0
Friday 20 May 2022 10:32

امید انقلاب، تاسیس، تنظیم، خدمات(1)

50 ویں یوم تاسیس پر پاکستان میں کاروان ِامید انقلاب کو خراج عقیدت(حصہ اول)
امید انقلاب، تاسیس، تنظیم، خدمات(1)
تحریر: ارشاد حسین ناصر

عمومی طور پر پاکستان اور ہمارے جیسے دیگر ممالک میں یہ روش رہی ہے کہ جب کوئی قومی یا ملک سطح کا پلیٹ فارم سامنے آتا ہے، کوئی سیاسی جماعت وجود میں آتی ہے تو وہ اپنے شعبے بناتے ہیں، ان شعبوں میں یوتھ کا شعبہ اور پھر خصوصی طور پہ طلباء ونگ بھی کامیابی یا مضبوطی کیلئے لازمی بنایا جاتا ہے۔ قائد اعظم نے بھی مسلم لیگ بنائی تو طلباء ونگ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن بنایا گیا، جو قیام پاکستان کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ساتھ رہا۔ اسی طرح دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی اپنے طلباء ونگ تشکیل دیئے اور اپنی قوت کیلئے کالجز و یونیورسٹیز کے طلباء کو خاص اہمیت دی۔ ایک زمانہ تھا جب پاکستان میں نظریاتی سیاست ہوتی تھی، اس دور میں طلباء میں بھی اس نظریاتی سیاست کا رنگ غالب دکھائی دیتا تھا۔ اس زمانے میں طلباء تنظیمیں بھی بہت فعال، متحرک رہتیں اور طلباء کو اپنی جانب لانے کیلئے انقلابی نظریات کیساتھ ساتھ کارکردگی بھی دکھاتی تھیں۔ ایوب خان کے خلاف طلباء بھی تحریک کا حصہ تھے، طلباء بھی دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم کا شکار تھے۔ اس زمانے میں سوشلسٹ نظریات کالجز و یونیورسٹیز میں تیزی سے پھیل گئے تھے۔

یہی وہ زمانہ ہے، جب ملت کے طلباء جو کہیں شیعہ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے نام سے کام کر رہے تھے تو کسی دوسرے کالج میں امامیہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام سے جدوجہد میں مصروف تھے، ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کیلئے 22 مئی 1972ء کے دن انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں کاروان امامیہ کا تاسیسی اجلاس ہوا۔ اسی اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا کہ کہ آئندہ مختلف ناموں کے بجائے مشترکہ طور پر جدوجہد کی جائے گی۔ اس حوالے سے دستور العمل اور اصول و ضوابط طے کرنے کیلئے 11 جون کو میو ہسپتال میں واقع ڈاکٹر ماجد نوروز عابدی کے گھر پر اجلاس منعقد کیا گیا، اس اجلاس میں بزرگ علماء قبلہ مولانا مرتضیٰ حسین صدرالافاضل، قبلہ آغا علی الموسوی، قبلہ صفدر حسین نجفی، قبلہ صادق علی نجفی بھی شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں یہ طے ہوگیا کہ تمام تنظیموں کو ایک ہی نام سے، ایک ہی دستور کے تحت کام کرنا ہوگا، یہ نام علماء نے استخارہ کے ذریعے منتخب کیا، جو امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان تھا۔

اس اجلاس میں تنظیم کا عبوری سیٹ اپ بھی چنا گیا، برادر سید مرغوب حسین زیدی جو کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے طالبعلم تھے، ان کو عبوری مدت کیلئے صدر منتخب کیا گیا(مرغوب حسین زیدی آرمی کی میڈیکل کور میں بطور بریگیڈیئر خدمات دیتے رہے، اللہ ان پر اپنا رحم فرمائے، وہ اس دار فانی سے کوچ فرما چکےہیں)، جبکہ انجینئرنگ یونیورسٹی کے طالبعلم علی رضا نقوی (رضا بھائی) مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے۔ یوں اس کاروان الہیٰ نے اپنا رخت سفر باندھا اور پھر حی علیٰ خیر العمل کی صدائوں میں آگے ہی بڑھتا رہا۔ حی علیٰ خیرالعمل کا سلوگن اس تنظیم کے چاند تارے والے مونوگرام کا حصہ ہے۔ جو اس کے بنیان گذاروں کی دور اندیشی اور ویژن کی نشاندہی کرتا ہے۔

 کہتے ہیں کہ جہاں جوان خون ہو، وہاں لڑائی و جھگڑے ہونا معمول بن جاتا ہے، ایسے میں والدین بہت محتاط ہوتے ہیں کہ ان کا بیٹا کسی غلط کمپنی یا ماحول کا شکار نہ ہو جائے۔ طلباء تنظیمیں بھی چونکہ ایسے لڑائی جھگڑوں کے باعث جانی پہچانی جاتی تھیں، لہذٰا والدین ہمیشہ اپنے بچوں کو یہ کہہ کر کالج میں داخل کرواتے تھے کہ کسی سٹوڈنٹس تنظیم کا حصہ نہ بننا۔ یہ ایک الگ مشکل ہوتی تھی طلباء کو اپنی جانب متوجہ کرکے ہم سفر بنانے میں۔ ادھر پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو ملک کے وزیراعظم بنے تو انہوں نے ٹریڈ یونینز، طلباء یونینز اور لیبر یونینز کو آزادی دی اور الیکشن بھی کروائے۔ آئی ایس او کے برادران نے بھی طلباء سیاست میں حصہ لیا اور اپنے وجود کا اظہار کیا۔ الیکشن میں حصہ لینے والے برادران کا تعلق اگرچہ اس تنظیم سے ہوتا تھا، مگر حکمت عملی کے تحت کسی دوسری تنظیم یا گروپ کے ساتھ مل کر حصہ لیا جاتا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو کی ان پالیسیوں سے ملک میں جمہوری قدروں کو فروغ ملا، بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا گیا تو عوام کے بنیادی حقوق بھی چھن گئے اور جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا ء کے ذریعے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کیلئے طلباء یونینز پر بھی پابندی لگا دی۔ اس کے گیارہ سالہ دور اقتدار میں طلباء یونینز پر تو پابندی لگی رہی، مگر طلباء سیاست تنظیموں کی شکل میں جاری رہی۔ مختلف کالجز اور یونیورسٹیز میں طلباء سیاست کے اثرات ہر دن دیکھے جا سکتے تھے، کبھی کہیں ہنگامہ، کبھی کہیں لڑائی و جھگڑا، کہیں ایک تنظیم کے کارکنان کے سر پھوڑے جا رہے ہوتے تو کسی دوسری جگہ اس تنظیم کو جواب دینے کے لئے اس کے حامیوں کو گولیوں، لاٹھیوں اور ڈنڈوں کا شکار کیا جاتا، نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ تعلیمی ادارے قتل گاہوں میں تبدیل ہو گئے۔ نجانے کتنے ہی مائوں کے لاڈلے جن کے سہانے مستقبل کے خواب والدین نے دیکھے تھے، اسی قتل و غارت اور قبضہ گروپنگ کی سیاست کی نظر ہوگئے۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان اور دیگر طلباء تنظیموں میں کیا فرق تھا کہ یہ تنظیم آج بھی اپنے وجود کیساتھ بھرپور انداز میں فعال کردار ادا کر رہی ہے اور اس کی کونسی خدمات کو ناقابل فراموش کہا جا سکتا ہے، اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ آئی ایس او پاکستان کی طویل جدوجہد میں بہت سے تاریخی موڑ آئے ہیں، اس تنظیم نے کئی ایک سنگ میل طے کئے ہیں۔ اس کی فہرست یقیناً طویل ہے، مگر چیدہ چیدہ خدمات، کارہائے نمایاں، قوم، ملک و ملت پر اس کے مثبت و دیرپا اثرات کو اگر انتہائی جامع اور مختصر ترین الفاظ میں بیان کیا جائے تو 22 مئی 1972ء کو اس کارروان امید انقلاب کا باقاعدہ قیام ہوگیا تھا اور اپنی تاسیس کے ساتھ ہی اس کے ذمہ داران نے اس کی وسعت، تنظیم سازی اور توسیع کیلئے کوششیں شروع کر دی تھیں، اس کاروان امید انقلاب سے قبل مختلف ناموں سے جو امامیہ نوجوان لاہور کے کالجز کی سظح پر کام کر رہے تھے، سب اس میں ضم ہو گئے تھے۔

اسے شیعہ طلباء کا پہلا ملک گیر پلیٹ فارم بنانے کا کام ایک چیلنج تھا، جس کو بہت تھوڑے عرصہ میں حاصل کیا گیا۔ اس سے پہلے قومی افق پر ہمارے قائدین "شیعہ مطالبات کمیٹی" کے نام سے ایک تحریک چلا رہے تھے، جن کے مطالبات محدود تھے اور ان کے پاس قوم کی ترقی و تعمیر اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کا کوئی واضح برنامہ، ہدف و پروگرام نہیں تھا۔ اس کاروان الہیٰ سے وابستہ نوجوانوں نے سابقہ تجربات کی روشنی میں یہ طے کیا تھا کہ اس تنظیم سے فارغ ہونے والے طلباء جو عملی زندگی میں قدم رکھیں گے، انہیں ایک لڑی میں پرویا جائے گا، ان سے روابط مستحکم رکھے جائیں گے، انہیں معاشرے کی آلودگیوں اور چکا چوند میں کھلا نہیں چھوڑا جائے گا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے پیش رفت کی اور 1974ء میں اس تنظیم سے فارغ التحصیل ہونے والے برادران کی کوششوں سے ہی سابقین کا ایک پلیٹ فارم امامیہ آرگنائزیشن پاکستان کے نام سے سامنے آگیا۔

پاکستان کے ہمسائے ملک ایران میں امام خمینی کی قیادت میں شہنشاہیت کیخلاف تحریک انقلاب زوروں پر تھی تو اس تنظیم کے باشعور اور بلند فکر دور اندیش نوجوانوں نے 1978ء میں انقلاب سے قبل انقلاب اسلامی کے قائد امام خمینیؒ کی حمایت میں لاہور کے مال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور رہبر انقلاب روح اللہ خمینی جو  فرانس میں جلا وطنی کی زندگی گذار رہے تھے، ان سے یکجہتی کا اظہار و حمایتی خط بھی ارسال کیا، جو اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ اس دور میں بھی جب ان نوجوانوں نے کسی سے بھی ولایت فقیہ کی گھٹی نہیں لی تھی، اس کاروان کا ہر فرد ولی فقیہ امام خمینی کی بلند معرفت رکھتا تھا۔ اس دور کے لوگ آج کے "پیروان ولایت" کے دعویداروں سے کہیں زیادہ آگاہ، پیرو اور تسلیم کہے جا سکتے ہیں۔ اس لئے کہ ان لوگوں نے انقلاب کو دیکھے بنا اس کی حمایت کی تھی اور اس کے ثمرات سے لطف اندوز ہونے کے شرف سے محروم تھے۔

آج کی طرح ان کے پاس وسائل بھی نہیں ہوتے تھے، ان کے پاس بسیجیوں جیسی آئیدیل فورس بھی نہیں تھی، جن کی مثال دیکر نوجوانوں کو متوجہ کیا جاتا، جو کچھ بھی تھے، یہ خود تھے اور ان کی سرپرستی کرنے والے گنتی کے چند علماء تھے، جو ان نوجوانوں کو دینی تربیت اور فکری غذا فراہم کرتے تھے۔ اس بات کا اعتراف کئے بنا آگے نہیں بڑھ سکتے کہ اسی کاروان نے یونیورسٹیز اور کالجز کے طالبعلم ہوتے ہوئے مجاہدانہ و عالمانہ کردار ادا کیا اور امام خمینی کی انقلابی سوچ و افکار کی تبلیغ کا بیڑا اٹھایا، جبکہ ان کی مخالفت کا دم بھرنے والے بہت سے اہل تشیع میں بھی موجود تھے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس طویل عرصہ میں اس تنظیم کی جدوجہد کی بدولت ہی یہ ممکن ہوا کہ دینی لباس عبا و عمامہ کو لوگوں نے تقدیس دی۔ انقلاب کی کرنوں نے جہاں بھی روشنی پھینکی، وہاں خزانوں کے کنویں نکل آئے، مگر یہ بات کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ اس انقلاب کو جب بھی دفاع کی ضرورت محسوس ہوئی تو اسی مخلص للٰہی نوجوانوں نے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا۔

طلباء تنظیم ہونے کے ناتے اس تنظیم نے ہمیشہ طالبعلموں کی تعلیمی، فکری، روحانی تربیت کا ساماں کرنے میں سخت کوششیں کی ہیں۔ تعلیمی حوالے سے اس تنظیم کی خدمات اور کارہائے نمایاں کو دیکھا جائے تو اس تنظیم نے ہر ڈویژنل مقام پر امتحان سے پہلے امتحان کا خوبصورت آئیڈیا دیا ہے، جس سے طالبعلم امتحانی پیٹرن پر فائنل امتحان سے پہلے ہی اپنی کارکردگی کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ اسی طرح لائق ذہین طالعلموں کو مالی پریشانی سے نجات دینے اور ان کے تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے تعلیمی وظائف کا سلسلہ بھی بے حد اہمیت کا حامل ہے، جس کے باعث آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایسی تنظیموں کو زمانے کی گرم ہوا کے تھپیڑے اور حالات کے جھکڑ نابود کرنے کی جتنی بھی کوششیں اور سازشیں کریں، ناکام ہی رہتے ہیں۔

کئی کالجز و یونیورسٹیز میں اس تنظیم کے کارکنان کو فقط محفل دعا برپا کرنے کے جرم میں یا ایام محرم میں یوم حسین ؑ کا پروگرام کروانے کے جرم میں سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ یہ بات طے ہے کہ اس کے کارکنان جو ایک نظم کے پابند ہوتے ہیں، ان کو کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ تشدد کے مقابلہ میں تشدد کی رہ اپنائیں۔ جس کے باعث کئی ایک تعلیمی اداروں کا ماحول اس کثافت و آلودگی سے بچ گیا ہے، جس کو کئی دیگر عناصر خراب کرکے اپنا الو سیدھا رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل فخر ہے کہ اس تنظیم کا تعلق طلباء تنظیموں کے اتحاد متحدہ طلباء محاذ سے بھی گہرا ہے، ماضی میں اس کی صدارت بھی اس کاروان کے پاس رہی ہے، اس محاذ میں آئی ایس او ایک فعال تنظیم کے طور پر موجود ہے۔ اسی محاذ کی بدولت یہ ممکن ہوا ہے کہ مختلف سطح پر ہونے والے باہمی جھگڑوں کو ختم کیا گیا اور کئی اہم ملکی و عالمی ایشوز پر مشترکہ موقف سامنے لایا جاتا ہے۔ بہت سے ملکی، قومی، اسلامی ایشوز پر اس پلیٹ فارم سے طلباء تنظیموں کے نمائندگان مشترک موقف سامنے لاتے ہیں اور اتحاد و وحدت اور باہمی احترام کا پیغام دیا جاتا ہے۔

اگرچہ موجودہ مضبوط پرائیویٹ تعلیمی نظام اور امتحانی درجہ بندی کے سسٹم کے باعث طلباء سیاست اور سرگرمیوں میں کافی کمی محسوس ہوتی ہے، مگر اس حوالے سے آئی ایس او یا کسی بھی دیگر نظریاتی طلباء تنظیم کے لئے یہ بات اس قدر پریشان کن نہیں ہے کہ طالبعلم ان کے پاس نہیں آرہے اور ان میں نئی کھیپ کا اضافہ نہیں ہو رہا۔ نظریاتی تنظیموں کے نظریات اگر جامد نہ ہوں تو یہ فرق نہیں پڑتا، آئی ایس او پاکستان ان عالمی اسلامی تحریکوں اور نہضتوں سے مربوط ہے، جنہیں امت مسلمہ کے نوجوان اپنے دل و دماغ میں بسائے ہوئے ہیں۔ یہ کاروان امید انقلاب اگرچہ کالجز و یونیورسٹیز کے طلبا ء پر مشتمل ہے، مگر شروع دن سے اس کے ذمہ داران کی سوچ میں وسعت اور عالمگیریت موجود رہی ہے، لہذا عالمی مسلم ایشوز پر اس تنظیم نے ہمیشہ اپنا جاندار موقف پیش کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 995160
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش