپیکار اسلامی مزاحمتی گروہوں کیلئے بھی انتہائی امید افزا پیغامات کا حامل تھا۔ اس دورے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی مزاحمتی گروہ مستقبل میں شام پر ایک حامی اور دوست ملک ہونے کے ناطے اعتماد کر سکتے ہیں۔ اسی طرح یہ دورہ اس پیغام کا بھی حامل ہے کہ شام ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اسلامی مزاحمتی بلاک کا فعال اور سرگرم رکن باقی رہے گا۔
 
شام نے ہمیشہ سے مسئلہ فلسطین کے بارے میں انتہائی مثبت اور موثر کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف مقبوضہ فلسطین کے ساتھ مشترکہ سرحد ہونے کے ناطے شام کا موقف اور طرز عمل بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر ہم شام کا موازنہ مقبوضہ فلسطین کے دیگر ہمسایہ ممالک جیسے لبنان، اردن یا مصر سے کریں تو دیکھیں گے کہ شام نے مسئلہ فلسطین کے آغاز سے ہی خاص طور پر 1967ء کے بعد غاصب صہیونی رژیم کے خلاف انتہائی شجاعانہ اور مزاحمتی موقف اختیار کیا ہے۔ اسی وجہ سے شام کو عرب دنیا میں ایک ممتاز حیثیت اور مقام حاصل ہے۔ آج جب فلسطین میں اسلامی مزاحمتی قوتیں غاصب صہیونی رژیم کے خلاف جدوجہد کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، شام انتہائی اہم اور بنیادی کردار ادا کرنے کے قابل ہو چکا ہے۔
 
ایسی صورتحال میں شام کے صدر بشار اسد کا تہران آنا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کرنا مسئلہ فلسطین اور قدس شریف کے تناظر میں خاص معنی و مفہوم کا حامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل قریب میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے اپنی جدوجہد تیز کر دینے اور ایران اور شام کے درمیان مسئلہ فلسطین سے متعلق باہمی تعاون کے نتیجے میں مقبوضہ فلسطین میں اہم اور اسٹریٹجک تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں۔ مقبوضہ فلسطین کا مرکزی حصہ جو گذشتہ بچاس برس سے تقریباً پرسکون تھا، آج غاصب صہیونی رژیم کی سلامتی کیلئے سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔ لہذا صدر بشار اسد کا دورہ ایران، فلسطینیوں کی مدد اور سکیورٹی کے تناظر میں بھی بہت اہم ہے جیسا کہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم بھی اسے اپنے لئے خطرے کی گھنٹی قرار دے رہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 993896
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش