1
Sunday 19 Jun 2022 19:04

عشرہ کرامت

عشرہ کرامت
تحریر: مولانا سید حسن ظفر نقوی

اس مرتبہ مشہد مقدس میں عشرہ کرامت بہت ہی جوش و خروش سے منایا گیا۔ کورونا کی بندشوں سے آزادی کے بعد ایسا لگتا تھا جیسے سارا ایران شاہ خراسان کی بارگاہ میں حاضری لگانے کے لئے بے چین ہے۔ دراصل "عشرہ کرامت امام رضا علیہ السلام کے مولود مسعود کی مناسبت سے یکم ذیقعد سے گیارہ ذیقعد تک منایا جاتا ہے۔ اس دوران مشہد مقدس کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ میں چھ اور سات جون کی درمیانی شب مشہد پہنچا تھا۔ دوستوں نے پہلے سے قیام کا بندوبست کر رکھا تھا، ورنہ سینکڑوں ہوٹلز اور مسافر خانے ہونے کے باجود زائرین کی تعداد اتنی تھی کہ لوگوں کو قیام گاہوں کی تلاش میں بہت مشکل پیش آرہی تھی۔ ایرانیوں کو اتنا مسئلہ نہیں تھا، وہ تو اپنے خاندانوں کے ساتھ فٹ پاتھوں پر، باغوں میں، حرم کے صحنوں میں مزے سے ڈیرے ڈال دیتے ہیں اور زیارت بھی کرتے ہیں اور اس انداز زندگی کا لطف بھی اٹھاتے ہیں اور ان کا یہ انداز زندگی ساری دنیا کو پیغام بھی دے رہا ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کتنا محفوظ اور مطمئن سمجھتے ہیں۔

چالیس سال قبل جب میں پہلی بار مشہد مقدس میں آیا تھا، اس وقت تین یا چار صحن تھے، اہم ترین صحن انقلاب تھا جو باب شفا، آب شفا (صحن انقلاب کے وسط میں ایک پانی کی سبیل ہے، جس کا پانی لوگ شفا حاصل کرنے کی نیت سے پیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب) اور مقبرہ علامہ حر آملی کی وجہ سے بھی مشہور ہے لیکن اب تو ما شاء اللہ حرم مقدس کے چاروں طرف ایک درجن سے زیادہ اور بہت وسیع صحن بن چکے ہیں، جہاں ایک وقت میں تقریباً دس لاکھ افراد سما سکتے ہیں۔ کیونکہ میرے مشہد پہنچنے سے قبل ہی میرے آنے کی خبر پہنچ چکی تھی، لہذا دوستوں نے کچھ پروگرام پہلے سے ترتیب دے دیئے تھے۔ ہدایت چینل کو مشہد مقدس اور قم المقدسہ سے پروگرام نشر کرنے کا اجازہ حاصل ہے اور صحن انقلاب میں مقبرہ حر آملی کی بالائی منزل میں ایک چھوٹا اسٹوڈیو بھی حرم کی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کر دیا گیا ہے، جہاں سے عشرہ کرامت کے دوران ہر شب دو گھنٹے کے پروگرام براہ راست نشر کئے جا رہے تھے۔

ناچیز کے حصے میں آخری تین راتوں کے پروگرام لکھے گئے تھے۔ جسے میں نے اپنے لئے سعادت کے ساتھ ساتھ شاہ خراسان کی عیدی سمجھا۔ لفظاً سعادت کے استعمال کے ساتھ ہی بتاتا چلوں کہ مشہد میں ہدایت چینل کے پروڈیوسر اور میزبان بھی جناب علی سعادتی ہیں، جو نشریات کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے سخت محنت کرتے نظر آتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے دیگر ساتھی بھی پیش پیش ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان ایام میں موضوع گفتگو امام علی رضا علیہ السلام کی شخصیت ہی رہی۔ ایران کے وقت کے مطابق یہ نشریات رات کو ساڑھے باہ بجے سے اڑھائی بجے صبح تک نشر ہو رہی تھیں۔ ہمارا وقت ڈیڑھ بجے سے اڑھائی بجے تک تھا۔ جیسا کہ بتایا گیا کہ یہ اسٹوڈیو مقبرہ حر آملی کی بالائی منزل میں تھا۔ میزبان اور مہمان بالکنی میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ دونوں کے درمیان میں روضہ اقدس کا حسین اور نورانی گنبد اور اس کے ساتھ مینار ناقابل بیان پرکشش منظر پیش کرتا تھا۔ دو پروگرام یہاں سے نشر ہوئے۔

تیسرا پروگرام دس اور گیارہ ذیقعد کی شب میں فوراً بعد نماز مغربین تھا اور مرکزی پروگرام تھا اور اس میں شرکت کے لئے ہندو پاک بلکہ دیگر ممالک کے بھی اردو زبان و اردو شناس زائرین کو بھی مدعو کیا گیا تھا، اس لئے اس پروگرام کو باقاعدہ میلاد کی شکل دے دی گئی تھی۔ نوتعمیر شدہ وسیع و عریض صحن غدیر میں واقع رواق غدیر (رواق بڑے ہال کو کہتے ہیں) میں اس شاندار میلاد کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مغربین کی نماز کے بعد یہ ہال زائرین سے کھچا کھچ بھر چکا تھا۔ آقائے سعادتی بہترین انداز میں میزبانی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ناچیز نے میلاد سے خطاب کیا۔ حجۃ الاسلام مولانا امین شہیدی سمیت علماء اور طلاب کی کثیر تعداد بھی میلاد میں موجود تھی۔ مولانا امین شہیدی صاحب کو خطاب کرنا تھا لیکن طبیعت کی خرابی کے باعث وہ خطاب نہ کرسکے تو ناچیز کو یہ ذمہ داری ادا کرنا پڑی۔ بہرحال زائرین کے لئے بھی اور ہمارے لئے بھی یہ ایک تاریخی میلاد تھا اور عظیم سعادت کا حصول تھا۔ ہمیں کیونکہ فوراً ہی دوسرے پروگرام میں جانا تھا، لہذا خطاب کے بعد زائرین سے اجازت چاہی مگر میلاد جاری رہا اور پاک و ہند کے مشہور شعراء کرام اور منقبت خواں حضرات نذرانہ عقیدت پیش کرتے رہے۔

ایک بات اور کرنا بہت ضروری ہے۔ جیسا کے سب جانتے ہیں کہ پاک و ہند کے تعلقات میں ہمیشہ ہی حساسیت رہی ہے اور مسلسل سردی گرمی کا مظاہرہ بھی رہتا ہے، لیکن اہل بیتؑ کے چاہنے والوں پر اللہ کا فضل و کرم رہا ہے کہ مقامات مقدسہ کی زیارات ہمارے فاصلوں کو کم کر دیتی ہیں اور رنجشوں کی جگہ محبتیں پروان چڑھنے لگتی ہیں۔ خاص طور پر میں نے کربلا، نجف اور مشہد میں یہ مناظر بہت دیکھے ہیں۔ اس مرتبہ بھی الہٰ آباد بھارت سے آئے ہوئے مومنین کے ایک قافلے سے ملاقات ہوئی بلکہ مومنین کی زیارت کا شرف ملا۔ اس کاروان میں میرے ایک عزیز فرمان علی ایڈووکیٹ بھی تشریف لائے ہوئے تھے، وہی سبب بنے کہ ان مومنین باصفا سے ملاقات ہوئی۔ صحن انقلاب میں ان مخلص اور پاک مومنین سے خطاب کا بھی موقع ملا۔ یہ مشاہد مقدسہ مومنین کے لئے ایک ایسی نعمت ہیں کہ اس نعمت کے ملنے پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ دنیا ہمارے درمیان جتنی بھی دیواریں کھڑی کرنا چاہے، عشق اہل بیتؑ ہر دیوار کو ڈھا دیتا ہے اور عشق اہل بیتؑ کے پروانے دنیا کے ہر کونے سے اپنی شمع کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ شمع کہیں کربلا ہے، کہیں نجف ہے، کہیں کاظمین، کہیں سامراء، کہیں مشہد، کہیں قم، کہیں جنت البقیع اور کہیں جنت المعلیٰ ہے۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلاَّ الْبَلاَغُ
خبر کا کوڈ : 999888
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش